اسلام آباد: وفاقی حکومت آج مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جس میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ نان فائلرز پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی لگا دی جائے، جب کہ بینک سے 50 ہزار روپے یا اس سے زیادہ رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کر دیا جائے۔
تاہم، نان فائلرز کی موبائل سمز یا انٹرنیٹ ڈیوائسز بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن گاڑی اور جائیداد خریدنے پر پابندی برقرار رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ نان فائلرز کو شیئرز خریدنے، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری یا کسی بھی بڑی مالیاتی ٹرانزیکشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نان فائلر کیٹگری کو مکمل طور پر ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ سب افراد کو ٹیکس فائلر بننے پر مجبور کیا جا سکے۔
ادھر کاروباری طبقے پر بھی نظر ہے۔ پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے ذریعے ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جرمانے کی حد 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے تک کی جا سکتی ہے، جبکہ کیش پر خفیہ ڈسکاؤنٹ دینے یا دوہری قیمتیں رکھنے والے کاروبار بھی ایف بی آر کے شکنجے میں آئیں گے۔
یہ تمام اقدامات انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 114 بی کے تحت کیے جائیں گے، اور ان پر عملدرآمد بجٹ کی منظوری کے بعد ہوگا۔