اگرچہ آذربائیجان میں پاکستانی سفیر قاسم محی الدین صاحب نے مجھے نصیحت کی تھی کہ میں یہاں سیاسی گفتگو سے گریز کروں۔تاہم تجسس کے ہاتھوں مجبور، میں ملنے والوں سے وہاں کی سیاست کا احوال معلوم کرتی اور ان کی رائے لیتی رہی۔پتہ یہ چلا کہ وہاں بھی سیاسی تقسیم موجود ہے۔ کرپشن کے قصے کہانیاں عام ہیں۔میری بہت سے پڑھے لکھے نوجوانوں سے بات ہوئی جو اپنے ملک سے خوش نہیں تھے۔ کچھ لوگ اپنے صدر سے خوش تھے اور کچھ ناخوش۔ نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کے ملک میں امیر اور غریب کی تفریق بہت زیادہ ہے۔ امیر بہت امیر ہیں۔ وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرتے ہیں۔ بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کے بنک دولت سے اٹے پڑے ہیں۔ جبکہ غریب طبقہ نہایت مشکل سے زندگی گزار رہا ہے ۔ آرمینیا سے جنگ جیتنے کے بعد آذربائیجانی فوج اور حکمرانوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم وہاں کا نوجوان سوچتا ہے کہ ہمارے حکمران عوام کو سہولیات تو دے رہے ہیں مگر اس سے عام آدمی کی زندگی میں اتنا فرق نہیں پڑا جتنا کہ پڑنا چاہیے۔بہرحال یہ سب باتیں میں اپنے محدود مشاہد ے کی روشنی میں لکھ رہی ہوں۔
ایک دلچسپ واقعہ سنیے۔ایک دن مجھے کرنسی ایکس چینج کیلئے بنک جانا تھا۔ پوچھتے پچھاتے جب میں کیپیٹل بنک پہنچی اور بنک کی سیڑھی اترنے لگی تو باہر کھڑے ایک صاحب کہنے لگے کہ بنک میں بجلی نہیں ہے۔ میں نے پوچھا کہ بجلی کب تک آئے گی؟ کہنے لگے ، پتہ نہیں میں نے کہا کہ یہاں کوئی جنریٹر نہیں ہے ؟ ۔ اس نے کہا کہ نہیں، بنک میں مکمل اندھیرا ہے۔ بہرحال میں واپس پلٹ گئی۔ واپس ہوٹل جا رہی تھی تو دیکھا کہ بڑی سی گاڑی چلاتی ایک خاتون ، جس نے اپنی انگلیوں میں سگریٹ دبا رکھا تھا، ون وے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اس کی وجہ سے ساری ٹریفک بلاک تھی اور لوگ دھڑا دھڑ ہارن بجا رہے تھے۔ بنک اور سڑک کی صورتحال دیکھ کر مجھے اپنے ملک کی یاد آگئی۔
آذر بائیجان کے دارلحکومت باکو کا یہ دورہ اچھا رہا۔ گھومتے پھرتے، کھاتے پیتے، ملتے ملاتے، وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ہوٹل چھوڑتے وقت دل اداس تھا۔سفارت خانے کے آفیسر عمر صاحب کی مہربانی کہ انہوں نے میرے ائیرپورٹ پہنچنے کا بندوبست کر دیا تھا۔ وقت مقررہ پر گاڑی آئی۔ میں نے ایک الوداعی نگاہ ہوٹل پر ڈالی اور ائیر پورٹ کیلئے روانہ ہو گئی۔ اپنی عادت کے مطابق میں نے دعا کی، کہ اللہ پاک مجھے بار بار یہاں آنا نصیب فرما۔ عام طور پر لوگ یہ دعا حج یا عمرہ کے دوران کرتے ہیں۔ تاہم میرا معمول ہے کہ میں ہر اچھی جگہ پر یہ دعا کرتی ہوں۔ اس ضمن میں کچھ قرآنی آیات میں نے یاد کر رکھی ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ اللہ پاک مجھے واقعتا دوبارہ انہی جگہوں پر لے جاتا ہے۔
