اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ موضوع بحث ہے۔ ہر کوئی اس فیصلے پر بات کرنا چاہ رہاہے اس حوالے سے کچھ حقائق کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ کیا حکومت نے جان بوجھ کر قیمتیں بڑھائیں یا پاکستان عالمی قیمتوں کے رجحان کے زیر تسلط آیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کو مجبوری میں کرنا پڑا ہے۔ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حقیقت پسندانہ اور عوام دوست فیصلہ ہی اسے کہا جانا چاہیے اگرچہ غربت کی وجہ سے شہری فی الوقت اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں مگر یہ فیصلہ حقیقت پسندانہ ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی کے اثرات ہولناک ہو رہے ہیں ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ جیٹ فیول کی قیمت 188.93 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 342.32 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ جس سے ایئر لائنز نے فضائی کرایوں میں اضافہ کرنے پر غور شروع کر دیا اور یقینی طور پر کرایوں میں بڑا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور گلف ممالک کے لیے فضائی کرایوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔ اسی طرح لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے لندن کے کرایوں میں ایک لاکھ روپے تک اضافے کا خدشہ بھی ہے۔ پاکستان سے پیرس، استنبول، نیویارک اور ٹورنٹو کے کرایوں میں 80 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک اضافہ متوقع ہے۔ جیٹ فیول مہنگا ہونے سے عالمی فضائی سفر مزید مہنگا ہونا اب یقینی ہے۔ اسی طرح فضائی کرایوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ڈیڑھ درجن سے زائد ایئر لائنز نے کرایے بڑھانے کی تیاری کرلی ہے۔ اسی طرح عید کے موقع پر بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے لیے فضائی کرایوں میں اضافہ بڑا جھٹکا بن سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ایئر لائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو عالمی سطح پر نمودار ہوئی ہے ایسے حالات میں حکومت پاکستان جانتی تھی کہ حالات خراب ہو سکتے ہیں اس لئے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ گزشتہ چند روز سے جاری خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں بہتری کی امید کم از کم آئندہ تین چار روز کے لئے کم ہے۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں ہوش رْبا اضافہ لازمی امر تھا۔ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں عوامی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ، ڈیمانڈ اورلوڈ مینجمنٹ سے متعلق اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ معروضی حالات میں یہ اضافہ 110 روپے فی لیٹر تک متوقع تھا تاہم عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالتے ہوئے یہ اضافہ نصف یعنی 55 روپے تک کیا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ باقی نصف کا بوجھ حکومت نے خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں، پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بھی ہے جس کی وجہ سے ایسے فیصلے کرتے وقت مکمل معاشی خودمختاری پر عمل درآمد ایک چیلنج ہوتا ہے۔ بین الاقوامی صورت حال کے پیش نظر کیے گئے معاشی فیصلوں پر خطے کے باقی ممالک کے اقدامات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ پڑوسی ممالک کی نسبت اگر مصنوعات کی قیمتیں کم کر دی جائیں تو سمگلنگ کے رْحجانات میں اضافہ قدرتی امر ہے۔ عالمی حالات کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیلات متاثر ہوئیں ہیں اور حالات مزید ابتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے انفرادی اور اجتماعی بچت کے طریقے اپنائیں اور اپنی ضروریات کو حالات کے مطابق کریں۔ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے اور عوام کی مشکلات میں کمی کیلئے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں دوست ممالک سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اگر سپلائی لائن میں بہتری ہوئی ، آبنائے ہرمز میں ترسیل کے امور بہتر ہو گئے توجیسا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اتنی ہی تیزی سے قیمتیں نیچے لائیں گے اور عوام کو ریلیف دیں گے۔ وزیر پٹرولیم نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس آڑ میں ذخیرہ اندوزی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ، قانون شکنوں اور مافیا کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ امید ہے کہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے نہیں ہونگے اور دونوں فریقین کسی نہ کسی طرح جنگ بندی کی طرف آتے ہوئے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل یقینی بنائیں گے تاکہ پاکستان جیسے ممالک متاثر نہ ہوں۔