Wed, September 16, 2026

فتح مکہ: اخلاقِ نبویؐ کی درخشاں جھلک 

فتح مکہ: اخلاقِ نبویؐ کی درخشاں جھلک 

اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے رہنمائی اور اخلاقی درس بن جاتے ہیں۔ انہی عظیم واقعات میں سے ایک فتحِ مکہ بھی ہے۔ ہجرت کے آٹھویں سال رمضان المبارک کے مہینے میں آسمان و زمین نے ایک ایسی فتح کا منظر دیکھا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ فتح تلوار کی طاقت سے زیادہ اخلاق، صبر، حکمت اور عفو و درگزر کی فتح تھی۔ اس عظیم واقعے کے اسباب، پس منظر اور نتائج پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک شہر کی فتح نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت و اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کے وہ لوگ جو آپؐ کو صادق و امین، شریف، محترم اور قابل فخر شخصیت کے طور پر جانتے تھے، یک لخت آپؐ کے مخالف ہو گئے۔ انہیں دین اسلام کے پیغام کو قبول کرنے میں اپنی سرداریاں اور مفادات خطرے میں نظر آئے۔ انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اگر وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول کر لیتے تو قیامت تک صحابی رسولِ آخر الزماں کے عظیم اعزاز سے سرفراز ہوتے۔ مگر یہ سعادت ہر ایک کے نصیب میں نہ تھی۔ جن خوش نصیبوں کے مقدر میں ہدایت تھی انہوں نے لبیک کہا اور اسلام کی روشنی سے اپنے دلوں کو منور کر لیا۔رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوتِ حق کے راستے میں بے شمار تکالیف برداشت کیں۔ کفارِ مکہ نے آپؐ اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طرح طرح کی اذیتیں دیں، مگر آپؐ نے صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا۔ جب ظلم و ستم حد سے بڑھ گیا تو مسلمانوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تاکہ آزادی کے ساتھ اپنے ربِ کریم کی عبادت کر سکیں۔ لیکن کفارِ مکہ پھر بھی باز نہ آئے اور مدینہ منورہ میں بھی مسلمانوں کو اذیت پہنچانے کے درپے رہے۔ انہی سازشوں اور دشمنیوں کے باعث غزو بدر، احد اور خندق جیسے معرکے پیش آئے اور کئی سرایا بھی وقوع پذیر ہوئے۔ہجرت کے چھٹے سال مسلمانوں کے دلوں میں بیت اللہ شریف کی زیارت کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً چودہ سو صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر قریشِ مکہ نے حسب سابق جفا کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جسے صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ظاہری طور پر اس معاہدے کی بعض شرائط مسلمانوں کے حق میں سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن درحقیقت اس میں عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریق دس سال تک جنگ سے اجتناب پر متفق ہوئے اور عرب کے قبائل کو اختیار دیا گیا کہ وہ جس فریق کے ساتھ چاہیں اتحاد کر لیں۔ چنانچہ قبیلہ خزاعہ مسلمانوں کا حلیف بن گیا اور قبیلہ بنو بکر قریش کے ساتھ جا ملا۔کچھ عرصہ بعد بنو بکر کے ایک گروہ نے قریش کی پشت پناہی میں بنو خزاعہ پر اچانک حملہ کر دیا۔ اس حملے میں بنو خزاعہ کو جانی نقصان اٹھانا پڑا اور اس طرح صلح حدیبیہ کی کھلی خلاف ورزی ہوئی۔ جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے قریش کو پیغام بھیجا کہ تین شرطوں میں سے کسی ایک کو قبول کریں: یا تو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کریں یا بنو بکر کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں، یا پھر یہ اعلان کر دیں کہ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ قریش نے تیسری شرط قبول کر لی اور یوں معاہدہ عملاً ٹوٹ گیا۔اس کے بعد 10 رمضان المبارک 8 ہجری کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ہزار صحابہ کرام کے لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امن و امان کا اعلان فرمایا کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے، جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے، جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے یا جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے لے، اسے امان دی جائے گی۔ یہ اعلان دراصل اسلام کی امن پسندی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم کردار کا مظہر تھا۔فتح مکہ کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ مقدس کو بتوں سے پاک فرمایا اور بیت اللہ کے اندر نوافل ادا کیے۔ اس کے بعد آپؐ باہر تشریف لائے اور اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے وہ تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے جو قیامت تک عفو و درگزر کی مثال بن گئے: ’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جائو تم سب آزاد ہو۔‘‘اس بے مثال اعلانِ رحمت نے لوگوں کے دل بدل دیئے اور تقریباً دو ہزار افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت سہیل بن عمرو، حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح، حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہم سمیت کئی اہم شخصیات دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں۔ اختتامیہ فتحِ مکہ دراصل اخلاق، رحمت اور عفو و درگزر کی فتح تھی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی کامیابی طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ دشمن کو معاف کر دینے میں ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بدترین مخالفین کو بھی معاف کر کے انسانیت کو یہ درس دیا کہ اسلام انتقام نہیں بلکہ رحمت، عدل اور اخلاق کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ اخلاق سے حصہ عطا فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت میں ان کے سایہ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

ٹیگز: