دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے جب بھی اپنے پسندیدہ شعبہ زندگی میں مستقبل بنانے کے لیے قدم رکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس شعبے میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کریں گے، 98 فیصد افراد نے روزگار کمانے معاشی خوشحالی اور خود انحصاری سے زیادہ کچھ نہیں سوچا۔ بعض افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ادارے میں پہلی سیڑھی پر قدم رکھا پھر وہ اپنی لگن محنت اور سازگار حالات کا سبب اس ادارے کے سربراہ بن گئے۔ میدان سیاست میں مستقبل بنانے کا ارادہ کرنے والا ایک شخص ایسا ہے جس نے اپنی سیاست کے آغاز میں ہی ارادہ کیا کہ وہ امریکہ کا صدر بنے گا، اس حوالے سے نوجوانی کے زمانے میں اس کی لکھی گئی ایک کتاب آج بھی دستیاب ہے جس میں وہ اپنے خواب کا ذکر کرتا ہے، یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے جس نے 1987 میں اپنی ایک کتاب میں لکھا کہ جب وہ امریکہ کا صدر بنے گا تو اس کی تقدیر بدل دے گا۔ اس کی کتاب کا نام ہے ’’آرٹ آف دی ڈیل‘‘ ہمارے کلچر اور معاشرتی زبان میں اس کا ترجمہ ہے ’’مُک مکا کا فن‘‘۔ اس فن کے کئی بادشاہ آج ہمارے سامنے ہیں۔ پاکستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کے درجنوں ماہرین موجود ہیں جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ کتاب تو یقینا نہیں پڑھی لیکن وہ اپنے گھر کے بزرگوں کی تربیت کے سبب اس فن کے ماہر بن گئے۔ 1987 میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے لیکن میدان سیاست میں آنا اور صدر امریکہ بننا ان کا خواب تھا، بس صرف یہ ایک حوالہ ہے جس میں وہ مستقل مزاج نظر آئے، زیادہ سے زیادہ دوسرا شعبہ عورتوں اور بازاری عورتوں کا ہے جس میں ان کی سرگرمیاں کچھ غیر معمولی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ 25 برس بعد امریکہ کا صدر بنے گا ایسا تو نہ ہو سکا وہ 35 برس بعد امریکہ کا صدر بنا لیکن یہ بہرحال اس کی بڑی کامیابی ہے۔ اس کی کامیابی میں اس کی فلاسفی ہر قدم پر مُک مکا کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ کہتا تھا میں جنگیں ختم کر دوں گا، نشئیوں سے ملک کو صاف کر دوں گا، وہ نوجوان نسل کو بھونڈی سے منع کرتا تھا لیکن خود رج کے یہ کام کرتا تھا، اس نے اس حوالے سے بھی خوب نام کمایا، اس نے عریاں رسالوں میں برہنہ ماڈلنگ کرنے والی ایک عورت سے بیاہ بھی رچایا، یہ امریکی اخلاقیات ہیں جس کے اور بھی سیکڑوں پہلو ہیں۔ دوسرے دور صدارت میں ٹرمپ جنگیں ختم نہیں کرا سکا اس نے اقتدار سنبھالتے ہی دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف اٹیک کر دیا جس میں اسے بڑی کامیابی نہیں ملی وہ بعض ممالک پر 100 فیصد سے لے کر 300 فیصد ٹیرف لگانے کی بات کرتا تھا جوابی حملے ہوئے تو 25 سے 30 فیصد پر آ گیا وہ بہت جلد وہاں آ جائے گا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے، جتھے دی کھوتی اوتھے ان کھلوتی۔ عرصہ دراز تک امریکی حقے کی چلمیں بھرنے والا بھارت نریندر مودی کی قیادت میں آج امریکہ کے سامنے دم پر کھڑا ہو گیا ہے مجھے اس کی یہ ادا بہت پسند آئی ہے، ممکن ہے اس کا امریکہ کو دیا چیلنج وقتی ثابت ہو لیکن مجھے خوشی ہے کہ کوئی تو ہے جو آج اسے ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے باقی دنیا تو اس کے سامنے لیٹ گئی ہے اور ترکیہ کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ مودی کی اکڑ کے پیچھے چین کا اعتماد ہے جس نے اسے یقین دلایا کہ چینی بلاک اسے تنہا نہیں چھوڑے گا اور امریکہ و یورپ کا مقابلہ کرنے میں اس کا بھرپور ساتھ دے گا۔ بھارت آج وہ ہیروئن ہے جس سے وقت کے دو بڑے ہیرو امریکہ اور چین نکاح کرنا چاہتے ہیں جبکہ سائیڈ ہیرو روس ہے جس کی خواہش ہے کہ بھارت اس کے دوست اور حلیف چین کے عقد میں آ جائے۔ بھارت ایشیا کی بڑی آبادی اور بڑی اکانومی کا ملک ہے یہی دونوں میں چیزیں اس کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کی معیشت اور کرنسی قدرے مضبوط ہے وہاں امریکہ اور یورپ کی نسبت لیبر سستی ہے لہٰذا بڑے ملک وہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں دوسری بڑی کشش سستی بجلی اور حکومتی پالیسیاں ہیں جو راتوں رات یا ہر گھنٹے بعد تبدیل نہیں ہو جاتیں، نہ ہی وہاں مرزا یار کی پسند نا
پسند سے حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں۔ مرزا یار آج تک بذات خود اقتدار میں نہیں آیا، نہ ہی وہ پُتلی تماشے پر یقین رکھتا ہے۔ بھارت اور بھارتی جنتا امریکہ سے ناراض ہیں اس پر امریکی کیمپ سے نکل جانے کا دباؤ ہے جبکہ وہاں کا کاروباری طبقہ امریکہ کے ساتھ رہنے کا خواہشمند ہے وہ اپنی منفعت امریکہ کے ساتھ کاروبار میں دیکھتا ہے۔ نریندر مودی بحیثیت انسان کوئی صاحب کردار نہیں، نہ ہی وہ بہادر اور اصولوں پر کھڑا ہونے والا شخص ہے لیکن اس وقت ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے اور قدم قدم پر اسے جھوٹا قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ اپنی مسلز پاور کے سبب دنیا میں ہر ملک اور ہر لیڈر کو اپنے سے کمتر ثابت کرنا چاہتا ہے۔ بھارت اور امریکہ کی لڑائی میں اس رویے کا بہت دخل ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ چین کا دورہ کر کے بھارتی وزیراعظم کے دورے کی راہ ہموار کر آئے ہیں۔ ان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی چینی یاترا کر کے انتظامات دیکھ آئے ہیں۔ نریندر مودی کا دورہ روس اور دورہ چین بے حد اہمیت کا حامل ہے، مودی اگر ایک مرتبہ پھر امریکہ کو پیارا ہو جاتا ہے تو اس کی پاکستان سے شکست کے بعد مٹی میں ملی ساکھ زیر زمین چلی جائے گی بلکہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔ اگر وہ چین کے کیمپ میں آ جاتا ہے تو اس سے ایشیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔ امریکہ کو یہاں سے ہمیشہ کے لیے دیس نکالا مل سکتا ہے۔ امریکی آکٹوپس سے آزادی کے بعد بھارت کے چائنہ بلاک میں آنے آنے کے بعد پاک بھارت پاک کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے جبکہ امریکہ کو، بھارت، روس، چین، پاکستان، ایران، بنگلہ دیش، ترکیہ اور کسی حد تک مڈل ایسٹ کی چار ارب آبادی کی مارکیٹ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ بھارت کے چینی بلاک میں آنے کے بعد برکس زیادہ مؤثر ہو جائے گا، ڈالر کی کمر ٹوٹ جائے گی، امریکہ کی معیشت زمین بوس ہو جائے گی اور دھماکہ خیزتبدیلی یہ ہو گی کہ چین، روس، پاکستان اور بھارت چار نیوکلیئر پاور ایک بلاک میں اکٹھی ہو جائیں گی جبکہ ابھرتی ہوئی نئی نیوکلیئر طاقتیں کوریا اور ایران بھی اسی بلاک میں ہوں گی۔ امریکہ بھارت کو چینی بلاک میں جانے نہیں دے گا، اس کی پاؤں پڑ جائے گا یا مودی کو قتل کرا دے گا۔ یہ فیصلہ بھی وہ جلد کرے گا دنیا کی نظر مودی کے فیصلے پر ہے۔