Wed, September 16, 2026

ہوس اقتدار

ہوس اقتدار

دنیائے سیاست میں معرکے مارنے والے مقابلے ہارنے والے قدرے سنگدل ہو جاتے ہیں انہیں کسی کے سودوزیاں سے دلچسپی کم اور اپنی منفعت کا خیال دامن گیر رہتا ہے انکے سامنے دو چار ہزار یا دو چار لاکھ افراد لقمہ اجل بن جائیں وہ اس پر رنجیدہ نہیں ہوتے البتہ ان کے کتے کو بخار ہو جائے تو وہ اسے اپنے لیے عذاب سمجھتے ہیں۔
شرم الشیخ میں جمع ہونے والے اسلامی ممالک فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ سے جنگ بندی کیلئے جمع ہوئے، ابھی کامیابی کا جشن ختم نہ ہوا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں پر بمباری شروع کر دی جو آج تک جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہنے کا امکان ہے جب تک اسرائیل پر میزائلوں کی برسات نہیں ہوتی۔ شرم الشیخ اجتماع کے بعد امریکی نائب صدر سے اسرائیلی طرز عمل اور جاری بمباری میں ہونیوالے جانی نقصان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے روایتی امریکی سٹائل میں کندھے اچکاتے ہوئے کہا غزہ میں جو جانی نقصان ہو رہا ہے وہ اتنا اہم نہیں لیکن ہم امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان سے امن منصوبے میں قیام فلسطین کے حوالے سے کوئی پیرا گراف کوئی نکتہ نہ ہونے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
موجودہ امریکی رجیم قیام اسرائیل اور اسرائیلی طاقت کے زور پر آئندہ انتخابات جیتنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے اس حوالے سے ٹرمپ ٹیم میں کچھ تشویش کے آثار نمودار ہونا شروع ہوئے ہیں جس کی بڑی وجہ نیویارک، نیوجرسی اور ورجینیا میں ہونے والے انتخابی نتائج ہیں جہاں حکومت کو شکست کی شکل دیکھنا پڑی۔ دوسری طرف عالمی سطح پر بھی ایک درجن سے زیادہ معاملات میں ڈونلڈ ٹرمپ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکے اب وہ چاہتے ہیں کسی نہ کسی طرح اسلامی ممالک کو ہمنوا بنا کر وہ اسرائیل کو تسلیم کرا لیں لیکن اس معاملے میں بھی دیانتداری کا اصول اپنانے کے بجائے جھانسوں پر انحصار زیادہ ہے۔ سرکاری امریکی پالیسی کے مطابق اگر کوئی بالشت بھر کا اسلامی یا غیر اسلامی ملک اسرائیل کو تسلیم کر لے یا اس کی حامی بھر لے تو اسے امریکی میڈیا ایک عظیم الشان کامیابی کے طور پر پیش کرتا ہے اور ڈیل کے بادشاہ کی شان میں قصیدہ گوئی شروع ہو جاتی ہے۔ قازقستان اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ہے جس کے بعد بتایا گیا کہ مزید چھوٹی موٹی ریاستیں اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ امریکی صدر ان ریاستوں کے دورے پر نکلنے والے ہیں لیکن ’’ابراہم اکارڈ‘‘ کے حوالے سے سب سے اہم دورہ سعودی پرنس محمد بن سلطان کا ہے جو آئندہ چند روز میں امریکہ پہنچنے والے ہیں۔ ان کے دورے سے قبل وقوع پذیر ہونے والے کچھ واقعات نہایت اہم ہیں جن میں امن مذاکرات کے دوران قطر، ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد اسلامی دنیا میں پایا جانے والا خوف، بعض ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے مد نظر رکھے جائیں تو حالات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ امریکہ مسلمان ملکوں پر خوف طاری کر کے ان سے مالی اور کاروباری فائدہ اس انداز میں حاصل کرنا چاہتا ہے جو بھتہ خوری کے زمرے میں آتا ہے۔ درآمد و برآمد سے بڑا امریکی ہدف یہ ہے کہ امیر ملک اس کے دبائو میں آ کر امریکہ میں کتنے ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ امریکہ نے سعودی عرب پر ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے دبائو بڑھایا ہے جبکہ سعودی عرب اس سے قبل چھ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے تیار تھا، اب اسے عالم مجبوری میں امریکی خواہش کے سامنے سر تسلیم ختم کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ چین کے ساتھ ہے لیکن چین ریئر ارتھ منرلز پر کنٹرول کے سبب جھکنے پر مجبور نہیں ہوا۔ یہاں امریکہ نے خود جھک کر اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے امریکی صدر چین کا دورہ کرنے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ ایشیا کی بڑی طاقت اور بڑی معیشت بھارت کے ساتھ نورا کشتی ختم ہو چکی ہے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان اسلحہ فروخت کے معاہدے کی تجدید ہو چکی ہے، دونوں ملک ’’حلالہ‘‘ کرنے پر تیار ہو چکے ہیں۔ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ امریکہ بھارت کا حلالہ تو نوشتہ دیوار تھا، افسوس یہ کہ ہمیں حلالہ فیس نہیں ملے گی۔ ہمیں فقط بھارتی طیارے گرانے پر شاباش ملتی رہی جن کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ بڑھاتے رہے۔ ان کے آخری بیان کے مطابق اب ہم بھارت کے نئے نکور آٹھ طیارے گرا چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گرنے والے بھارتی طیاروں کی تعداد میں وقتاً فوقتاً اضافے کے پیچھے بھی ایک مقصد تھا کہ بھارت حلالے کے لیے تیار ہو جائے، سو وہ ہو گیا۔ ہم اس میں خوش رہے کہ ہمیں مفت میں ایک پبلک ریلیشین آفیسر مل گیا ہے جو ہماری مارکیٹنگ بھی کر رہا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے مسلمان ممالک میں پریشانی کی لہر ہے کہ حماس سے ہتھیار رکھوانے کی بات پر زور دیا جا رہا ہے لیکن فلسطینی ریاست کے خدوخال کیا ہونگے اس پر امریکہ اور اسرائیل خاموش ہیں۔ اسرائیل نے تو قیام فلسطین کا منصوبہ رد کر دیا ہے، وہ صرف گریٹر اسرائیل میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پرنس محمد بن سلمان کے دورے سے یہ معاملہ واضح ہو گا جنہوں نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں اظہار خیال کرتے ہوئے 1967ء کی فلسطینی سرحدوں کے مطابق معاہدے میں آگے بڑھنے کا اشارہ دیا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں دیگر اسلامی ممالک بھی اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں، دیکھنا ہے کون کب تک اس موقف کے ساتھ کھڑے رہنے کی ہمت و جرأت دکھاتا ہے۔ مسلم امہ کی ہمت و جرأت کے کئی مظاہرے دنیا دو برس سے جاری جنگ میں دیکھ چکی ہے، جہاں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی مرد عورتیں اور بچے شہید کر دئیے گئے۔ سب اپنی مذمت کی طاقت سے اسرائیل کو شکست دینے کی کوشش کرتے رہے۔ امریکی صدر جاری برس کے اختتام سے قبل مسلمان ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ اسرائیل سے اسکا وعدہ کر چکے ہیں، مزید براں وہ اپنے مڈٹرم الیکشن 2026ء میں اسے اپنی دسویں جنگ بند کرانے کے نعرے کے ساتھ اترنا چاہتے ہیں جہاں انہیں زبردست مزاحمت کا سامنا ہو گا۔ ان انتخابات میں پاکستانی مسلمان اور بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ امریکی و دیگر اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے ووٹرز ان کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے، جہاں ٹرمپ کے مقابل اب پارٹی کی نمائندگی کے لیے آئندہ عام انتخابات میں گیون یوسن ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جبکہ ٹرمپ تیسری مدت صدارت کے لیے قوانین میں تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں، ہوس اقتدار اور کاروباری منفعت تمام اصولوں اور قوانین کو پامال کر دیتی ہے۔

ٹیگز: