میرے آقا کریم، خاتم النبیین، سید المرسلین صاحبِ کوثر، صاحبِ معراج ، امام الانبیا رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہِ والِہ وسلم والیٔ دو جہاں کا حلیہ مبارک جس کو مشتاق و غلامان نے کروڑوں بار بیان کیا۔
خوب رو بوٹا سا قد نہ زیادہ طویل القامت نہ اس قدر پست، سر بڑا اور خوبصورت، اس پر سیاہ گھنگریالے بال، جبیں کشادہ، دلکش بھنویں بالوں سے بھری ہوئیں اور خمیدہ سی، آنکھیں سیاہ اور بڑی بڑی جن کی سیاہی کے بعد نہایت کھلی ہوئی سفیدی اور سفیدی کا حلقہ سرخ مدھرسا ہالہ جس نے جاذبیت میں اور بھی اضافہ کر دیا۔ آنکھوں سے زود فہمی کے آثار نمایاں، لمبی اور سیاہ پلکیں، ناک ستواں اور سیدھی، دانتوں میں ریکھیں جیسے باریک خط کھینچ دیا گیا ہو، ریش گھنی، گردن لمبی مگر خوبصورت، سینہ کشادہ، بدن کی رنگت کھلی ہوئی، ہاتھ کی ہتھیلیاں اور پاوں کے تلوے نرم و گداز، بدن مبارک ذرا آگے کو جھکا ہوا، رفتار میں تیزی مگر ہر قدم اپنی جگہ پر جم جاتا، بشرے سے تفکر کی علامات ظاہر، نگاہوں میں حاکمانہ انداز جو دوسروں کو اپنے سامنے جھکا لے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہِ والِہ وسلم مسکراتے تو پورا بدن مسکراتا اگر رنجیدہ ہوتے تو کائنات رنجیدہ دِکھتی۔ جب سے سنا ہے کہ حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں: میں نے چاندنی رات میں رسول اللہﷺ کو دیکھا، آپ نے سرخ جوڑا زیبِ تن فرمایا ہوا تھا۔ ادھر میں آپﷺ (کے چہرۂ انور) کی طرف دیکھنے لگا اور اُدھر (چاندنی رات کے چمکتے دمکتے) چاند کی طرف، پھر (ہوا یہ کہ) بلاشبہ رسول اللہﷺ کا چہرہ انور میری آنکھ میں اس (چمکتے دمکتے) چاند سے بھی کہیں زیادہ حسین تھا۔ الحمدللہ چودھویں کے چاند کو میں حسرت سے دیکھتا ہوں اور اس کا نظارہ کرتا ہوں کہ غلامان اس کی خوبصورتی اور پھیلتی ہوئی چاندنی سے تشبیہ دے کر سرکار کریمؐ کے چہرہ اقدس کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتے لیکن چاند بھی ماند پڑ جایا کرتا۔ یہ منظر چشم تصور میں مجھے مسجد نبویؐ میں ہمیشہ اپنے اندر سمو لیتا۔ کہ کاش میں اس محفل جو دراصل عرش کی محفل تھی اور زمین پر لگی تھی، کے شرکاء کی جوتیاں سیدھی کیا کرتا۔ اور پھر سنیے تو عشق دو آتشہ ہو جائے کہ حضرت ابو عبیدہؓ کہتے ہیں میں نے ربیع (بنت معوذ) سے کہا کہ مجھے ذرا حضورﷺ کے بارے میں بتاؤ، تو وہ کہنے لگیں: ’’میرے منے! اگر تم ان (کے چہرے) کو دیکھ لیتے تو تمہیں وہ ایسے لگتا کہ جیسے سورج (اپنی آب و تاب کے ساتھ) رونما ہو کر نکل چکا ہے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ حسن و جمال میں کسی چیز کو نہیں دیکھا آپ تو ایسے تھے گویا سورج آپ کی پیشانی میں چل رہا ہو۔حضرت برائؓ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہﷺ کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح (چمکدار) تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ چاند کی طرح حسین تھا اور ابن حبان کی روایت میں ہے، بلکہ سورج (کی طرح چمکدار) اور (چودھویں رات کے) گول چاند کی طرح (حسین) تھا۔ … اللہ اکبر
آپ کا حسن و جمال شعر کی صورت میں: ’’اے حسن والے اور انسانیت کے سردار، آپﷺ کے منور چہرے سے چاند روشن ہوا، آپ کی تعریف ممکن نہیں جیسا کہ آپ کی تعریف کا حق ہے، مختصر یہ کہ خدا تعالیٰ کے بعد آپ کا مرتبہ ہے‘‘۔ (ترجمہ)حضرت حسان بن ثابتؓ کے شعر کا ترجمہ ہے:
جہاں میں اُن سا چہرہ ہے نہ ہے خندہ جبیں کوئی
ابھی تک جَن سکیں عورتیں اُن سا حسیں کوئی
یہ ذکر ہے اُن ہستی کا جنہوں نے گھٹا ٹوپ اندھیروں میںشمع جلائی، کبھی جانا ہو تو حرم کے پہلو ہی میں ایک تکونی سی جگہ جو چند کنال پر محیط ہے۔ آقاﷺکے وقت میں تو اب کا حرم تقریباً مکہ شہر تھا۔ یہ تکونی جگہ آج کے حرم کے قریب ہے جس کے لیے مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر زمانہ جاہلیت میں کفار اپنی بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا کرتے تھے۔ تمام کفار بھی ایسا نہیں کرتے تھے لیکن جو کرتے تھے ان کے لیے یہ بات مخصوص ہے اور ابھی خاصی تعداد جو سیکڑوں میں ہو گی یہ درندوں کو پیچھے چھوڑ جانے والی روایت کو غیرت سمجھتے تھے۔ میں نے وہ تکونہ قطعہ اراضی دیکھا وہاں بہت دیر کھڑا رہا یہاں تک کہ مجھے احساس ہوا کہ مجھے مت دفناو۔ میں تیرا کیا لیتی ہوں۔ مجھے جنگل میں چھوڑ دو، میں کبھی تمہارے سامنے نہ آئوں گی۔ میں تیرا کچھ نہ لوں گی مجھے مت مارو۔ مجھے مت دفنائو۔ اس وقت فضا آہوں، سسکیوں، چیخوں، مدد کو پکارتی ہوئی بچیوں کی آوازوں نے مجھے اپنے دکھ، کرب، غم، وحشت اور ناقابل بیان جان لیوا حصار میں لے لیا کہ میں 15 سو سال پیچھے چلا گیا اور میں خود بلک بلک کر رونے لگا میرے آنسوئوں نے میرے سانسوں کی روانی کو معمول پر آنے میں مدد دی میں سوچوں اور پچھتائوں کے قلزم میں ڈوب گیا کہ کاش کاش میرے آقا، رحمت للعالمینﷺ ان زندہ درگور ہونے والی بچیوں کی اموات اور تدفین سے پہلے دنیا میں تشریف فرما ہوتے۔ اور کاش یہ پکار، یہ سسکیاں یہ حسرتیں پیدا ہی نہ ہوتیں۔ انسانیت جا بجا دم توڑتی ہوئی نہ پائی جاتی۔
آج ناقدین اسلام، آج اہل یورپ اور امریکہ، اور آج میرا جسم میری مرضی، آج حقوق نسواں، آج انسان بنت کا درس دینے والے دیکھیں کہ رحمت للعالمینﷺ نے انسانوں اور انسانیت کے لیے جو کیا، ساری کائنات کے انسانوں کے حقوق کی فکر اور سوچ ایک طرف میرے آقاﷺ نے تو درختوں، پتوں، پودوں اور جانوروں کو حقوق دیئے۔
بہرحال یہ تکونہ قطعہ اراضی مجھے اب تک ہانٹ کیے دیتا ہے آقا رحمت للعالمینﷺہمارے ماں باپ اجداد اور نسلیں آپﷺ کے نعلین مبارک کی مٹی پر قربان، الحمدللہ!کہ ہم آپﷺکے امتی اور غلام ہیں۔ آج آپ کی امت پر مشکل ترین گھڑی ہے، مسلم غیر مسلم نہیں، عرب ایران مشرق وسطیٰ برسرپیکار ہے۔ اللہ کریم امت مسلمہ کو معاف کر دے، رحم فرما دے، گناہ اور بے حسی جتنی بھی بڑھ گئی تیری قوت اور رحمت سے زیادہ نہیں۔ دراقدس اور حرمین شریفین گئے ہوئے لوگ مساجد اور گھروں میں چپکے چپکے مانگنے والو! اللہ سے رسولﷺ سے دینِ ہدایت مانگو، جیسا دین وہ دے کر گئے اور پناہ مانگو سب کیلئے۔ آقا کریمﷺ امت پے بھاری گھڑی ہے۔
یَا رَسُولَ اللہ اُنظُر حَالَنَا
یَا حَبِیبَ اللہ اِسمع قَالَنَا
اِنَنِی فِی بَحرِ غَم مُغرَق
خُذ یَدِی سَھِل لَنَا اِشکَالَنَا