قارئین آپ کو یاد ہے کہ جب میاں نواز شریف کو دس سال قید اور تا حیات نا اہل قرار دیا گیا تھا اور بعد میں جب انھیں علالت کی وجہ سے لندن شفٹ ہونا پڑا ، اس وقت اور بعد میں جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی اور میاں شہباز شریف وزیر اعظم بنے تو وہ جب بھی لندن جاتے اور میاں نواز شریف سے ملاقات کرتے تو تحریک انصاف ایک طوفان بپا کر دیتی کہ کیا اب پاکستان کے حکومتی معاملات ایک سزا یافتہ نا اہل شخص کے مشوروں اور کہنے پر چلیں گے لیکن آج اصول بدل گئے ہیں ۔ عمران خان ایک نا اہل اورسزا یافتہ شخص کی حیثیت سے اڈیالہ جیل میں ہیں لیکن جمعرات 8ستمبر کو چیئر مین تحریک انصاف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کا کوئی حکم آ جائے تو پھر تحریک انصاف کی کوئی کمیٹی اس بات کی مجاز نہیں کہ وہ بانی کے حکم کو رد کر سکے ۔ علی امین گنڈا پور بھی بانی کے حکم سے وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہو گئے ہیں اور بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ نامزدکیا ہے لیکن نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں کچھ ڈرامائی Movesہو سکتی ہیں اس پر بھی بات کرتے ہیں لیکن پہلے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی اصل وجوہات اور جن مقاصد کے لئے یہ تبدیلی کی گئی ہے کیا وہ پورے ہوں گے اس پر چند گذارشات ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ گنڈا پور صاحب صوبہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رکوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس لئے انھیں ہٹایا جا رہا ہے ۔ یہ بات بالکل جھوٹ اور عوام کو کہانی کرائی جا رہی ہے اس لئے کہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے بلکہ سب کے علم میں ہے کہ گنڈا پور صاحب نے دو تین دن پہلے جیل میں علیمہ خان صاحبہ کی نہ صرف یہ کہ شکایات لگائی تھیں بلکہ انھیں میڈیا کے سامنے بھی لے آئے تھے ۔ تو بشریٰ بی بی کی کرپشن کے دستاویزی ثبوت D.G ISI لا کر دکھاتے ہیں تو وہ اگر برداشت نہیں ہوتے تو گنڈا پور صاحب کس کھیت کی مولی ہیں ۔ یہ تو اپنی پارٹی کے بندے یعنی گھڑے کی مچھلی ہیں لہٰذا وہ کیسے اپنے عہدے پر رہ سکتے تھے ۔ نئے وزیر اعلیٰ کے لئے سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے یہ ISFخیبر پختونخوا کے صدر رہ چکے ہیں اور یہ خیبر پختون خوا کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ ہوں گے تو کیسا اتفاق ہے کہ گنڈا پور صاحب خیبر پختون خوا کی تاریخ کے سب سے کم مدت کے لئے وزیر اعلیٰ رہے اور سہیل آفریدی سب سے کم عمر وزیراعلیٰ ۔
یہ انتخاب کسی میرٹ پر نہیں ہوا کیونکہ سہیل آفریدی صاحب پہلی بار اسمبلی میں پہنچے ہیں اور انھیں پارلیمانی سیاست کا بس یہی فروری 2024 کے بعد کوئی ڈیڑھ پونے دو سال کا تجربہ ہے لیکن بزدار کی طرح ان کا میرٹ بھی یہی ہے کہ جس طرح بزدار دور میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ اسلام آباد وزیر اعظم ہاﺅس سے چلائی جا رہی تھی اسی طرح اب خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ اڈیالہ جیل سے چلائی جائے گی اور جیل سے باہر اس پر علیمہ خان صاحبہ کا اثر ہو گا اور کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ وزیر اعلیٰ کے تمام اختیارات علیمہ خان کے ذریعے خود عمران خان ہی چلائیں ۔ جن مقاصد کے لئے نئے وزیر اعلیٰ کو لایا گیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن رکوائیں گے تو یہ کسی طور نہیں ہو گا کیونکہ جس دن انھیں نامزد کیا گیا ہے اسی دن کور کمانڈر کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ میں بڑا واضح پیغام دیا گیا کہ ” دہشت گردی ، جرائم اور سیاسی گٹھ جوڑ کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ دوسرا دہشت گردی کے خلاف آپریشن افواج پاکستان کر رہی ہیں تو کیا اب نئے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کی پولیس کو افواج پاکستان کے مقابل لائیں گے ۔ ویسے شعور عمرانی سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کر بھی سکتے ہیں لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ اس صوبہ ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی تباہ کن ہو گا ۔ سہیل آفریدی کافی جارحانہ انداز میں تقاریر کرتے ہیں لیکن یہ انداز سیاسی مخالفین کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن جہاں پر ریاستی معاملات آ جائیں وہاں پر ایسا انداز ملک دشمنوں کے لئے ہوتا ہے نہ کہ ملک کے محافظوں کے لئے اور پھر یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ کسی صوبے کی پولیس افواج پاکستان کے مقابل آئے ۔ یہ تو ویسے ہی ایک انتہائی احمقانہ سوچ ہے ۔
اب وہ ڈرامائیMovesکی بات تو KPK میں145نشستیں ہیں ۔ پی ٹی آئی دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے پاس90ارکان ہیں لیکن ان میں سے 35افراد آزاد ہیں جبکہ مزید ستم یہ کہ اسی دن الیکشن کمیشن نے ایک محفوظ فیصلہ سنایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سنی اتحاد اور پی ٹی آئی کے تمام ارکان آزاد تصور ہوں گے ۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاست میں جو کچھ بھی ہو جائے وہ کم ہے اور سیاست کا ادنیٰ سا طالب علم بھی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ اب وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں اگر کوئی ون ٹو کا فور کرنے پر تل ہی جائے تو پھر پی ٹی آئی کو حقیقی معنوں میں پڑتھو پڑ سکتے ہیں ۔علی امین گنڈا پور بہت سے حلقوں کو قابل قبول تھے لیکن اگر بانی کی ہدایت پر کسی کو یہ خدشہ بھی ہوا کہ وہ وفاق سے تعاون نہیں کریں گے اور ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کہ ملک میں انتشار پیدا ہو تو پھر ان کے انتخاب میں بہت کچھ ڈرامائی ہو سکتا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ ہے اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ۔