Wed, September 16, 2026

ٹرمپ معدنیات کی تلاش میں!

ٹرمپ معدنیات کی تلاش میں!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت سے ایسے ممالک میں امن معاہدے کرا رہے ہیں جو قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ امریکا کو اپنی معیشت مستحکم رکھنے، آئی ٹی اور اے آئی میں اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے ایسی دھاتوں کی ضرورت ہے جو بہت سے ایسے ممالک میں پائی جاتی ہیں جو اس وقت جنگ اور تنازعات کا شکار ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ خود کو پیس میکر کے طور پر پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ بہت بڑے ڈیل میکر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ کی ’’امریکہ فرسٹ‘‘ خارجہ پالیسی بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔ امریکا نے ماضی میں اپنے مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے افغانستان سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کا امن تباہ کیا۔ عراق، شام، لیبیا اور افغانستان جیسے ممالک کی نہ صرف معیشت کو تباہ کیا بلکہ لاکھوں زندگیاں لقمہ اجل بنیں۔ اپنے پہلے دور اقتدار میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر افغانستان کی قیمتی معدنیات پر تھی جسے وہ مغربی کمپنیوں کی مدد سے نکالنا چاہتے تھے۔ 2010 میں لگائے گئے تخمینہ کے مطابق افغانستان میں 1 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی ذخائر ہیں۔ دہائیوں سے افغانستان میں تشدد، بدعنوانی اور ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے وہاں کان کنی کا عمل انتہائی مشکل رہا ہے۔ امریکا اپنے اس پلان میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکا کہ وہ افغانستان میں موجود قیمتی معدنیات کو لوٹ کر امریکی معیشت کو مزید مستحکم کر سکے۔ 9/11 کے بعد جب افغانستان پر جنگ مسلط کی گئی تو طالبان نے امریکہ کے خلاف بھرپور بیانیہ بنایا کہ امریکا صرف اور صرف افغانستان کی معدنی دولت لوٹنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ طالبان کے خدشات سے آگاہ تھا۔ کوئی بڑا قدم اٹھانے کی بجائے ٹرمپ نے اس وقت کے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے معدنی ذخائر بارے بات کی تھی۔ اب کی بار ٹرمپ کا سٹائل ذرا ہٹ کر ہے۔ اب امریکی صدر خدشات اور ہچکچاہٹ کا شکار نہیں بلکہ دو ٹوک الفاظ میں پیس معاہدوں کے بدلے معدنیات کے ذخائر کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یوکرین روس جنگ بندی میں ٹرمپ یوکرین سے معدنیات کی دولت سے مالا مال علاقے تک رسائی مانگ رہا ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ابتدا میں مزاحمت کی جس سے دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور زیلنسکی کو ذلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں یوکرین کو یہ معاہدہ کرنا پڑا۔ دنیا کے اہم خام مال کا تقریباً پانچ فیصد یوکرین کے پاس موجود ہے۔ ان معدنیات میں تقریباً 1.9 کروڑ ٹن گریفائٹ اور ٹائٹینیم شامل ہے۔ یوکرین یورپ میں لیتھیئم کے ایک تہائی ذخائر کا بھی مالک ہے جو جدید بیٹریوں کی تیاری میں بنیادی جزو ہے۔ دیگر اہم عناصر میں بیریلیم، یورینیم، تانبے، سیسہ، زنک، چاندی، نکل، کوبالٹ اور مینگنیز کے بھی نمایاں ذخائر موجود ہیں۔ تاہم، ان میں سے تقریباً 350 ارب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر روس کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ یوکرین کے ساتھ معدنیات کی ڈیل کے بعد ٹرمپ جمہوری ریپبلک کانگو اور اس 
کے ہمسایہ ملک روانڈا کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگو افریقہ کے دل میں واقع اور معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ اس پیس ڈیل کے پیچھے بھی امریکا کا مفاد کار فرما ہے۔ ورلڈ پیس فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ایلکس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ’’امن سازی‘‘ کے ایک نئے ماڈل کو فروغ دے رہی ہے، جس میں تجارتی ڈیل میکنگ کے ساتھ مقبولیت اور کارکردگی کو ملایا جا رہا ہے۔ مطلب ٹرمپ کا مقصد معدنیات کا حصول اور اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھانا ہے۔ امریکا کانگو میں امن کے قیام کے بعد وہاں کی معدنیات کو نکالنا چاہتا ہے مگر چین پہلے سے ہی بہت ساری معدنیات کے ذخائر کو حاصل کر چکا ہے۔ 30 سالہ بدامنی کے باعث کانگو معدنیات پر اپنی خودمختاری پر سمجھوتا کر کے خطرہ مول لے رہا ہے۔ جبکہ برکینا فاسو میں ابراھیم ترورے نے فرانسیسی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیئے ہیں۔ افریقی ممالک میں معدنیات، سونے اور ہیرے کے ذخائر پر مغربی طاقتوں کا قبضہ ہے۔ ٹرمپ کا مشن ہے امن کے بدلے معدنیات۔ حالیہ اندازہ کے مطابق کانگو میں صرف معدنیات کے ذخائر کی مالیت 23 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان معدنیات میں کوبالٹ، کاپر، لیتھیم، مینگنیج اور ٹینٹلم شامل ہیں۔ یہ دھاتیں کمپیوٹر، الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فونز، ونڈ ٹربائنز اور ملٹری ہارڈویئر میں استعمال ہونے والے الیکٹرانک پرزے بنانے کے لیے اہم ہیں۔ ٹرمپ نے 27 جون کو واشنگٹن میں روانڈا اور کانگو کی حکومتوں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے پہلے انکشاف کیا کہ وہ امریکا کے لئے کانگو سے بہت سارے معدنی حقوق حاصل کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگو امن کی کیا قیمت چکانا ہے۔ سکیورٹی معاہدے کے بدلے امریکی کمپنیاں آنے والی کتنی دہائیوں تک کانگو کی قیمتی معدنیات لوٹیں گی۔ اب مملکت خدا داد کی صورتحال پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں جسے اللہ نے معدنیات کی دولت سے بھرپور نوازا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار امریکا کی چونچ گیلری کر کے آئے ہیں جس میں معدنیات کی ڈیل بھی شامل ہے۔ ان سب غریب مگر قدرتی وسائل سے بھرپور ممالک میں ایک مشترکہ چیز سامنے آئی ہے کہ ان ممالک نے ٹرمپ کی ہمدردیاں بٹورنے کے لئے ٹیکس دہندگان کا پیسہ بے دردی سے امریکی لابنگ فرمز پر اڑایا ہے۔ دی گارڈین اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ سے منسلک لابنگ فرمز کو دنیا کے غریب ترین ممالک نے لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کیں۔ صومالیہ، ڈی آر کانگو اور یمن جیسی ریاستیں مالی یا دفاعی امداد کیلئے امریکی شرائط پر معاہدوں پر دستخط کرنے اور اپنی معدنیات کا سودا کرنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ برس امریکی انتخابات کے چھ ماہ کے اندر اندر ٹرمپ سے منسلک فرموں کے ساتھ ترقی پذزیر ممالک جو سب سے زیادہ یو ایس ایڈ وصول کی نے 17 ملین ڈالر کے معاہدے کیے، ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ دنیا میں فری لنچ کہیں نہیں ملتا۔ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے کی اہم معدنیات اور جیوگرافک اور جیو پولیٹیکل مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ کانگو جیسے ملک نے ٹرمپ کو رام کرنے کیلئے لابیسٹ فرم بالارڈ پارٹنرز کے ساتھ 1.2 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ صومالیہ نے 5 لاکھ پچاس ہزار جبکہ یمن نے 3 لاکھ 72 ہزار ڈالر کے معاہدے کیے۔ پاکستان جیسے غریب ملک کے امیر حکمرانوں نے ٹرمپ سے منسلک لابنگ فرمز کو 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر ماہانہ ادا کرنے کا معاہدہ کیا۔ ان لابنگ فرمز کے ذریعے پاکستان نے ٹرمپ کے اندرونی حلقوں تک رسائی حاصل کی۔ جہاں تک امریکی صدر کی بات ہے وہ تو نایاب قیمتی معدنیات تک رسائی چاہتا ہے جبکہ زیادہ تر معدنیات پر چین کا غلبہ ہے۔ اپنے ملک کے فائدے کے لئے وہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار لنچ آفر کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کوئی دوست نہیں یہ غلط فہمی ٹرمپ نے دوسرا دور اقتدار سنبھالتے ہی دور کر دی۔ لہٰذا پاکستان کے ساتھ بھی ٹرمپ کا بظاہر نرم رویہ مفادات کی وجہ سے ہے۔ ’’امریکا فرسٹ‘‘ اور ’’گریٹ امریکا‘‘ یہ ہیں ٹرمپ کی ترجیحات۔ پاکستانی اشرافیہ کی جانب سے امریکی حمایت کے بدلے بندرگاہیں، فوجی اڈے اور نادر معدنیات تک خصوصی رسائی کی پیشکش باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ حکومت امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات اور تجارتی معاہدے کی خوشخبری سنا رہی ہے تاہم عوام کو کھل کر کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ امریکا کے ساتھ کیا تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں اور ان معاہدوں کے خدو خال کیا ہیں۔ فی الحال پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے کارڈز درست کھیلے ہیں۔ ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملائی، جی حضوری میں ابھی تک کمی نہیں آنے دی۔ پاک بھارت جنگ میں ثالثی کے کردار کو خوب سراہا اور صدر ٹرمپ کو نوبل پیس پرائز کیلئے نامزد بھی کیا۔ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے حکمرانوں کے پاس دینے کو بہت کچھ ہے مگر اپنے عوام کی بہتری کیلئے ان کے پاس کچھ نہیں۔ ہمارے کاپر اور سونے کے ذخائر اپنے لوگوں کی حالت زار تو نہیں بدل سکے مگر امریکی معیشت ضرور مستفید ہو گی۔ ملکی تیل کے ذخائر سے نہ جانے کب تیل نکلے گا مگر ہم نے امریکا سے مہنگا تیل برآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور امریکا میں یوکرین جیسی معدنیات کی ڈیل ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات پریشان کن ہے ابھی تک صحافتی حلقے بھی یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ ہم نے امریکا کو ایسی کیا بڑی پیشکش کی ہے کہ ٹرمپ ہم پر صدقے واری جا رہا ہے۔ فقط اتنا معلوم ہے کہ ہر طرف پاکستان اور امریکا کے مابین بڑی تجارتی ڈیل کے شادیانے بج رہے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ عنقریب دودھ و شہد کی نہریں بہتی نظر آئیں گی۔ ہمارا ماضی اگرچہ ان حوالوں سے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں۔ یہی دھڑکا ہے کہ اس ڈیل میں بھی ہم کہیں وطن عزیز کا کوئی ایسا نقصان کرنے تو نہیں جا رہے جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے۔

ٹیگز: