واشنگٹن / نئی دہلی: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے منظم تشدد پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
امریکی کمیشن کے مطابق انتہا پسند ہندوتوا نظریات کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اب ایک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ رپورٹ میں دو اہم واقعات کو بطور خاص اجاگر کیا گیا ہے۔ ریاست اتر پردیش میں 12 مسلمانوں کو محض اپنے گھر کے اندر نماز ادا کرنے پر گرفتار کر لیا گیا، جو مذہبی آزادی پر بدترین قدغن ہے۔
ریاست اوڑیسہ میں ایک مسیحی پادری کو انتہا پسندوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ رواں سال مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر حملوں میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔جبری الزامات اور ریاستی جبر: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکام "مذہب کی جبری تبدیلی" کے بے بنیاد الزامات لگا کر اقلیتوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رہے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب اقلیتیں اپنی نجی زندگیوں اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