Wed, September 16, 2026

قہقہوں کا شہزادہ مستانہ، آج بھی دلوں میں زندہ ہے

قہقہوں کا شہزادہ مستانہ، آج بھی دلوں میں زندہ ہے

لاہور:جب بھی تھیٹر پر ہنسی کا طوفان آتا ہے، تو یاد آتا ہے وہ فنکار جو سٹیج پر آتا تھا اور ہر چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا تھا ، وہ تھا  مستانہ۔ آج ان کے بچھڑنے کو 14 برس ہو گئے، مگر ان کا فن، ان کا انداز اور ان کی باتیں آج بھی زندہ ہیں۔

مستانہ، جنہیں دنیا مرتضیٰ حسن کے نام سے کم اور ان کے سٹیج نام سے زیادہ جانتی ہے، گوجرانوالہ کی مٹی سے اٹھ کر تھیٹر کی دنیا کے آسمان پر چمکنے والا تارا بنے۔ ان کا ایک جملہ، ایک ادا، پورے مجمعے کو ہنسا دیتی تھی۔

ان کے فن کا کمال یہ تھا کہ لوگ ان کے ڈراموں کو بار بار دیکھنا چاہتے تھے۔ "لاری اڈا" ہو یا "کوٹھا"، "شب دیگ" ہو یا "چن مکھناں"، ہر کردار میں وہ ایسا رنگ بھرتے کہ حقیقت لگنے لگتا۔

11 اپریل 2011ء کو وہ دنیائے فانی سے رخصت ہوئے، لیکن ان کے مکالمے، قہقہے اور یادیں  زندہ ہیں۔ مستانہ صرف ایک اداکار ہی نہیں، ایک عہد کا نام ہے،

ٹیگز: