امریکی صدر کا پاکستان کو شکریہ ادا کرنا معمول کی بات نہیں، ایسے حالات میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے بڑے ممالک کیلئے قہر خداوندی کا روپ دھار چکا ہے، ایسے وقت میں جب وہ یورپ کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے، اندرون ملک اپنی اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہے، پاکستان کے لئے تشکر کے جذبات کا اظہار یقیناً ایک غیر معمولی واقع ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ شکریہ کانگریس میں اپنے طویل خطاب کے دوران دیا ہے۔ امریکی صدر اپنے اقتدار کے 100دنوں میں بہت کچھ کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے دور اقتدار کو امریکی تاریخ میں یادگار اور لازوال بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ ہر بات جو ان کے عزائم کے مطابق ہو، اس کا برملا اور فخریہ اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کا شکریہ ادا کرنا بھی ایسے ہی واقعات میں شامل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ بائیڈن دور کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جو بائیڈن افغانستان میں 20سالہ امریکی جنگ کے خاتمے کا کریڈٹ لینا چاہتے تھے۔ انہوں نے دوحا معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج واپس لائیں۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی کی چھیڑی گئی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ بلاشبہ یہ ایک بڑا فیصلہ تھا، امریکہ اس جنگ پر 800ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کر چکا تھا لیکن عسکری فتح کا دور دور تک امکان نظر نہیں آ رہا تھا۔ عسکری ماہرین کھلے الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ افغانستان میں عسکری فتح کا حصول ممکن نہیں ہے۔ امریکی جرنیل بھی اس حوالے سے یکسو تھے کہ یہ جنگ لاحاصل ہے، اسے ختم کر دینا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا، امریکہ جنہیں دہشت گرد قرار دیتا تھا ان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے مجبور ہوا۔ ایک امریکی صدر نے جنہیں چوہے قرار دیا تھا ان کے ہاتھوں عسکری شکست کا داغ لئے امریکہ وہاں سے دم دبا کر بھاگا۔ اگست 2021ءمیں جس طرح کابل کے ہوائی اڈے سے رات کے اندھیرے میں فوجیوں کو لے کر امریکی ایئر فورس کی آخری پرواز فضا میں بلند ہوئی۔ اس نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ امریکہ ناقابل شکست نہیں رہا۔ پوری دنیا نے امریکی سپاہ کو بھاگتے دیکھا۔ کابل کے ملٹری ہوائی اڈے کا سین دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہاں امریکیوں کا مستقر تھا۔ ایسے ہی بھاگتے دوڑتے ایک خودکش دھماکہ ہوا جس میں 13امریکی فوجی اور 170افغان ہلاک ہوئے۔ امریکہ اس بارے میں تحقیقات کے بعد جن نتائج پر پہنچا۔ اس کے مطابق مجرموں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں گرفتار کرنے کا مشن شروع کیا گیا۔ امریکی سی آئی اے مسلسل اس پر کام کر رہی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مسئلہ کو ترجیح بنایا۔ پاک فوج کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا۔ پاک فوج نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ داعش کے شریف اللہ عرف جعفر کو پاک افغان سرحد سے گرفتار کر کے امریکہ پہنچا دیا۔ ایف بی آئی نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ امریکی صدر نے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کر دیا ہے۔ امریکی صدر کے شکریے کے آنے والے دنوں میں پاک امریکہ تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹرمپ افغانستان میں امریکی ہزیمت کے داغ دھونا چاہتے ہیں۔ امریکی سپاہ افغانستان سے بھاگتے وقت وہاں 7ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ چھوڑ آئے ہیں۔ یہ اسلحہ نہ صرف طالبان کی حربی و ضربی قوت میں اضافے کا باعث ہے بلکہ وہاں پر براجمان عالمی و علاقائی دہشت گرد تنظیموں کی تباہی پھیلانے کی صلاحیت میں بھی اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا براہ راست شکار پاکستان ہے۔ حال ہی میں بنوں حملے میں بھی اس صلاحیت کو دیکھا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری مسلح افواج کی بروقت کارروائی کے باعث دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آپریشن میں 16دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا لیکن دہشت گردوں کی ایسی ہی کارروائیوں کے باعث پاکستان بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت دہشت گردی کے باعث پنپ نہیں رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت، ایسے دہشت گرد گروپوں کو لگام دینے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ طالبان، ٹی ٹی پی، داعش، القاعدہ اور ایسے ہی دیگر گروپوں کیخلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ ان گروپوں سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران، روس اور چین کو بھی خطرہ ہے۔ پاکستان میں چینی مفادات بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے کی بازیابی کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوگا اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ایک بات بڑی واضح ہے کہ ایسی کسی بھی پلاننگ میں پاکستان کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ پاکستان دسمبر 79ءمیں اشتراکی افواج کے افغانستان میں داخلے کے وقت سے عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نے افغان مجاہدین کی جدوجہد آزادی کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1981ءمیں امریکہ کی ریگن انتظامیہ بھی پاکستان کی پشت پر آن کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2001ءمیں جس امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا تو پھر پاکستان مرکزی اہمیت اختیار کر گیا تھا جب امریکہ نے یہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان نے ہی دوحا مذاکرات کو کامیاب بنایا۔ امریکہ کو اس جنگ سے جان چھڑانے کا موقع ملا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ دنیا پر امریکہ کی دھاک بٹھانے کے لئے کوشاں ہے تو پاکستان اور امریکہ کے افغانستان میں مفادات مشترکہ ہو گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں پاک امریکہ اشتراک عمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ہماری دوستی کی طویل داستان ہے جس میں محبت کے راز و نیاز بھی ہیں۔ گلے شکوے بھی ہیں، بے وفائی کا عنصر بھی ہے اور رومانس بھی ہے گویا پاک امریکہ تعلقات میں ہر وہ وقوعہ ہے جو کسی بھی عشق و محبت کی کہانی میں ہو سکتا ہے۔ ہم چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات بڑھا رہے ہیں لیکن وہ تعلقات ابھی اس قدر وسیع اور موثر نہیں ہوئے ہیں کہ ہم امریکہ کو، امریکی دوستی کو خیرباد کہہ دیں۔ ویسے بھی امریکہ ایک سپر طاقت ہے۔ ہماری برآمدات کا زیادہ حصہ امریکہ کے ساتھ ہے ہماری معیشت ہی نہیں بلکہ ہمارا دفاعی سسٹم بشمول ہارڈویئر، ٹریننگ وغیرہ بھی امریکہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ ہمارا نظام معاشرت و معیشت امریکی برطانوی طرز پر استوار ہے۔ ہماری معاشرت پر بھی مغربیت کی مہر لگی ہوئی ہے۔ ہم چین کے دوست ہوتے ہوئے بھی امریکہ سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکتے ہیں۔ ہماری معیشت جن عالمی اداروں کے قرضوں اور امداد کے سہارے کھڑی ہے وہ سب امریکہ کے ماتحت مانے جاتے ہیں۔ اس لئے امریکہ کے ساتھ دوستی ہی میں ہماری فلاح ہے۔