آپ کسی دوسرے ملک کا سفر کریں ، تو ا صول یہ ہے کہ سامان کم سے کم رکھیں ۔ اس طرح آپ کو ائیر پورٹ پر اضافی وزن کی فیس نہیں بھرنا پڑتی۔ ہینڈ کیری کا وزن کم ہونے سے آپ ہوائی اڈوں پر بھاری بھرکم سامان ڈھونے یا گھسیٹنے کی زحمت سے بھی بچ جاتے ہیں۔ تاہم دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت کے مصداق، میرے سامان کا وزن احتیاط سے شاپنگ کرنے کے باوجود کافی زیادہ ہو گیا تھا۔ سفارت خانے کے عملے نے بتایا تھا کہ ائیر پورٹ پر اضافی وزن کی رعایت ملنا تقریبا نا ممکن ہے۔تاہم اللہ کا شکر کہ امیگریشن کاونٹر پر خیریت رہی۔ اور میں پندرہ کلو اضافی وزن کے باوجود کسی پوچھ گچھ کے بغیر وہاں سے نکل آئی۔
سامان جمع کرانے کے بعد میں امیگریشن کاونٹر کے سامنے قطار میں کھڑی تھی کہ ایک خاتون کھڑی دکھائی دیں۔ یہ ممبر پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین تھیں۔ راحیلہ خادم مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ برسوں سے سیاست میں متحرک ہیں اور اپنی پارٹی قیادت کے کافی قریب ہیں۔ راحیلہ خادم کافی خوش لباس خاتون ہیں۔ کچھ سیاسی محفلوں میں میں نے خواتین کو راحیلہ خادم حسین کے لباس کا ذکر کرتے سن رکھا ہے۔میری اپنی عادت یہ ہے کہ لباس وغیرہ کیلئے کچھ زیادہ تردد نہیں کرتی۔ منہ اٹھا کر کہیں بھی چلی جاتی ہوں۔ خاص طور پر سفر کے دوران میرا حلیہ بالکل عام سا ہوتا ہے۔ راحیلہ خادم ائیر پورٹ پر بھی اپنے معمول کے مطابق عمدگی سے تیار تھیں۔ ان سے سلام دعا ہوئی۔ ان کے ساتھ ان کے میاں بھی تھے۔ وہ کہنے لگیں کہ میں کافی دن سے باکو میں موجود ہوں۔ پہلے معلوم ہوتا تو ہم اکٹھے گھوم پھر لیتے۔ ہم نے ادھر ادھر کی باتیں کیں۔ باکو کے بارے میں اپنے مشاہدات اور خیالات کا تبادلہ کیا۔ پتہ چلا کہ ہماری فلائیٹ ایک ہی ہے۔ کچھ دیر بعد راحیلہ خادم تو ڈیوٹی فری شاپنگ کیلئے چل پڑیں اور میں اپنے گیٹ کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔
پی۔ آئی۔ اے کے طیارے میں داخل ہوئی تو اس کی خستہ حالی ایک مرتبہ پھر سامنے تھی۔میری سیٹ آخر میں تھی۔ یونیفارم میں ایک آفیسر جہاز کے آخری دروازے میں کھڑا مسافروں کو بغور دیکھ رہا تھا۔ میں اپنی سیٹ پر بیٹھی تو یہ صاحب کہنے لگے کہ اپنا بورڈنگ کارڈ دکھائیے، آپ کی سیٹ یہی ہے؟ میں نے سوچا بھلا میں کوئی بچی ہوں جسے سیٹ نمبر پڑھنا نہیں آتا۔ کارڈ دینے کے بجائے ، میں نے جواب دیا کہ جی، یہی سیٹ ہے۔ چند سکینڈ کے بعد یہ صاحب بولے آپ پنجاب یونیورسٹی کے فلاں ڈیپارٹمنٹ کے فلاں سال کے بیچ سے ہیں۔ میں نے ایک لمحے کیلئے بغور دیکھا اور پہچان گئی۔ یہ میرا کلاس فیلو حفیظ تھا۔ مجھے یاد ہے ایم۔اے کے بعد حفیظ کو پی۔آئی۔اے میں سٹیورڈ کی نوکری مل گئی تھی۔ اب وہ بطور سینئر پرسر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہا ہے۔ ہم کم و بیش 21 برس کے بعد مل رہے تھے۔ جہاز کی آخری سیٹیں بالکل خالی تھیں۔ ٹیک آف کے بعد حفیظ برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پھر ہم گھنٹوں یونیورسٹی کے زمانے کو یاد کرتے رہے۔ہم نے اپنے کلاس فیلوز کا ذکر کیا۔ کون کیا کر رہا ہے، کس کی شادی کس سے ہو گئی۔ کس سے کس کا رابطہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے اپنے اپنے پیشہ ورانہ سفر پر بات کی کہ کس طرح آہستہ آہستہ ہم یہاں تک آن پہنچے ہیں۔ اللہ نے ہم پر کس قدر احسان کیا۔ کیا کیا کامیابیاں عطا کیں۔ہم نے اپنی گھریلو زندگی اور بچوں کی باتیں کیں۔ اور نجانے کیا کیا۔ حفیظ سیٹ سے اٹھ کر جاتا۔ پھر دوبارہ آکر بیٹھ جاتا۔لاہور پہنچنے تک یہی ہوتا رہا۔ کھانے کا وقت ہوا تو ایک ائیر ہوسٹس کھانے کے چار ڈبے میرے سامنے رکھ گئی۔ میں نے کہا، یہ کیا ہے؟ کیا پی۔ آئی۔ اے نے بوفے شروع کر دیا ہے؟ عقب میں کھڑے حفیظ نے کہا، سب ٹیسٹ کریں۔ چائے کا وقت ہوا تو ائیر ہوسٹس نے مجھے چائے نہیں دی۔ کہنے لگی کہ آپ کے لئے سپیشل چائے آ رہی ہے۔کڑک چائے آئی اور ساتھ نگیٹ بھی ۔ جہاز میں راحیلہ خادم اور ان کے میاں بھی موجود تھے۔ میں نے حفیظ کا تعارف کرایا۔ میں اور حفیظ ان کی سیٹ کے پاس کھڑے طویل گپ شپ کرتے رہے۔ ان کے میاں نے آذربائیجان کے کاروباری پوٹنشل پر بات کی۔ ہماری گفتگو میں اگلی سیٹوں پر بیٹھے کچھ اور مسافر بھی شامل ہو گئے۔ ہم کافی دیر جہاز کے بیچوں بیچ کھڑے ایسے باتیں کرتے رہے جیسے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں کھڑے ہوں۔
سچ یہ ہے کہ حفیظ سے مل کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ وہ ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ پھر ہم نے اپنے ان لائق فائق کلاس فیلوز کو یاد کیا جو ہم سے کہیں زیادہ ذہین اور محنتی تھے۔ لیکن زندگی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ میں سوچتی رہی کہ کتنی محنت اور جدوجہد سے ایک آدمی کامیاب ہوتا ہے ۔ لوگ اس کی کامیابی کو رشک اور زیادہ تر حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ کم ہی لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی کس محنت اور مشقت کے بعد اس مقام پر پہنچا ہے۔ پتہ یہ چلا کہ یہ فلائٹ ایک خاتون پائلٹ اڑا رہی تھیں۔ ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ کو پائلٹ راحیلہ خادم کے شناسا تھے۔ پائلٹ خاتون سے مل کر بہت اچھا لگا ۔عمومی طور پر بیرون ملک سفر درپیش ہو تو میں سفر سے ایک رات پہلے جاگتی رہتی ہوں ۔ تاکہ فلائٹ میں بے خبر ہو کر سو جاوں۔ اس طرح میں سفر کی طوالت اور بوریت سے بچ جاتی ہوں ۔ یہ میری زندگی کا پہلا سفر تھا جب میں فلائٹ میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوئی۔ حفیظ اور راحیلہ صاحبہ کی وجہ سے یہ سفر نہایت اچھا گزرا۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی۔ آئی۔ اے کی بے آرام سیٹوں اور بے ذائقہ کھانوں کی طرف میرا دھیان ہی نہیں گیا۔
اس عمدہ سفر میں مجھے پی۔ آئی۔ اے کا برسوں پرانا سلوگن یاد آگیا۔۔Great people to fly with
میرا یہ سفر واقعتا پی۔آئی۔ اے کے تاریخی سلوگن کا عکاس تھا۔