اربابِ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے سخت فیصلوں نے معیشت کو استحکام بخشا ہے۔ اس وقت عالمی و علاقائی سیاست اور سفارت کاری کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ کہ عالمی سطح پر نئے معاشی امکانات اور مواقع کا پیدا ہونا اور پاکستان کی اہمیت کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ ہم اگلے چند برس میں معاشی طور پر مضبوط و مستحکم ہو جائیں گے۔ یہ تجزیہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اورعمومی طور پر حکمران طبقہ اسی نقطہ پر زور دیتا ہے کہ معاشی حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان تمام دعوؤں کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرضوں کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دور کئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے عام عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
موجودہ عالمی معاشی نظام میں معاشی ترقی کو محض مالیاتی منافع اور سرمایہ کاری کی سطح سے ناپا جاتا ہے۔ یعنی اگر سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں اضافہ ہو رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے تو اسے ترقی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جدید اقتصادی نظام کا نظریہ اس سے آگے بڑھ چکا ہے۔ کامیاب معیشت کی تعریف محض مالیاتی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاشرتی مساوات، پائیداری، مالیاتی شمولیت اور سب سے بڑھ کر انسانی ترقی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت جو ترقی کے دعوے کر رہی ہے اس کے ثمرات گراس روٹ لیول پر نظر نہیں آ رہے ہیں یعنی جب تک عام شہری کی زندگیوں میں آسانی پیدا نہ ہو اور اسے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء سستی اور باآسانی دستیاب نہ ہوں تو اس کو حقیقی ترقی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس سے پائیدار ترقی کی امیدیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ ہمارا سٹاک ایکسچینج کا رجحان روز بروز اوپر کی طرف ہے وہ کسی طور پر ملکی معاشی ترقی کی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی افلاس کی سطح 25.03 فیصد بڑھنے کا امکان ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ 6 کروڑ افراد افلاس کے شکنجے میں ہیں۔ ان کے مطابق ترقی کے موجودہ ماڈل 2018-24ء کے دوران افلاس کی سطح میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ زراعت سکڑ رہی ہے اور کنسٹرکشن انڈسٹری میں اجرتیں کم، قرضوں اور خساروں میں اضافہ، سرمایہ کاری کا کمزور ہونا، طاقتور اشرافیہ کا پالیسیوں کو اپنے مفاد میں جوڑنا، اسی طرح لاکھوں نوجوانوں کا ملک چھوڑنا وغیرہ، یہ تمام امور معاشی اہداف اور ترقی کے دعوؤں کے برعکس ہے۔ ورلڈ بینک کے بین الاقوامی پاورٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 45 فیصد ہے۔ اس وقت پاکستان میں 4 کروڑ افراد کی ایک دن کی کمائی عملاً 900 روپے سے کم ہو کر رہ گئی ہے اور اسی تناظر میں معاشرے میں موجود کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے اصلاحات ناگزیر ہو گئی ہیں اور اس وقت پاکستان کو بڑے پیمانے ہر عوامی خدمت میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ ہماری داخلی معاشی صورتحال کا ادراک ہی نہیں پیش کر رہی ہیں بلکہ ان وجوہات کی نشاندہی بھی کر رہی ہیں جو ہماری اپنی داخلی معاشی بدحالی کے زمرے میں آتی ہیں۔
معاشی خود انحصاری اور مضبوط دفاع کسی بھی آزاد ملک کی بقاء کے بنیادی ستون ہیں۔ مئی کے معرکہ حق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دفاع کے میدان میں ہم دنیا کی کسی بھی بڑی طاقت سے کم نہیں لیکن معاشی میدان میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ ہمیں اپنی معیشت میں بہتری کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ ایک مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی ضامن ہے۔ آج کی دنیا میں وہی ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں، جن کا سیاسی استحکام، معاشی ترقی و مربوط اقتصادی پالیسیوں سے منسلک ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت ملک کو خود انحصاری اور داخلی استحکام کی منزل تک لانے کے لئے معاشی اہداف کی تکمیل اور جمہوری ثمرات کی عام آدمی تک پہنچ کو یقینی بنائے اور ساتھ ساتھ ان خطرات اور ممکنہ بحرانوں کا ادراک و سدِ باب کرے جن کی نشاندہی ماہرین کرتے رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سیاسی کشمکش اور انتشار کی ایسی دلدل میں دھنستا چلا گیا ہے، جہاں قومی یکجہتی، تحمل اور مفاہمت جیسے الفاظ بے معنی ہو چکے ہیں ۔ اقتدار کی جنگ، ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور نفرت انگیز بیانیوں نے معاشرے کو بری طرح تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ تمام سیاسی، مذہبی، لسانی طبقات ایک دوسرے کی طرف پشت پھیرے ہوئے ہیں اور سب کو اگر کوئی فکر ہے تو اپنے حقوق کی ہے، کسی ایک کوبھی اپنے فرائض یاد نہیں۔حکومت ہو یا اپوزیشن یا اس قوم کا کئی بھی دوسرا طبقہ ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ فرض اور ذمہ داری اگر کوئی ہے تو مخالف کی ہے، اس کے بس حقوق ہیں، جو نہیں دیئے جارہے ہیں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ارد گرد کے ملکوں میں کس طرح کے انقلابات نے دستک دی ہے۔ اگر ہم نے اپنے معاشرے کو ایسے حالات سے بچانا ہے تو پھر بے انصافی، قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، غربت، امراء کی عیاشیاں، حکمرانوں کی سرد مہری اور فاقہ کشیوں کا سدِ باب کرنا ہو گا۔ ورنہ غریبوں اور سماج کے پسے ہوئے عوام کی نفرت اور بے چینی ضرور رنگ لائے گی۔ اگر ہماری قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عوامی نفرت کو سیاسی عمل میں جذب کر لے اور معاشی نا انصافی کو کسی حد تک کم کر دے تو شائد ہم کسی بھی ایسے انقلاب سے بچ جائیں۔ میرے نزدیک اس سمت میں پہلا قدم آزاد اور مضبوط عدلیہ کا قیام ہے جس پر لوگوں کو اندھا اعتماد ہو اور جو ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ میرے خیال میں 26 ویں ترمیم کی ذریعے کی گئی تبدیلیوں کی پھر سے بحالی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے عوام میں اعتماد بڑھے گا جو قومی سلامتی کے لئے بہت اہم ہے۔
مجھے اندازہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اقتدار اندھا ہوتا ہے اور بہرہ بھی۔ وہ اس لئے کہ حکمران صرف اچھی باتیں سنتے، خوشامدانہ لہجہ پسند کرتے اور سب اچھا دیکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ دیکھنے کے باوجود دیکھنے کی اہلیت اور سننے کے باوجود سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں تو حکمرانوں کے حواری اور درباری اسے سازش کہہ کر حکمرانوں کی سمجھ بوجھ پر پردے ڈال دیتے ہیں چنانچہ حکمران ان گھنٹیوں کی آواز کو خطرے کی آواز کی بجائے شادیانے کی آوازیں سمجھنے لگتے ہیں اورا پنے اقتدار کے نشے میں مست رہتے ہیں۔ ہمارے اربابِ اختیار نے نہ کچھ اپنی تاریخ سے سیکھا ہے اور نہ ہی انہیں عالمی تاریخ پڑھنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے کہ وہ کچھ سیکھ سکیں اور اپنی حکمتِ عملی بدلیں۔