دنیا میں ہر لمحے کوئی نہ کوئی انہونا واقعہ ہوتا رہتا ہے اور اب وہ وقت چل رہا ہے کہ بطور پاکستانی یہاں تک کہ بطور انسان بھی ہم لاتعلق نہیں رہ سکتے یا ہمیں لاتعلق رہنے نہیں دیا جاتا اس لیے دنیا سے آگے نہیں تو دنیا کے ساتھ چلنا لازمی ہوجاتا ہے۔ گزرے سال ایک فتح نے پاکستان کو وہ کچھ دے دیا ہے جس کا قومیں صرف تصورکرسکتی ہیں۔اب ہمیں دنیا کے پاس نہیں جانا پڑرہا بلکہ دنیا ہمارے پاس آرہی ہے۔پاکستان نے دفاعی میدان میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے اب معاشی میدان میں بہت سا سفر طے کرنا ہے اور ہمارا یہ سفر دفاعی منزل سے ہی نکل رہا ہے ۔
دنیا نے گزشتہ تین دہائیوں سے یونی پولر سے ملٹی پولر کا مشکل سفر طے کیا تھا لیکن اب ایک بار پھرامریکی اقدامات سے لگنے لگاہے کہ واپسی کا سفر شروع ہوگیا ہے۔وینزویلا میں امریکی کارروائی اور اس کے ساتھ گرین لینڈ کا حصول اور پھر ایران کی صورتحال ۔بے شک ایران پر امریکا کبھی وینزویلا جیسا حملہ یا کارروائی کرنے کی ہمت نہیں کرے گا لیکن ایران کو مزید کمزور کرنے اور رجیم چینج کرنے میں باہر بیٹھ کر ا س سے جو ہوسکا وہ گریز نہیں کرے گا۔بھلے وینزویلا پاکستان سے بہت دور ہے لیکن ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔اور پھر یمن میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے ہم کب تک لاتعلق رہ سکتے ہیں ۔ایک مرتبہ ہم نے فریقین کو سمجھا دیا ہے اور وہ ووقتی طورپر سمجھ بھی گئے ہیں لیکن کب تک سمجھے رہیں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔اور پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس راستے پر کہ اس سے کسی بھی وقت کسی بھی طرح کی بے وقوفی اور جارحیت کی توقع کی جاسکتی ہے اس نے کل ہی کہا ہے کہ اس کی اپنی اخلاقیات اور حدودد ہیں وہ جس وقت جہاں چاہے گا حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے ایسے میں دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی متاثر ہوتارہے گا۔
ہمیں اپنے گھر میں بھلے مسائل کا سامنا ہو لیکن دنیا کے لیے ہمارے پاس بہت سے مسائل کا حل ہے۔ہم نے خطے میں ”نیٹ سٹیبلائزر“ کی پوزیشن سنبھال رکھی ہے ۔ہم نے بھارت کی طرح کبھی خود کو ”نیٹ سکیورٹی پروائیڈر“ نہیں کہا اس لیے دنیا کا اعتبار ہم پر بڑھ گیا ہے۔معرکہ حق کی برکات سے دنیا نے ہماری دفاعی صلاحتیں دیکھ بھی لیں اور پرکھ بھی لیں۔ہمارے دفاعی جنگی سازوسامان کی کھپت اتنی ہوگئی ہے کہ ہمیں آرڈر پورے کرنا مشکل ہوجائیں گے۔لیبیا سے چار ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے ۔اس وقت سب سے زیادہ مانگ پاکستان مارکہ اور معرکہ حق کے ہیرو ،روسی ایس فور 400کی بیٹریاں تباہ کرکے ہندوستان کے دفاعی سسٹم کو ناکارہ کرنے والے جے ایف 17تھنڈر کی ہے ۔اسی ہفتے پہلے بنگلہ دیش کے ایئر چیف پاکستان آئے اور جے ایف 17تھنڈر مانگ کر واپس گئے اس کے اگلے ہی دن پاکستان نے سعودی رائل ایئر فورس کے سربراہ کا استقبال کیا اور سعودی عرب کے بھی جے ایف سیون ٹین پر ہاتھ رکھنے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔اس سے بھی یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ پاکستان کا معاشی راستہ دفاعی راستے سے ہی نکل رہا ہے۔ جنگی اور دفاعی سازوسامان کی برآمدات بہت سا زرمبادلہ پاکستان لائیں گی۔
