Wed, September 16, 2026

ملک گیر تحریک : دھمکی ٗ سازش یا بھارتی ہاتھ

ملک گیر تحریک : دھمکی ٗ سازش یا بھارتی ہاتھ

تحریکِ پاکستان سے لے کر آج تک الحمد للہ کوئی ایسی نسل نہیں ہے جس نے کوئی نہ کوئی کامیاب یا ناکام تحریک چلتی ہوئی نہ دیکھی ہو۔ اِن تحریکوںکے فوائد تو کیا ہونا تھے البتہ ہم نے آدھا ملک گنوایا ٗ اپنے پنجاب اور سندھ کے ’’ رقاص اور میلے ٹھیلوں کے کلچر‘‘ کو جنگجو بنا لیا۔ہزاروں سال سے امن کی دھرتی پنجاب اور سندھ کو صرف ایک افغان جنگ نے دہشتگردوں کی پناہ گا ہ بنا کر رکھ دیا ۔ ہم نے بربریت کے وہ مناظر دیکھے جو ہم سے پہلے کسی نسل کی بصارت سے نہ گزرے تھے ