چوپال سجی ہوئی تھی۔ سب چپ سائیں کا انتظار کررہے تھے۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے ، سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ چپ سائیں بولے، واہ جی واہ ! آج تو بھائی رفیق اور بھائی خورشید دونوں چوپال میں آئے ہوئے، چپ سائیں کی بات سن کر دونوں مسکرائے۔دونوں نے کہا کہ سائیں جی آج کی ایک خبر کی وجہ سے لاہوریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس پر چپ سائیں نے پوچھا ، وہ کیا خبر ہے بھائیو!۔ اس پر بھائی خورشید نے کہا کہ سائیں جی پنجاب حکومت نے بسنت منانے کی ناصرف اجازت دے دی ہے بلکہ اس تہوار کی فروری میں تاریخ بھی سامنے آگئی ہے۔ اس پر سائیں جی کچھ بات کریں۔
چپ سائیں نے کہا کہ بھائیو !بسنت انڈو پاک کا وہ تہوار ہے جو سردی کے جانے اور بہار کی آمد کی اطلاع دیتا ہے۔اندرون شہر میں رہنے والے لاہوریے جانتے ہیں کہ یہاں لوگوں کے درمیان رشتہ داری اور دوستیاں بہت گہری اور مضبوط ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں کے باسیوں کے بارے میں زندہ دلان لاہور مشہور ہوا تھا،اسی وجہ سے یہ بھی کہاجاتا تھا کہ لاہوریے خوشی اور اکٹھے ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ کہاجارہا ہے کہ حکومت کا بسنت منانے کا فیصلہ ایک مثبت اور خوش آئندہے، اب آسمان پر دوبارہ رنگین پتنگیں ہوںگی اور بوکاٹا کاشور ہوگا۔بسنت پر مزید بات کرنے سے قبل بھائیو یہ کہوں گاکہ یہ لاہور جو گڑھ ہوتا تھا یہاں یہ کیوں بند ہوگئی؟، اس تہوار کی وجہ سے ڈور، گڈی الغرض ساری انڈسٹری ایک دم سے کیوں بیٹھ گئی؟۔
بھائیو!دراصل بات یہ ہے کہ یہ ڈور گڈی، خونی رنگ سے نہا گئی تھی۔ وہ ڈور جو کبھی صرف’’ سدی‘‘ تھی، اس پر صرف کچ اور رنگ کا کیمیکل ہوتا تھا۔ اس کی کاٹ صرف پتنگ تھی۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ رت بدلی اور وہ ڈور جو تیز ہونے کی وجہ سے صرف انگلیاں کاٹتی تھی، گھروں کے چراغ بچھانے لگ گئی یعنی ڈور نے آلہ قتل کی شکل اختیار کرلی۔اس کیمیکل ڈور نے گھروں کے گھر اجاڑ دیئے۔ اس جہ سے تفریح کا یہ تہوار پابندی کاشکار ہوتا گیا۔
دوستو!بہار کا موسم ہر سال زمین پر ایک نئی زندگی کا پیغام لاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سردیوں کی سختی کمزور پڑ جاتی ہے، ہوا میں خوشبو گھل جاتی ہے، اور ہر طرف سبزہ و گلوں کی بہار چھا جاتی ہے۔ یہی موسم انسان کے دل میں خوشی اور امید کی لہر دوڑاتا ہے۔ اس قدرتی خوشی کا جشن منانے کے لیے ہی بسنت کا تہوار وجود میں آیا۔بسنت، جسے کچھ علاقوں میں بسنت پالااڑنت بھی کہا جاتا ہے، بہار کی آمد کی خوشی منانے کا تہوار ہے۔ اس دن لوگ روایتی رنگین کپڑے پہنتے، خوشیوں کا اظہار کرتے اور خاص طور پر پتنگ بازی کرتے ہیں۔ پتنگیں آسمان میں اڑتی ہیں، جیسے انسان بھی اپنی خوشیوں کو آسمان تک پہنچا رہا ہو۔ یہ تہوار نہ صرف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے بلکہ قدرت کی خوبصورتی اور زندگی کی تازگی کی یاد دلاتا ہے۔
