Wed, September 16, 2026

حبسِ حیات میں رمقِ شِفا(2)

حبسِ حیات میں رمقِ شِفا(2)

دینِ اسلام قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے پر زور دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’تمہارے قیدی تمہارے بھائی ہیں، ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو‘۔ قیدی بھی بنی آدم کا حصہ ہیں ان کی صحت کا خیال رکھنا محض انسانی فریضہ ہے بلکہ دینی ذمہ داری بھی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے سب سے کمزور اور پس منظر میں دھکیل دئیے گئے افراد کے ساتھ برتائو سے ہوتی ہے۔ قید خانہ بھی انہیں مقامات میں شامل ہے جہاں زندگی کے وہ چہرے بستے ہیں جن پر معاشرتی لغزشوں کے داغ ہیں اور جنہوں نے کسی نا کسی طور پر قانون کی لکیر پار کی ہے۔ جسم کی حرارت، دل کی دھڑکن اور ذہن کی سکونت کسی مخصوص طبقے کی ملکیت نہیں، ان پر نہ جرم اثرانداز ہوتا ہے، نا سزا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نفس کی تطہیر اور انانیت کی تحلیل ممکن ہوتی ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ قیدی کو صحت، دوا، طہارت اور ذہنی سکون کی بنیادی انسانی سہولتیں دی جائیں۔ ماضی میں جیلوں کا تصور محض سلاخوں، سخت پہرے اور خوفناک ماحول تک محدود تھا وہاں نا توامید کا چراغ جلتا تھا، نہ اصلاح کا کوئی سامان موجودتھا۔ مگر وقت کا پہیہ جب بدلتا ہے تو سوچ کا زاویہ بھی نیا رخ اختیار کرتا ہے اور آج پنجاب کی جیلوں میں وہی تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے جو سزا کے تصور کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ آج یہاں قیدیوں کو فراہم کیا جانے والا کھانا محض بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اس میں صحت اور غذائیت کا بھی خیال رکھا جانے لگا ہے۔ روزانہ کا مینیو اس طرح ترتیب دیا جانے لگا ہے کہ اس میں پروٹین، سبزیاں اور ضروری غذائی اجزاء شامل ہوں۔ اسی طرح صاف پانی تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کی اہمیت تب سمجھ آتی ہے جب یہ میسر نا ہو۔ اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہاں جدید فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں۔ صاف، ٹھنڈا شفاف اور محفوظ پانی اب قیدیوں کے لیے روزمرہ کا معمول ہے۔ اس مثبت تبدیلی نے جیل کے اندر صحت کے مجموعی معیار کو مزید بہتر بنا دیا ہے۔ جیل کے ہسپتالوں میں تربیت یافتہ ڈاکٹر، ضروری ادویات، معمول کے چیک اپ، ایمرجنسی کیئر اور حتیٰ کے ماہرِ نفسیات کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور یہ تمام سہولیات محض وقتی یا نمائشی اقدام نہیں بلکہ ایک مستقل سوچ کا حصہ اور اس بات کا مظہر ہیں کہ قید کی سزا کا مطلب صحت سے محرومی نہیں بلکہ بحالی اور بہتری کا موقع ہے۔ یہاں ڈرگ ہسپتال قائم کیے جا چکے ہیں جہاں منشیات کے عادی قیدیوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تا کہ وہ رہائی کے بعد معاشرے میں صحت مند اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی آگاہی مہمات کا اہتما م بھی کیا جاتا ہے جن میں سماجی کارکن اور ماہرِ نفسیات قیدیوں کو صحت، صفائی اور مثبت طرزِ زندگی کے اصول سمجھاتے ہیں۔ یہ صرف صحت کا نہیں انسانی dignity کا مقدمہ ہے جو اب عدالت سے جیل اور جیل سے دل تک پہنچ رہا ہے۔ محض مجرمانہ سزا کا ظاہری ظہور نہیں بلکہ ایک باطنی استعجاب ہے جہاں انسان فقط زنجیروں میں نہیں جکڑا جاتا بلکہ اس کی معنویت، خودی، تقدیر بھی تالا بند ہو جاتی ہے۔ جیل وہ مقام نہیں جہاں صرف بدن محبوس ہو بلکہ وہ ایک تہذیبی شکست، ایک اجتماعی فکر ی ندامت اور ریاستی شعور کے تعطل کا مظہر ہوتی ہے۔ قیدیوں کی جسمانی فلاح صرف جسمانی شفا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقیات کی آبیاری ہے۔ ہر قید دیواروں سے نہیں ہوتی بعض زنجیریں انسان کے اندر پیوست ہوتی ہیں جنہیں نا تو عدالت سن پاتی ہے اور نا ہی سماج پہچان پاتا ہے۔ یہ اس لمحے جنم لیتی ہے جب نہ ماضی کی گواہی باقی رہے، نہ مستقبل کی امید اور انسان خود کو خالی محسوس کرنے لگے۔ ایسے مقام پر اگر شفا، صفائی، دوا اور آگہی کی کوئی کرن ظہور پذیر ہو تو وہ فقط طبی مداخلت نہیں رہتی بلکہ باطن کی تطہیر کا ایک سفر بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں جدید اصلاحی نظام اس بات پر متفق ہے کہ قید کا مقصد صرف جسم کو روکنا نہیں بلکہ ذہن اور 
سوچ کو درست سمت دینا ہے۔ قیدی کا جرم اور اس کی سزا صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ ان کا اثر خاندان اور معاشرے تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس کی اصلاح بھی ایک فرد سے نکل کرزندگیاں بدل سکتی ہے۔ قید کا دروازہ کھلنے پر صرف ایک شخص باہر نہیں آتا، اس کے ساتھ ایک سوچ، ایک رویہ اور ایک نیا پیغام بھی باہر آتا ہے۔ قفس میں جلتا چراغ صرف قیدی کا راستہ نہیں روشن کرتا بلکہ پوری بستی کو منور کرتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج کا قیدی کل کا شہری ہے اگر ہم اس کے ساتھ صرف سزا کا رویہ رکھیں گے تو وہ معاشرے میں واپس آ کر وہی رویہ لوٹائے گا لیکن اگر ہم اسے عزت، تربیت اور امید دیں گے تو وہ ہمیں امن، بھلائی اور تعاون لوٹائے گا یعنی یہ سرمایہ کاری صرف قیدی پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر ہے۔ وہ مقام جو عموماً زنجیر، پژمردگی،آہوں، محرومیوں اور قنوطیت کی علامت ہو اگر وہاں شفا کا نور ضوفگن ہو اور مجروح جسم کو دستِ شِفا نصیب ہو تو وہی اسیرِ تقدیر شخص خود کو صاحبِ نصیب گردانتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اصلاحِ نظام کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ا نسانی تمدن کی سب سے مہلک تعبیر وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان، انسان کے ہاتھوں، انسان ہونے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ ریاست اگر محض قوتِ نافذہ کی اکائی ہو تو وہ انسان کو نظم و ضبط کے ذریعے جکڑ سکتی ہے مگر اسکی روح کو شفا نہیں بخش سکتی۔ ریاست کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں قانون کی گرفت میں آیا ہوا فرد زندگی کی نازک ڈور پر لرزرہا ہو۔ جیل ریاست کی سب سے پُراسرار اور مہذب دعوئوں کی سب سے آزمودہ گلی ہے اور صحت اس گلی میں جلنے والا چراغ جو یہ طے کرتا ہے کہ آیا ریاست محض قاہر ہے یا ناصر بھی ہے۔ یقیناً ابھی بہت کچھ بہتر ہونا باقی ہے، مگر یہ انکار بھی ممکن نہیں کہ پنجاب کی جیلوں میں کھانے، پانی اور صحت کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ اقدامات نا صرف قیدیوں کی جسمانی فلاح کے ضامن ہیں بلکہ ان کے ذہنی اور اخلاقی رویوں پر بھی مثبت اثر ڈال رہے ہیں۔ اگر یہ اقدامات تسلسل سے جاری رہیں تو آنے والے برسوں میں پنجاب کی جیلوں کا تصور مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ یہ وہ جگہیں ہو سکتی ہیں جہاں لوگ صرف سزا کاٹنے نہیں بلکہ زندگی جینے کے اصول سیکھنے آئیں۔ جہاں کھانا جسم کو طاقت دے، پانی روح کو شفافیت دے اور صحت کی تمام سہولتیں دل میں امید کو جگائیں۔

ٹیگز: