Wed, September 16, 2026

مریم نواز: مستقبل کی امید!

مریم نواز: مستقبل کی امید!

مریم نواز کے حالیہ انتظامی اقدامات نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے اثرات نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ برسوں سے یہ ملک انتظامی کمزوریوں، ادارہ جاتی انتشار اور حکومتی رٹ کی عدم موجودگی کا شکار رہا ہے۔ عام آدمی کو قانون سے وہ تحفظ کبھی حاصل نہیں ہوا جس کا وعدہ آئین اور ریاست کرتی ہے۔ گلی محلوں میں اوباشوں کی حکمرانی تھی، قبضہ گروپوں اور منشیات فروشوں کا نیٹ ورک تھا اور سرکاری زمین پر تجاوزات نے شہروں کے ڈھانچے کو مسخ کر رکھا تھا۔ مگر آج پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اپنی پوری طاقت اور اعتماد کے ساتھ کھڑی ہے اور ریاستی ادارے اس کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔ یہی وہ ہم آہنگی ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ اس ملک کی رکاوٹیں ہمیشہ عام آدمی کے لیے رہی ہیں۔  کاروبار کرنے والا، دکان چلانے والا، رکشا ڈرائیور، طالب علم، سبھی قانون کی غیر موجودگی یا اس کی یکطرفہ سختی کا رونا روتے رہے۔ لوگ اپنے حقوق کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے تھے مگر ان کی شنوائی نہ ہوتی۔
پنجاب میں گزشتہ چند ماہ کے دوران انتظامی کارکردگی کا وہ مظاہرہ سامنے آیا ہے جس کی مثال پچھلی کئی دہائیوں میں نظر نہیں آتی۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی صرف نمائشی نہیں بلکہ عملی ہے۔ وہ تمام جگہیں جہاں برسوں لوگوں نے قبضے جما رکھے تھے، وہاں اب بلڈوزر چل رہے ہیں، سرکاری زمینیں واپس لی جا رہی ہیں اور فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے خالی کرائے جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس عمل میں کسی بھی سیاسی یا ذاتی دباؤ کو بالکل خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔
پہلے کبھی طاقتور سیاسی سرپرست ان مافیا کے پیچھے ڈھال بن کر کھڑے ہوتے تھے، مگر اس بار طاقتور سے طاقتور شخص کو بھی کوئی رعایت نہیں مل رہی۔ غنڈہ گردی اور اوباش کلچر کے خلاف کریک ڈاؤن نے عوام کو برسوں بعد سکون کا سانس دیا ہے۔ گلی محلے کے وہ عناصر جو اپنی طاقت کے نشے میں مقامی آبادی کو تنگ کرتے تھے، جھگڑوں میں اپنی من مانی کرتے تھے اور اکثر قانون سے بالاتر سمجھے جاتے تھے، اب اس طرح سر اٹھا کر نہیں چل رہے۔ درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں ایسے گروہ ٹوٹ چکے ہیں جن کے پیچھے مختلف سطحوں پر سیاسی پشت پناہی ہوتی تھی۔ عوام حیرت میں ہیں کہ ریاست سے ٹکر لینے والے یہ عناصر اتنی تیزی سے کیسے بے اثر ہو گئے۔ جواب سادہ ہے۔ ’’مریم نواز کے اندر میاں نواز شریف کی جھلک واضح ہونے لگی ہے۔‘‘ اس خاندان میں پہلے ’’شہباز سپیڈ‘‘ کی مثالیں دی جاتی تھیں، اب مریم نواز کی رفتار اور نتائج نے بیرون ملک بیٹھے پاکستانیوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ دور جب عمران خان کے اردگرد مسلط ٹولہ، بشریٰ بیگم، کرپٹ حلقہ اور ناتجربہ کار مشیروں نے ہر ممکن موقع ضائع کیا، ایک تلخ یاد کے سوا کچھ نہیں۔ عثمان بزدار اور گوگی اس ناکامی کی بدترین علامت تھے۔
منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی شاید موجودہ دور کا سب سے بڑا اور نتیجہ خیز قدم ہے۔ پنجاب میں خاص طور پر تعلیمی اداروں کے آس پاس منشیات کی دستیابی نے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ کئی حکومتوں نے اسے روکنے کا دعویٰ کیا مگر عملی اقدامات کبھی نظر نہ آئے۔ اس بار صورتِ حال مختلف ہے۔ بڑے گروہ پکڑے جا رہے ہیں، سمگلنگ کی راہ داریاں بند کی جا رہی ہیں، نوجوانوں کو محفوظ بنانے کے لیے سکولوں اور کالجوں میں خصوصی مہمات شروع ہو چکی ہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن کے اثرات برسوں تک محسوس ہوں گے۔ والدین پہلی بار محسوس کر رہے ہیں کہ حکومت ان کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ اب حکومت کا اگلا ہدف ملاوٹ مافیا ہے۔ وہ زہر جو کھانے پینے کی ہر شے میں شامل ہو چکا تھا۔ دودھ میں کیمیکل، گھی میں ناقص چکنائی، دوائوں میں ملاوٹ، مصالحوں میں رنگ۔ یہ سب صرف بیماری نہیں بلکہ قومی اخلاقیات کے بگاڑ کی علامت بن چکا تھا۔ اس کے خلاف جاری مہم منظم ہے۔ لیبارٹریوں کو جدید ترین مشینری دی جا رہی ہے، فوڈ اتھارٹی کو مکمل اختیار دیا جا رہا ہے اور اس پورے عمل کو عسکری تعاون حاصل ہے تاکہ کوئی سیاسی مداخلت اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کی کارکردگی کا چرچا صرف پنجاب تک محدود نہیں رہا۔ کے پی، سندھ اور بیرون ملک پاکستانی بھی اس انتظامی تبدیلی کی تعریف کر رہے ہیں۔ جیسے گھر میں اچھا کھانا پکے تو اس کی خوشبو محلے بھر کو متوجہ کرتی ہے، ایسے ہی پنجاب سے اٹھنے والی یہ خوشبو پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔ جس ملک کے لوگ برسوں سے مایوس تھے، وہاں امید نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ علاقائی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر انتظامی کارکردگی دلوں کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے اور یہی آج ہو رہا ہے۔ریاستی اداروں اور حکومت کے درمیان موجودہ ہم آہنگی نے پاکستان میں استحکام کی ایک نئی بنیاد رکھی ہے۔ برسوں تک ہمیں اداروں کے درمیان سرد مہری، بدگمانی اور طاقت کے ٹکرائو کا سامنا رہا۔ اسی کشمکش نے نظام کو کمزور رکھا اور فیصلوں میں تاخیر پیدا کی۔ اب پہلی بار ایسا لگتا ہے کہ ریاست اپنی پوری قوت کے ساتھ ایک سمت میں چل رہی ہے۔ یہ اتفاق محض وقتی نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ملک کو درپیش چیلنجز اتنے شدید ہیں کہ ایک متحد نظام کے بغیر ان کا حل ممکن ہی نہیں۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کو ایک نئی منزل کی طرف لے جا رہی ہے۔
مریم نواز جس انداز میں گورننس، فیصلہ سازی، رفتار اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کر رہی ہیں، وہ مستقبل کی قیادت کے بارے میں ایک واضح اشارہ ہے۔ ان کا اندازِ حکومت جذباتی نہیں بلکہ عملی ہے۔ وہ منصوبہ بندی کرتی ہیں، ٹیم بناتی ہیں، نتائج چاہتی ہیں اور عملدرآمد پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ عوام کو فوری ریلیف مل رہا ہے، شہر بدل رہے ہیں، ادارے متحرک ہو رہے ہیں اور سب سے اہم بات، لوگ پہلی بار محسوس کر رہے ہیں کہ حکومت واقعی کام کر رہی ہے۔
اگر مستقبل کی قیادت کا معیار یہ ہے کہ کون ملک کو استحکام، نظم اور ترقی دے سکتا ہے، کون ریاستی رٹ بحال کر سکتا ہے، کون عوام کے روزمرہ مسائل کو سمجھتا اور حل کرتا ہے، تو مریم نواز ان تمام نکات پر پورا اترتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک صوبے کو بدل رہی ہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھ رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ انہیں آنے والے وقت کی وزیر اعظم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ پنجاب کا جی ٹی روڈ صاف کیا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ اگلا قدم اس طرف اٹھے گا۔

ٹیگز: