تباہی ناقابل بیان، وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں اور ہزاروں گھر تباہ، اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور سیلاب کی نذر ہونے کا صدمہ عمر بھر نا جا سکے گا۔ بچ جانے والوں کے چہروں اور آنکھوں سے انکی بے بسی اور خستہ حالی جھلکتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف صوبہ پنجاب میں 30 لاکھ سے زائد افراد حالیہ سیلابوں سے متاثر ہو کر بے گھر ہو چکے ہیں۔ سرکار کے پاس تو اتنی بھی اہلیت نہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں متاثرہ لوگوں کو تین وقت کا کھانا ہی فراہم کر سکے۔ ایسے میں انکی املاک، فصلوں اور مویشیوں کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سیلابی علاقوں میں پانی کھڑا رہنے سے بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ اگلے روز پنجاب کی ایک صوبائی وزیر اس امر کا رونا رو رہی تھیں کہ قدرتی آفات، سیلابوں اور بارشوں پر کسی کا کنٹرول نہیں۔ یہ بات تو درست ہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہیں کہ پاکستان کے سرکاری نظام کی غیر فعالیت، اس میں وسیع پیمانے پر موجود کرپشن اور نااہلیت کا شکوہ کس سے کریں۔ مانا کہ بھارت اس وقت اپنی خباثت میں تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ وہ پانی کو ہتھیار بنا کر پاکستان کیخلاف اسے آبی جارحیت کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاہم اس ’’جارحیت‘‘ کا کیا کریں جس کا ارتکاب ہمارے ارباب اختیار نے اپنی ہی قوم کے ساتھ کیا ہے۔ دریائے راوی، ستلج اور دریائے جہلم مقبوضہ کشمیر سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پورے صوبہ پنجاب اور پھر سندھ سے گزرنے کے بعد سمندر میں گر جاتے ہیں تاہم 77 سال گزرنے کے باوجود ان پر کوئی بھی ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پانی کو جمع کرنے کے لیے کوئی اور منصوبہ یا حل تلاش کیا گیا۔ ڈیمز تو دور کی بات، دریاؤں کے کناروں کو بھی مضبوط نہ کیا گیا حالانکہ نہ صرف قومی بجٹ بلکہ ہر سال اربوں کھربوں روپے کے ملک و غیر ملکی قرض پر ہر آنے والی حکومت اور 2 فیصد حکمران اشرافیہ نے خوب ہاتھ صاف کیا۔ فلیش فلڈز نے ریاستی سسٹم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ حکومتی دعوے اپنی جگہ پر، حقائق تو یہ ہیں کہ حکومت کے پاس تو اس امر کی اہلیت بھی نہیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں کھڑا پانی ہی نکال سکے۔ سب کچھ قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہاں اگر حکومت مشینری نے اگر کچھ کیا ہے تو وہ ہے جگہ جگہ دریائوں کے بند توڑنا ہے جس نے سیلابی پانی کو وسیع علاقوںمیں پھیلا کر تباہی کو مزید بڑھایا ہے۔
اس بات کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی جانب سے ممکنہ طور پر ایک بڑی ہجرت کا امکان پیدا ہو گیا ہے یہ ہجرت کسی دوسرے ملک نہیں بلکہ پاکستان کے اندر ہی بڑے شہروں کی جانب ہو سکتی ہے جس کے باعث شہروں پر آبادی کا ایک نیا دباؤ آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں کی صورت حال کیا ہو گی جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث بے شمار مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر کچھ کیا ہوتا تو تباہی کے وہ مناظر نہ نظر آتے جو آج سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پنجاب میں برائے نام ریسکیو آپریشن اور اس پر طرہ یہ کہ بیوروکریسی اور ارباب اختیار کا سفاکانہ رویہ جسکا اظہار وہ ایک آٹے کا تھیلا یا گھی کا پیکٹ دیکر سیلفیاں بنا کر کرتے ہیں یقینا ہر باشعور پاکستانی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ایسے میں بھلا ہو مسلم لیگی رہنما سعد رفیق کا جنہوں نے خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرین کو چیکوں کی تقسیم کے وقت کیمرے بند کرا دئیے۔ پنجاب اور سندھ کی انتظامیہ کو بھی ایسے دردناک ماحول میں ذاتی تشہیر سے باز رہ کر کم از کم خواجہ سعد رفیق کی ہی کی تقلید کر لینی چاہیے۔ ایسے میں اطلاعات ہیں کہ بھارت نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے وزارت آبی وسائل کو دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے سے متعلق آگاہ کیا جس کے بعد وزارت آبی وسائل نے فلڈ الرٹ جاری کر دیا۔ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو گا جب کہ دریائے ستلج میں اس وقت ہریکے ڈاؤن سٹریم اور فیروزپور ڈاؤن سٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ جہاں تک پی ڈی ایم اے پنجاب کا تعلق ہے تو وہ اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی ایک وارننگ جاری کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ پی ڈی ایم اے نے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا کہا ہے تاہم یہ حفاظت کون یقینی بنائے گا، ہنوز ایک حل طلب سوال کی مانند ہے۔ دوسری جانب دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور اب تک ضلع پاکپتن کے سیلاب زدہ علاقوں سے 24974 افراد کا انخلا کیا گیا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق سیلاب سے 23 مزید گاؤں مکمل ڈوب گئے ہیں۔ ایسے میں اس خبر نے بھی ہر کسی کو انگشت بدنداں کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ اعداد و شمارکے مطابق وفاقی حکومت کا قرض مالی سال 2025 میں 13 فیصد بڑھا ہے۔ وفاقی حکومت کا قرض جون 2025 تک 77 ہزار 888 ارب روپے رہا جو جون 2024 میں 68 ہزار 914 ارب روپے تھا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا مقامی قرض 15.5 فیصد بڑھ کر 54 ہزار 471 ارب اور بیرونی قرض 7.6 فیصد بڑھ کر 23 ہزار 417 ارب روپے ہو گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قرضے آخر کون کھا رہا ہے اور یہ کس کی جیب میں جا رہے ہیں؟۔