Wed, September 16, 2026

اعظم سواتی کا حلفیہ بیان 

 اعظم سواتی کا حلفیہ بیان 

گذشتہ ہفتے تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے قران پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دیا کہ انھیں بانی پی ٹی آئی نے 2022میں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کا کہا تھا اور انھوں نے اس کے لئے کوشش بھی کی لیکن دوسری طرف سے دروازے نہیں کھل سکے ۔ سواتی صاحب کے اس بیان کی سینٹر علی ظفر نے بھی تائید کی ہے یعنی نہ ماننے یا مٹی پاﺅ والی کوئی بات نہیں چلے گی ۔ ایک بیانیہ جو مسلسل تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے بنایا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیانیہ پر بانی پی ٹی آئی کے فین کلب کے ارکان آنکھیں بند کر کے یقین بھی کر لیتے ہیں کہ ” اگر عمران خان چاہیں تو ایک لمحہ سے پہلے جیل سے باہر آ جائیں لیکن وہ ڈیل نہیں کرنا چاہتے“ ۔ چند ماہ پہلے بیرسٹر گوہر کی ایک ملاقات سر راہ آرمی چیف سے اس وقت ہوئی کہ جب پشاور میں سکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کے بعد انھیں راہ داری میں روک لیا گیا تو وہ اخلاقاً رک گئے کیونکہ ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا بھی تھے لیکن وہ چند منٹ کی دعا سلام تھی اس سے آگے بات نہیں ہو سکی لیکن اس چند منٹ کی ملاقات کے حوالے سے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے جس طرح ڈھول پیٹے تھے تو اس سے بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر اس چند منٹ کی ملاقات پر خوشی کا یہ عالم ہے تو اگر تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان باقاعدہ بیک ڈور چینل سے مذاکرات ہو رہے ہوتے تو پھر کس طرح شادیانے بجائے جانے تھے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ عید سے پہلے تو ایک شدید قسم کے ہم خیال اینکر اور یو ٹیوبر نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی بڑی ہائی پروفائل شخصیات کا ایک بڑا اہم اجلاس ہوا کہ جس میں عمران خان سے ڈیل کے نکات پر بات ہوئی ۔ اس کے علاوہ عید کے بعد علی امین گنڈا پور نے جیل میں جب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی تو انھیں بھی سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی کوشش کریں ۔ ایک طرف پی ٹی آئی کے اپنے پلیٹ فارم سے ایک سے زائد حوالوں سے اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہے کہ انھوں نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی کوشش کی لیکن انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ پھر وہ کون سی اسٹیبلشمنٹ ہے کہ جو بانی پی ٹی آئی سے ڈیل کرنے کے لئے مری جا رہی ہے بلکہ جس حد تک اس بات کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تو اس سے تو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بانی پی ٹی آئی سے مری نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے کاغان ناران جا رہی ہے اور اس کے لئے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنا حد درجہ مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
ایک جانب لاکھ کوشش کے باوجود بھی مذاکرات بلکہ درست یہ ہو گا کہ کسی ڈیل یا ڈھیل کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے دروازے نہیں کھل رہے اور دوسری جانب پارٹی کے اندر حالات یہ ہے کہ محترم قائدین ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور میڈیا کے سامنے بات ” تو تو میں میں “ تک پہنچ چکی ہے اور پھر یہ اختلافات اور پارٹی میں جو گروپ بندی ہے یہ کسی ایک آدھ رہنما کے درمیان نہیں ہے بلکہ ” جہڑا پنو او ای لال اے “ ۔ سلمان اکرم راجہ بیرسٹر گوہر کے خلاف بات کر رہے ہیں ۔ جنید اکبر علی امین گنڈا پور کے خلاف ہیں ۔ سواتی صاحب سپیکر بابر سلیم سواتی کے خلاف ہیں اور علی امین گنڈا پور اسد قیصر کے خلاف کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں ۔پارٹی کے اندر سے تیمور سلیم جھگڑا پر اربوں روپے کرپشن کے الزامات ہیں۔ ہم گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل اپنی تحریروں میںکہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف میں زبردست اختلافات ہیں ان کی نوعیت کیا ہے اور ان کے کیا نتائج نکلیں گے اس کا اندازہ تو عید کے فوری بعد بننے والے گرینڈ الائنس سے بھی ہو گیا ہو گا کہ جس کا ابھی تک کوئی نام و نشان نہیں ہے اور پھر اس گرینڈ الائنس کے بینر تلے کہ جس نام نہاد حکومت مخالف بڑی تحریک نے چلنا تھا وہ بھی چلنے سے پہلے ہی دل توڑ چکی ہے لیکن ہمارے کچھ دوست خاص طور پر جو تحریک انصاف کے دوست ہیں انھیں یقین نہیں تھا اور ہم خیال صحافیوں اور یو ٹیوبرز نے حقیقت حال جاننے کے باوجود بھی کہ اختلافات شدید سے شدید تر ہوتے جا رہے ہیں اس بات پر بڑے پردے ڈالے لیکن اب تو بات سب کے سامنے کھل چکی ہے ۔
اس حوالے سے ایک اور بات بھی بڑی اہم ہے کہ وہ جو تحریک انصاف میں عید کے بعد فارورڈ بلاک کی باتیں ہو رہی تھیں تو جس دن جیل سے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا حکم آ گیا تو اس دن فارورڈ بلاک نہیں بلکہ فاوروڈ بلاکس کا جمعہ بازار لگ جائے گا اس لئے کہ فارورڈ بلاک تو وہ ٹیڑھی انگلیاں تھیں کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بحالت مجبوری جن سے گھی نکال کر نمبر پورے کرنا تھے۔ ان اختلافات کا نقد نتیجہ تو یہ ہے کہ وہ جو عید کے بعد گرینڈ الائنس بننا تھا اور حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک چلنا تھی تو ان دونوں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے اس لئے کہ جب تک آپ کا اپنا گھر درست حالت میں نہیں ہو گا آپ کسی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا حکومت اس پر بانی کی رہائی کے لئے کوئی دباﺅ نہیں ہے اور ملک میں سکون ہے اور معیشت بھی بہتری کی طرف جا رہی ہے تو نہ کوئی ڈیل نہ ڈھیل اور نہ کوئی نزدیک نزدیک رہائی کے امکانات ہیں لہٰذا سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا۔

ٹیگز: