معاشی ترقی کو اکثر محض بجٹ خسارے، زرِ مبادلہ کے ذخائر، ٹیکس اہداف یا آئی ایم ایف پروگرامز کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ معیشت دراصل اعتماد، انسانی رویوں اور ادارہ جاتی صلاحیت کے گرد گھومتی ہے۔ جب ریاست عوام کو یقین دلانے میں ناکام ہو جائے، ادارے اہلیت سے محروم ہوں اور سماجی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں تو بہترین پالیسیاں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں اگر ہم عالمی تاریخ، مقامی ثقافت اور پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کا جائزہ لیں تو ایک واضح فکری نقشہ سامنے آتا ہے۔
1930 کی دہائی میں امریکہ کو درپیش عظیم کساد بازاری صرف ایک مالی بحران نہیں تھا بلکہ ایک ہمہ جہت معاشرتی المیہ تھا۔ بینک دیوالیہ ہو رہے تھے، صنعتیں بند تھیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے تھے۔ اس ماحول میں فرینکلن ڈی روزویلٹ (FDR) نے صدارت سنبھالی تو انہوں نے سب سے پہلے یہ سمجھا کہ اصل بحران معیشت سے زیادہ نفسیات اور اعتماد کا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ خوف خود ایک معاشی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ریاستی کردار کو محدود کرنے کے بجائے اسے فعال کیا۔ نیو ڈیل کے تحت نہ صرف بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع کیے گئے بلکہ عوام کو براہِ راست روزگار فراہم کیا گیا۔
Civilian Conservation Corps، Public Works Administration اور Works Progress Administration جیسے پروگرامز نے لاکھوں افراد کو کام دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکاری نظام کی اصلاح، مالیاتی نظم و ضبط اور سوشل سکیورٹی ایکٹ جیسے اقدامات نے ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی۔ تاہم FDR کی سب سے بڑی کامیابی پالیسی نہیں بلکہ ابلاغ تھا۔ ریڈیو پر کی جانے والی Fireside Chats کے ذریعے انہوں نے عوام کو شریکِ سفر بنایا، جس سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال ہوا۔ یہی اعتماد بعد ازاں معاشی بحالی کی اصل بنیاد بنا۔
اگر اس تصور کو مقامی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں بسنت جیسے ثقافتی تہوار اسی اعتماد اور معاشی حرکت کی علامت بن سکتے ہیں۔ بسنت محض پتنگ بازی کا نام نہیں بلکہ یہ نچلی سطح پر معیشت کو متحرک کرنے والا ایک قدرتی عمل ہے۔ رنگین پتنگوں کی تیاری سے لے کر کپڑوں، خوراک، موسیقی، ٹرانسپورٹ اور ہوٹلنگ تک، درجنوں شعبے مختصر عرصے میں فعال ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے دکاندار، دستکار، مزدور اور خدمات فراہم کرنے والے طبقے کو فوری روزگار اور آمدن کے مواقع میسر آتے ہیں۔
یہ وہی تصور ہے جسے جدید معاشیات میں Local Economic Stimulation کہا جاتا ہے، یعنی ایسی سرگرمیاں جو کم سرمائے میں زیادہ لوگوں کو معاشی عمل کا حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بسنت جیسے تہوار سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں، جو کسی بھی معیشت کے لیے ایک خاموش مگر طاقتور عنصر ہوتا ہے۔ معاشرہ جتنا جڑا ہوا ہو، اتنا ہی معاشی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
تاہم پاکستان کا اصل مسئلہ نہ تو ثقافت کی کمی ہے اور نہ ہی معاشی صلاحیت کی، بلکہ بنیادی رکاوٹ ادارہ جاتی نااہلی اور غلط انسانی وسائل ہیں۔ ایف بی آر ہو یا دیگر معاشی ادارے، اکثر ایسی تعیناتیاں کی جاتی ہیں جن کا تعلق متعلقہ شعبے سے نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ٹیکس پالیسی کا نفاذ کمزور رہتا ہے، کیسز عدالتوں میں الجھ جاتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس نیٹ وسیع ہونے کے بجائے مزید سکڑتا جا رہا ہے۔
دنیا کی کامیاب معیشتوں میں Right Person for Right Job محض انتظامی اصول نہیں بلکہ ایک بنیادی ریاستی فلسفہ ہے۔ ٹیکس نظام ماہرینِ معیشت، اکاؤنٹنگ اور قانون کے تجربہ کار افراد کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ پالیسی سازی ڈیٹا، تحقیق اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں اکثر فیصلے وقتی دباؤ، سیاسی مصلحت یا روایتی بیوروکریسی کے زیرِ اثر ہوتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پالیسیاں کاغذوں سے آگے نہیں بڑھتیں۔
معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اداروں میں شفافیت، اہلیت اور جوابدہی کو یکجا کیا جائے۔ جب ایک اہل فرد اپنی مہارت کے مطابق ذمہ داری سنبھالتا ہے تو نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔ یہی اعتماد سرمایہ کاری، ٹیکس ادائیگی اور معاشی شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت FDR طرز کی اعتماد ساز قیادت، بسنت جیسے معاشی و سماجی محرکات اور اداروں میں میرٹ پر مبنی اصلاحات تینوں کی بیک وقت ضرورت ہے۔ صرف ٹیکس بڑھانے یا سبسڈی ختم کرنے سے معیشت مستحکم نہیں ہوتی، بلکہ لوگوں کو یہ یقین دلانا پڑتا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے، نہ کہ ان کے خلاف۔
آخرکار معاشی بحالی کا سفر قوانین سے شروع ہو کر انسان پر ختم ہوتا ہے۔ جب قیادت وژن رکھتی ہو، ثقافت زندہ ہو اور ادارے اہل افراد کے ہاتھ میں ہوں تو بحران بھی مواقع میں بدل سکتے ہیں۔ یہی سبق تاریخ ہمیں امریکہ سے دیتی ہے، ثقافت ہمیں بسنت سے سکھاتی ہے، اور موجودہ حالات ہمیں پاکستان میں بار بار یاد دلاتے ہیں۔ اگر ان اسباق کو سنجیدگی سے اپنایا جائے تو معاشی استحکام کوئی خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت بن سکتا ہے۔