Wed, September 16, 2026

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ 

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ 

آج کا کالم لکھنے کیلئے قلم ہاتھ میں لیا تو کئی موضوعات ذہن میں تھے ‘ پہلے خیال آیا کہ گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج پر قلم آزمائی کروں لیکن دل سیاست سے ایسا اُچاٹ سا ہوتا جا رہا ہے کہ اس موضوع پر گھسے پٹے الفاظ کے علاوہ کوئی نئی بات ذہن میں نہیں آئی اس لیے یہ ارادہ ترک کر دیا ۔ مہنگائی کے خلاف لکھنے اور غریب عوام کی دہائی اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے کا دل چاہا لیکن الفاظ نے قلم کا ساتھ نہیں دیا تو میں نے بھی سوچا نتیجہ صفر+صفر=صفر ہی نکلنا ہے کیونکہ حکمران اشرافیہ شاید اُس کرب کا اندازہ کر ہی نہیں سکتی جس سے ایک عام آدمی اس وقت گزر رہا ہے ۔ انہی خیالوں میں گُم تھا کہ میرا دس سالہ بیٹا محمد صارم میرے پاس آیا اور کہا اپنا موبائل مجھے دیدیں ‘میں نے اسے موبائل دیا تو وہ اس کی سکرین میں ایسا گُم ہو اکہ مجھے لگا وہ دنیا ومافیہا سے ہی بے خبر ہو گیا ہے۔ اس وقت ہماری نئی نسل ہی نہیں بلکہ ہر فرد ہی سکرین پر اتنا زیادہ وقت گزارنے لگ گیا ہے کہ ” چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میاں سبحان اللہ“ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ، ویسے اصل محاورہ اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ آج اسی موضوع پر قلم اٹھاکر اپنے خیالات سپردِقلم کررہا ہوں۔ 
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آخری بار آپ کب مکمل خاموشی میں تنہا بیٹھے تھے؟ وہ تنہائی جس میں نہ کوئی موبائل فون وائبریٹ ہو رہا ہو، نہ پس منظر میں کوئی ٹی وی چل رہا ہو اور نہ ہی دماغ میں سوشل میڈیا دیکھنے کی تڑپ ہو۔ اگر آپ کو یاد نہیں آ رہا تو پریشان مت ہوں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اکیسویں صدی کے انسان سے اگر اس دور کی سب سے بڑی نعمت چھین لی گئی ہے تو وہ ہے ”خاموش تنہائی“۔ ہم ایک ایسے ہجوم کا حصہ بن چکے ہیں جو ہر وقت آپس میں جڑا ہوا ہے لیکن اندر سے اتنا ہی کٹا ہوا ہے۔ انسانی تاریخ میں ہمیشہ سونا، چاندی، زمین، تیل اور معدنیات کو قیمتی اثاثے سمجھا جاتا رہا ہے۔ قومیں ان وسائل کے حصول کےلئے جنگیں لڑتی رہیں اور معاشی طاقت کا دارومدار انہی ذخائر پر قائم رہا۔ لیکن اکیسویں صدی میں ایک ایسا سرمایہ سامنے آیا ہے جو نہ زمین سے نکلتا ہے نہ کسی کان میں ملتا ہے اور نہ ہی کسی بینک میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرمایہ ”انسانی توجہ“ ہے اور آج کی دنیا میں سب سے بڑی تجارت اسی کی ہو رہی ہے۔ اگر کوئی شخص چند لمحوں کےلئے اپنے اردگرد نظر دوڑائے تو اسے اندازہ ہوگا کہ ہر طرف اس کی توجہ حاصل کرنے کی جنگ جاری ہے۔ موبائل فون کی سکرین پر نمودار ہونے والے نوٹیفکیشن، سوشل میڈیا کی رنگ برنگی پوسٹس، ویڈیوز، اشتہارات، خبروں کی سرخیاں حتیٰ کہ مختلف ایپس کے ڈیزائن بھی ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کےلئے بنائے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ سب سہولتیں ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی منڈی کا حصہ ہیں جہاں ہماری توجہ ایک قابلِ فروخت شے بن چکی ہے۔ ماہرین ابلاغیات کے مطابق آج کی معیشت کو ”اٹینشن اکانومی“ یعنی توجہ کی معیشت کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں وہی ادارے زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو لوگوں کی توجہ زیادہ دیر تک اپنے پاس رکھ سکیں۔ گوگل، فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی آمدنی کا بڑا حصہ اشتہارات سے آتا ہے۔ جتنا زیادہ وقت کوئی صارف ان پلیٹ فارمز پر گزارے گا، اتنے ہی زیادہ اشتہارات اسے دکھائے جائیں گے اور اتنا ہی زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا ایک بڑا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ صارف کو زیادہ سے زیادہ دیر تک مصروف رکھنا بن چکا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے گہرا اثر انسانی ذہن پر پڑ رہا ہے۔ چند دہائیاں پہلے لوگ گھنٹوں کتابیں پڑھ لیتے تھے، کسی موضوع پر طویل غور و فکر کر لیتے تھے اور خاموشی میں بیٹھ کر اپنے خیالات کو ترتیب دے لیتے تھے۔ آج صورت حال مختلف ہے۔ چند منٹ بھی موبائل فون کے بغیر گزارنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ مسلسل بدلتی ہوئی معلومات اور مختصر ویڈیوز نے ہماری توجہ کا دورانیہ کم کر دیا ہے۔ اب ہم ایک خبر پوری پڑھنے کے بجائے صرف سرخی دیکھتے ہیں، ایک مضمون کے بجائے مختصر پوسٹ پر اکتفا کرتے ہیں اور گہرائی کے بجائے رفتار کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی شعور کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ جب معاشرے کی توجہ چند سیکنڈ کے کلپس اور جذباتی نعروں تک محدود ہو جائے تو سنجیدہ مباحثے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سیاست، تعلیم، ثقافت اور سماجی مسائل پر گہرے مکالمے کی جگہ فوری ردعمل اور جذباتی اظہار لے لیتا ہے۔ نتیجتاً رائے سازی کے عمل میں توازن اور تدبر کمزور پڑ جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ توجہ کی یہ تجارت ہماری رضامندی سے ہو رہی ہے۔ ہم خود اپنی توجہ مختلف پلیٹ فارمز کے حوالے کرتے ہیں اور اکثر یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کھو رہے ہیں۔ وقت تو ضائع ہوتا ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑا نقصان ذہنی سکون اور ارتکاز کا ہوتا ہے۔ مسلسل اطلاعات کی یلغار ذہن کو تھکا دیتی ہے اور انسان اندرونی خاموشی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر انسان کا ذہن ہر چند لمحوں بعد کسی نوٹیفکیشن یا نئی ویڈیو کی طرف متوجہ ہو جائے تو گہری سوچ کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں معلومات کی فراوانی کے باوجود دانش اور بصیرت میں اضافہ اسی رفتار سے نہیں ہو رہا۔اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی سے فرار نہیں بلکہ اس کے دانشمندانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنا زیادہ وقت سطحی مواد پر صرف کریں گے تو ہماری سوچ بھی سطحی ہو جائے گی جبکہ علم، مطالعہ اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دینے سے فکری بالیدگی پیدا ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کچھ ایسے اوقات مختص کریں جو ڈیجیٹل مداخلت سے پاک ہوں۔ کتاب کا مطالعہ، اہلِ خانہ کے ساتھ گفتگو، فطرت کے درمیان وقت گزارنا اور خاموشی میں غور و فکر کرنا ایسی عادات ہیں جو ذہنی توازن کو بحال کر سکتی ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی نوجوان نسل میں تنقیدی سوچ اور مطالعے کے رجحان کو فروغ دینا چاہیے تاکہ وہ صرف معلومات کے صارف نہ رہیں بلکہ شعور کے معمار بھی بن سکیں۔ آئیے، آج ایک عہد کریںکہ اپنی سکرینوں کو تھوڑی دیر کےلئے آرام دیں، اپنے اردگرد موجود جیتے جاگتے انسانوں کے چہروں کو دیکھیں، ان کی آنکھوں میں جھانکیں، خاموشی کو محسوس کریں اور اپنے اندر کے اس انسان سے دوبارہ ملاقات کریں جو اس ڈیجیٹل شور میں کہیں کھو گیا ہے۔ اپنے حصے کی خاموشی کو بچائیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

ٹیگز: