مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین یا دوسرے لفظوں میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترم مریم نواز سمیت پنجاب کی وزیرِ اطلاعات محترمہ عظمیٰ بخاری اور سندھ حکومت کے بعض وزرا ءاورقائدین کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا جو سلسلہ پچھلے ڈیڑھ دو ہفتوں سے زور و شور سے جاری تھا ، وہ مسلم لیگ (ن) کے وفد کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے نواب شاہ میں ملاقات کے بعد اختتام پذیر ہو چکا ہے۔مسلم لیگ (ن)کا وفد جو نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پر مشتمل تھا وہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے بدھ کی شام کو نواب شاہ پہنچا۔ صدرِ مملکت نے گلے لگا کر وفد کے ارکان کا استقبال کیا۔ خوشگوار ماحول میں بات چیت جاری رہی۔ صدرِ مملکت نے مسلم لیگی وفد سے کہا کہ اپنی پارٹی کے لوگوں کو بیان بازی سے روکیں، وہ نہیں چاہتے کہ معاملات خراب ہوں۔ مسلم لیگی وفد نے پیپلز پارٹی کی طرف سے بیان بازی بند کرنے پر زور دیا۔ طے پایا کہ دونوں طرف سے بیان بازی بند کر دی جائے۔ آئندہ کے لیے کسی بھی بڑے معاملے یا ایشو پر بات کرنے سے قبل ایک دوسرے کے مو¿قف سے آگاہی حاصل کی جائے اور پھر بات کی جائے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کے درمیان بیان بازی بند کرنے پر اتفاق ِ رائے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں جماعتیں جو اقتدار کی بند ر بانٹ میں ایک دوسرے کی حلیف ہیں ان کے قائدین ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں احتیاط برتیں گے اور صورتِ حال یہاں تک نہیں پہنچ پائے گی۔ خیر یہ مستقبل کا معاملہ ہے اس سے ہٹ کر اگر کوئی صورتِ حال سامنے آتی ہے تو اس کا بھی پتہ چل جائے گا۔ اس وقت اس بات کا جائزہ لینا دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت کے زعمااور سندھ میں پیپلز پارٹی کے قائدین یا حکومتی زعماکے درمیان بیان بازی جو اِس حد تک پہنچی رہی ہے اسے کیا نام دیا جا سکتا ہے۔اسے سیاسی عصبیت سے پکارا جائے یا اس کے لیے صوبائی تعصب کا ٹائٹل زیادہ موزوں رہے گا۔ اس کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ عصبیت یا سیاسی عصبیت کیا ہے اور تعصب یا صوبائی تعصب کسے سمجھا جا سکتا ہے۔ کیا یہ دونوں ایک ہی ہیں یا ان میں فرق ہے اور اگر فرق ہے تو کتنا ہے۔
گوگل پر وِکی پیڈیا کے مطابق عصبیت عربی اصطلاح ہے جو سماجی یک جہتی ، اتحاد یا وفاداری کو بیان کرتی ہے جس سے اپنے گروہ ، قبیلے، نسل یا قوم کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ عصبیت کی مختلف جہتیں یا جیہات ہیں جن میں سماجی یک جہتی اور اتحاد ، قبائلیت اور اقربا پروری اور قوم پرستی کو شامل کیا جاتا ہے۔ زمانہ¿ وسطیٰ کے مشہور ماہرِ عمرانیات ابنِ خلدون نے اپنی شہرہ ¿ آفاق تصنیف "مقدمہ " میں عصبیت کو انسانی تاریخ کی بنیادی قوت قرار دیا ہے جو تہذیبوں کے عروج و زوال سے متعلق ہے۔ یہ تہذیب کے آغاز میں مضبوط ہوتی ہے اور تہذیب کے بڑھنے کے ساتھ زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ عصبیت کی اس وضاحت کے بعد تعصب کی طرف آتے ہیں۔ عصبیت اور تعصب بظاہر ایک جیسی اور ہم معنی اصطلاحات لگتی ہیں لیکن ان میں کچھ فرق ضرور ہے۔ ریختہ ڈکشنری کے مطابق تعصب کی بنیاد منفی خیالات ، غلط فہمیوں، غیر ضروری خدشات ، اور مثبت خیالات کے فقدان پر ہوتی ہے جبکہ متعصب فرد عد ل و انصاف سے عاری ہو تا ہے اور تعصب سے معاشرے میں نفرت اور فساد جنم لیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
عصبیت اور تعصب کی اصطلاحات کی اس وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں میں فرق بہر کیف موجود ہے ۔ عصبیت کو کسی حد تک سماجی قوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جبکہ تعصب کی حیثیت سرا سر ایک منفی پہلو یا ایک خامی کی ہوتی ہے۔ ہمارا دین اسلام عصبیت اور تعصب دونوں کو نا پسند کرتا ہے۔ نبی پاک حضرت محمد ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے "جسے عصبیت پر موت آئی وہ ہم میں سے نہیں ہے "۔ اسی طرح آپ کا یہ بھی ارشادِ مبارک ہے "اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے عاجزی اور تواضع اختیارکرنے کا حکم دیا ہے اور ہر قسم کے غلط فخر اورظلم و زیادتی سے بچنے کا ارشاد فرمایا ہے"۔ یہ احادیثِ مبارکہ بڑی واضح ہیں لیکن سچی بات ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم احکامات ِ خداوندی اور فرامینِ رسول پر کم ہی عمل کرتے ہیں۔ اپنے اندر موجود دیگر سماجی اور معاشرتی برائیوں کو چھوڑ کر ہم عصبیت اور تعصب کو ہی لیتے ہیں کہ دین میں ان کو نا پسند کیے جانے کے باوجود ہم نے ان دونوں کو کچھ کم، کچھ زیادہ روا کر رکھا ہے۔ سیاسی جماعتیں عصبیت یا سیاسی عصبیت سے کام لے کر اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑتی اور اپنے ووٹ بینک کو مضبوط بناتی ہیں ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی مضبوط ہے تو اس میں سندھی عصبیت کا بڑا دخل ہے ۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اگرچہ ایک قومی رہنما تھے لیکن سندھ میں انہیں زیادہ مقبولیت حاصل تھی۔ یہ مقبولیت آگے محترمہ بےنظیر بھٹو تک اور اب جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری تک چلی آ رہی ہے۔ بلوچستان میں اگر دیکھیں تو وہاں بلوچی اور پختون رہنما اپنی قومیت اور لسانی بنیادوں پر اپنی مقبولیت جس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اِسی طرح کا معاملہ خیبر پختون خواہ میں بھی ہے۔ یہاں پختون قومیت اور لسانیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پنجاب میں معاملات کسی حد تک مختلف رہے ہیں۔پنجاب کے لوگوں کے نزدیک قومی سوچ ہی پنجابی عصبیت کی پہچان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں رنگ، نسل، علاقے اور زبان سے بالا تر ہوکر ملک کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والے قومی رہنماﺅں کو پذیرائی ملتی رہی ہے تو اس کے ساتھ ملکی اور قومی سطح پر جہاں بھی ترقیاتی منصوبے یا بڑے کام شروع ہوئے پنجاب یا پنجابیوں کی طرف سے
ان کی کم ہی مخالف سامنے آتی رہی۔ پنجاب کے ساتھ کیا ہوا اور اس کو کس حد تک تعصب کا نشانہ بنایا جاتا رہاہے یا بنایا گیا اس کی ایک پوری تاریخ ہے۔ متحدہ پاکستان کے دنوں سے لے کر اب تک پنجاب مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے بنگالیوں، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعتوں اور اُن کے رہنماﺅں کے تعصب کا شکار رہا ہے۔ کراچی میں الطاف حسین کی مہاجر قومی موومنٹ بھی پنجاب اور پنجابیوں کو نشانہ بنانے میں پیچھے نہیں رہی۔ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ ہو، ارسا کے اجلاس ہوں ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ ہو یا حال ہی میں چولستان میں بنجر زمین کو سیراب کرنے کے لیے پنجاب کا اپنے حصے کے پانی سے نہریں بنانے کا منصوبہ ہو ، سندھ کے قوم پرست حلقوں کی طرف سے شدت سے ان کی مخالفت سامنے آئی ۔ گویا یہ سب پنجاب کے خلاف تعصب یا صوبائی تعصب کا اظہار سمجھا جا سکتا ہے۔ اب پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محرمہ مریم نواز نے پنجاب کے حق میں آواز بلند کی ہے تو اسے جواب آن غزل کے طور پر ہی لیا جانا چاہیے نہ کہ پنجابی عصبیت کہہ کر اس پر تنقید کی جائے۔