ہمارے خطے کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں جس کو بھی خطرہ محسوس ہوا اس نے ہماری طرف دیکھا ہے۔ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان کا کردار ،وزیراعظم کا فوری خود دوحا جانا اور پھر قطر کا پاکستان سے دفاعی تعاون طلب کرنا ہو یا پھر سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ بڑے پیمانے کا دفاعی معاہدہ ہو۔یہ اقدامات پاکستا ن کو دفاعی سے معاشی خود انحصاری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔پاکستان کی معیشت کو بیرونی قرضوں سے نکالنے کا ایک راستہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔پہلے متحدہ عرب امارات کو قرض کے بدلے فوجی فاو¿نڈیشن میں حصے دار بنانے کی بات ہوئی ہے اور اب سعودی عرب کے ایڈوانس سے پاکستان جے ایف سیون ٹین دے گا۔یہ دوبڑے قرضے اس طرح ادا ہونے جارہے ہیں۔اس کے بعد چین رہ جاتا ہے تو اس کا قرضہ فقط قرضہ نہیں طویل دورانیے کی معاشی پارٹنرشپ ہے۔چینی کمپنیا ں ان پیسوں کے بدلے پاکستان میں بیوپار کررہی ہیں اور یہ ایک مضبوط اور باہمی تعاون اور اعتماد کے رشتے میں گندھا ہوا ہے۔
اب اسی دفاعی سے معاشی تعاون کے لیے ایک اور بڑا راستہ نکلنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ نے ایک دھانسو خبر دی ہے کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہشمند ہے۔اس خبر اور ترکیہ کی خواہش نے مجھے دورتک دیکھنے کی کھڑکی فراہم کردی ہے۔ترکیہ کا اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونا کیا ہوسکتا ہے اس کا شاید ابھی دنیا اور پاکستانی تصور نہ کریں لیکن پاکستان بطور ریاست اس کا تصور کرچکا ہے کہ یہ کتنی بڑی کامیابی ہوسکتی ہے۔پاک سعودی معاہدے کے بعد عرب دنیا تو اس معاہدے کے حصار میں پہلے ہی آچکی ہے ۔گوکہ اعلانیہ نہیں لیکن جب وقت اور موقع آیا تو پورا عرب سعودی عرب کے ساتھ ہی کھڑا ہوگا۔ممکن ہے ا سوقت تک یمن کا محاذ سمٹ جائے ۔ابھی آج ہی کی ایک خبر ہے کہ سوڈان اورپاکستان میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے جنگی دفاعی سازوسامان کا معاہدہ طے پایا ہے اور یہ معاہدہ کرانے والا بھی سعودی عرب ہی ہے۔ سوچیں جب مسلم دنیا کے تین بڑے ملک ،ترکیہ ،سعودی عرب اور پاکستان ایک مضبوط دفاعی حصار میں آجائیں گے تو باقی اسلامی ممالک کیوں نہیں آنا چاہیں گے؟ اس کے بعد عرب دنیا پہل کرے گی اور پھر پیچھے انڈونیشیا، ملائشیااور بنگلہ دیش بھی اس کا حصہ بننے سے کیوں ہچکچائیں گے؟جبکہ سنٹرل ایشا کی ریاستیں پہلے ہی دفاعی لحاظ سے پاکستان کے ساتھ بہترین رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں ۔
ممکن ہے اس سٹیج پر میری یہ خوش فہمی ہی ہو کیونکہ دنیا ہر لمحے بدل رہی ہے ۔دنیا کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ ان سے نمٹنے کے راستے بھی بدل رہے ہیں۔معیشت دنیا کے مسائل ہیں لیکن ایک موقع ایسا آتا ہے کہ جب کسی ملک کو معیشت اور دفاع میں سے کسی ایک کو ترجیح دینی پڑے تو نیچرل ترجیح ہمیشہ ملک کا دفاع بن جاتا ہے کہ ملک رہے گا تو معیشت دوبارہ بن جائے گی ۔اس لیے میرے خیال میں ترکیہ کا اس دفاعی معاہدے میں آنا نیٹو کی طرز کے مسلم فوجی ،جنگی اتحاد کا پہلا قطرہ ہوسکتا ہے۔ابھی تین ملک ہیں ۔اگلے مرحلے میں عرب ممالک اس کا حصہ بن جائیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے توپھر اس اتحاد کو وسیع ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔گوکہ یہ ایک جان جوکھوں کا کام ہے کہ پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں یہ نیٹو سے بھی بڑا اتحاد بن سکتا ہے اور پاکستان کی مسلح افواج کی موجود گی میں موثر ہونے کی گارنٹی اس کے اندر ہی موجود ہوگی۔اس اتحاد کو چلانے اور بوقت ضرورت حرکت میں لانے کے لیے بہت سا سرمایہ درکار ہوگا ۔یہ سرمایہ امیر مسلمان ممالک فراہم کرکے مسلم دنیا کو بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح افغانستان جیسے بے سرو پا ممالک کو بھی تمیز میں رکھا جاسکے گا۔کیا یہ میں کچھ زیادہ سوچ رہا ہوں یا یہ سب حقیقت بننے جارہاہے؟۔