بسنت کا تعلق صرف کھیل اور تفریح تک محدود نہیںتھا۔ یہ تہوار تاریخی طور پر زرعی زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بہار کے موسم میں کھیتوں میں نئی فصلیں لگتی ہیں، اور کسان اپنے محنت کے ثمر کا جشن مناتے ہیں۔ اسی طرح عام لوگ بھی زندگی کی چھوٹی خوشیوں کو منانے کے لیے بسنت کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ماضی میں اس روز بازار، محلے اور کھلے میدان رنگین ہو جاتے تھے۔ لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزارتے ، خوشیوں کے کھانے کھاتے اور قدیم روایات کو یاد کرتے تھے۔ بسنت کا جشن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں خوشی چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوتی ہے، اور اسے منانا ہماری فطرت کا حصہ ہے۔
صاحبو! ا س بار سب سے اچھی بات یہ ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے بسنت کی تیاریاں شروع کرتے ہوئے پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے، فروخت کنندگان اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ضابطہ کار کے تحت ہر فرد اور ایسوسی ایشن کو مخصوص فارموں کے ذریعے رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹریشن کے لیے فارم ''اے'' لازمی ہے جبکہ رجسٹرڈ افراد کو سرکاری سرٹیفکیٹ فارم ''بی'' کے ساتھ جاری کیا جائے گا۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کے لیے فارم ''سی'' اور فارم ''ڈی'' مخصوص کیے گئے ہیں۔محکمہ داخلہ اور پنجاب حکومت کے مطابق لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت کے جشن کا اہتمام کیا جائے گا اور تمام انتظامات شیڈول ون کے مطابق سختی سے نافذ ہوں گے۔
چوپال کے دوستو!بسنت کی بحالی سے کپڑوں، لائٹس کا کاروبار بھی دوبارہ چمک سکتا ہے۔ کھانے پینے والوں، خاص طور پر ریڑھی والوں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک رات کی بسنت کئی دکانداروں اور ریڑھی والوں کے لیے مہینے بھر کا منافع لانے کا سبب بن سکتی ہے۔بسنت کے دوران نان بائیوں کی دکانوں کی سیل بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے کیونکہ بسنت میں قیمے والے نان ہاٹ فیورٹ سمجھے جاتے ہیں۔اس بار بھی حکومت نے ایک بڑے جشن کا اشارہ دیا ہے۔ بسنت کو ’’ثقافتی میل‘‘ کا درجہ مل چکا ہے۔ سیاحتی آمدنی، کاروبار، میڈیا کوریج، سب کچھ۔اصل خطرہ پتنگ نہیں ہے بلکہ کھیل ہی میں کھیل میں ہونے والے نقصان سے ہے۔حکومتی موقف ہے کہ اس بار سب کچھ ریگولیٹڈ ہوگا۔شرائط اور حفاظتی اقدامات میں موٹرسائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ اور ماسک ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم معاشرہ زیادہ تلخ ہوتا ہے۔ شاید بسنت کی واپسی لوگوں کو کچھ رنگ، کچھ تفریح واپس دے۔ مگر کھیل، کھیل رہنا چاہیے، کسی کا سوگ نہیں بننا چاہیے۔
دوستو!بسنت اور بہار ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جہاں بہار فطرت میں زندگی اور تازگی لاتی ہے، وہاں بسنت انسان کے دلوں میں خوشیوں، محبت اور امید کی روشنی بھرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں چھوٹے لمحات اور خوشیاں اہمیت رکھتے ہیں، اور ہمیں ہر موقع پر ان کی قدر کرنی چاہیے۔ بسنت صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ یہ فطرت، انسانیت، اور خوشیوں کے جشن کا ایک رنگین اور دلکش اظہار ہے۔ بہار زندگی کی تجدید اور خوشیوں کا موسم ہے، اور بسنت اس موسم کی رونق اور جشن کو لوگوں کے دلوں تک پہنچاتا ہے۔ ۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