27 ویں ترمیم کا چاند نظر آ گیا ’’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ اب تک شکوک و شبہات کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ آج کل میں بعض شقوں کو چھوئے بغیر ترمیم منظور ہوجائے گی۔ ان شقوں کو بعد ازاں 28 ویں آئینی ترمیم میں شامل کرلیا جائے گا۔ سیاسی استحکام کے لیے ترامیم ضروری ہیں۔ حکومت نے اپنے اتحادیوں سے مشاورت مکمل کرلی۔ پی پی اور مولانا کو مسودہ دیا گیا۔ مولانا نے حسب سابق برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لات مار دی کہا کہ 26 ویں ترمیم میں 35 شقیں نکال دی گئی تھیں اگر انہیں 27 ویں ترمیم میں شامل کیا گیا تو مخالفت کریں گے، سیانوں نے کہا رج کے مخالفت کریں، عددی لحاظ سے لا تعلق ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرح اسلام آباد پر اسلامی لشکر سے حملے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں، ’’بڑے خان صاحب‘‘ کی طرح طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ حضرت نے این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کی شق کی بھی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا صوبوں کے فنڈز میں کمی منظور نہیں فنڈز میں اضافہ ہونا چاہیے۔ حضرت کی تجویز مان لی جائے تو وفاقی خزانہ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بٹ جائے گا۔ وفاق کی جھولی خالی ملکی و غیر ملکی قرضے بھی صوبے ادا کریں گے۔ وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ قرعہ اندازی سے چنے جائیں گے۔ وفاق کی حیثیت بے نام رہ جائیگی۔ بلاول بھٹو نے اپنی ٹوئٹ میں انکشاف کیا کہ پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دو روزہ اجلاس کے اختتام پر بلاول بھٹو نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے این ایف سی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا۔ ایگزیکٹو ججز کے تقرر، ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرنے، الیکشن کمشنر کی تقرری، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی فنڈز میں کمی تعلیم اور پاپولیشن پلاننگ کے محکمے وفاق کو دینے نیز معدنی وسائل سمیت متعدد تجاویز مسترد کردیں، آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کی تاہم تجویز رکھی کہ اس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہو، حکومت کو یقین کہ اپنوں کی مخالفت سمجھانے بجھانے پر حمایت میں بدل جائے گی اور کابینہ کی منظوری کے بعد ترمیم کا ایجنڈا سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔ 27 ویں ترمیم 14 نومبر تک منظور ہوجانے کا امکان ہے۔ مبینہ طور پر ایک اہم ترین جج صاحب مہینہ کے آخر تک ریٹائرڈ ہونے والے ہیں ترمیم آئین کا حصہ بن جانے سے ان کا بھلا ہوجائے گا۔ اس طرح آئینی عدالت بھی مکمل ہوسکے گی۔ مخالفت کرنے والے ’’اپنے‘‘ خطرناک نہیں ہیں۔ پیار سے نہ مانے تو پیغام سے مان جائیں گے۔ ترمیم میں مستقبل کے لیے اہم شقیں موجود ہیں آرٹیکل 243 میں فیلڈ مارشل اور فوج سے متعلق ایک تجاویز شامل ہیں۔ آرٹیکل 63 میں ترمیم ہوگی جس کے تحت پبلک آفس ہولڈرز کے علاوہ تمام سرکاری ملازمین، افسران، بیگمات دہری شہریت نہیں رکھ سکیں گے۔ اس طرح 12 ہزار افراد کو اپنی شہریت کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑے گا، بڑی اکھاڑ بچھاڑ ہوگی، ترمیم کی مختلف شقوں پر مکمل اتفاق کے بعد اسے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ قومی اسمبلی میں ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ارکان درکار ہیں جبکہ حکومتی ارکان کی تعداد 237 ہے جہاں تک سینیٹ کا تعلق ہے حکومتی ارکان کی تعداد 61 ہے ایک دو ارکان کی حمایت درکار ہوگی کسی نہ کسی طرح کہیں نہ کہیں سے مل جائیں گے ’’روٹھے سیوں‘‘ کو منانا ہوگا نہ مانے تو تھرڈ امپائر کی انگلی کس دن کام آئے گی۔ پی ٹی آئی سیاست کی گھڑ دوڑ میں بہت پیچھے بلکہ پیچھے ہی رہ گئی۔ گھڑ دوڑ میںتیز رفتار گھوڑوں کے مقابلے میں خچروں کو مہمیز دینے میں ناکام رہنے والے کامیابی سے میلوں دور رہ گئے۔ پارٹی مایوسی، باہم تقسیم اور ذہنی انتشار میں مبتلا ہو کر بظاہر دم توڑ چکی کسی آئینی ترمیم یا کاروبار حکومت میں ان کی مداخلت مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو کامیابی کا مکمل یقین مگر وہ ان شاء اللہ کہنا نہیں بھولتے۔ آذر بائیجان کی فتح پریڈ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہم رکاب چہرے پر اطمینان لیے وزیر اعظم نے ویڈیو لنک سے کابینہ اجلاس کی صدارت کی ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ گھبراہٹ اڈیالہ جیل میں دو ڈھائی سال سے قید ’’بڑے خان صاحب‘‘ عشق عمران میں مبتلا وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر ہمنوائوں کو ہے، عشق عمران پر یاد آیا، مراد سعید کے عشق کے قصے ریحام خان کی کتاب کے ذریعے زباں زد عام ہوئے ’’ہم تو بد نام ہوئے جان جہاں تیرے لیے‘‘ مراد سعید روپوش، سہیل آفریدی اسی عشق کی ڈور سے بندھے اپنے محبوب سے ملنے پانچویں بار جیل پہنچے داروغوں نے کبھی دادل ناکے کبھی گورکھپور ناکے پر روک لیا۔ آفریدی جی ’’قیس جیل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو، خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘‘ گنگناتے ہوئے واپس لوٹ گئے کہتے تھے اب عوام کے ساتھ آئوں گا۔ 22 گاڑیوں میں عوام کی بجائے سرکاری محافظ نظر آئے، وزیر اعلیٰ کے عشق عمران کی خیر اس عشق میں مبتلا بستیوں پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہوتی ہے۔ اللہ اپنا رحم فرمائے۔ ملاقات کی اجازت کیوں نہیں مل رہی، وزیر اعلیٰ نے اپنے منصب کا خیال کیے بغر مساجد میں کتے باندھنے کا بیان دے کر راستے میں کانٹے بو دئیے اوپر سے سخت پیغام ملا۔ بیان واپس لیں سرعام معافی مانگیں ورنہ… عشق کا انجام تباہی بربادی، کام خراب ہوگیا۔ موصوف نے ریڈ لائن کراس کرلی، اس قسم کے الزامات بھلائے نہیں جاتے۔ لچے لفنگوں والی زبان ناقابل برداشت، وزارت اعلیٰ اور آزادی دونوں دائو پر لگ گئیں۔ سمگلنگ 200 ارب کا سکینڈل اور خوارج کیخلاف آپریشن کو وار کرائم دینے کے الزامات ایف آئی آر کٹ چکیں مقدمات درج کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے پولیس نے اسلام آباد کے خیبر ہائوس پر آدھی رات چھاپہ مارا تھا پچھلے دروازے سے نکل گئے۔ استنبول میں منیر بانوں کے اصرار پر ہونے والے مذاکرات پھر ڈیڈ لاک کا شکار، پاکستان وفد کے ارکان واپس آگئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ سرحدیں بند، آٹا، چاول، دالیں، 12 سو ہیکٹر رقبہ پر پوست کی کاشت سے چرس ہیروئن اور آئس کی پاکستان کے ذریعے منشیات سے حاصل اربوں کی آمد سے محرومی، افغان مہاجرین کی آبادکاری، طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کا قوی امکان خیبر پختون خوا میں حملے کرنے والوں کو تباہی کا پیغام، سہولت کاروں کے خلاف قہر ڈھانے کی تیاریاں، گرفتاریوں کا موسم، مقبولیت کا غبارہ پھٹ چکا، 2035ء تک چلنے والے سسٹم میں نرمی کی گنجائش نشتہ، رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں کرنے والے راندۂ درگاہ بابوں کو پہلے مرحلہ میں ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اب کیا ہوگا؟ کہا ترمیم کا ڈر ہے کہا ترمیم تو ہوگی کہا عمران کا ڈر ہے کہا وہ تو نمٹ چکا احتجاج کا کوئی ڈر نہیں، لگتا ہے ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی پر بیک وقت ایئر سٹرائیک ہوں گے۔