Wed, September 16, 2026

اسرائیلی کابینہ نے غزہ امن معاہدے کی منظوری دے دی

 اسرائیلی کابینہ نے غزہ امن معاہدے کی منظوری دے دی

تل ا بیب : عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی کابینہ نے غزہ امن معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم اور وزراء کے علاوہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک تھے۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو منظوری دے دی ہے اور اب جنگ بندی مؤثر ہو چکی ہے۔ کابینہ کے بیشتر ارکان نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیا۔ معاہدے کے تحت تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا شامل ہے، جس کے بدلے میں اسرائیل میں قید مغوی آزاد کیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں نئی جگہوں پر منتقل ہو گی لیکن علاقے کے 53 فیصد حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی۔ حماس کو 72 گھنٹے دیے گئے ہیں کہ وہ تمام مغویوں کو رہا کرے۔

یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ غزہ میں مشترکہ ٹاسک فورس میں مصر اور قطر کے فوجی شامل ہوں گے، لیکن کوئی امریکی فوجی وہاں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ بندی کے بعد امن اور استحکام کی امید ہے اور آج کا دن تاریخی ہے کیونکہ غزہ اور مغربی کنارے میں خونریزی ختم ہو گئی ہے۔

ٹیگز: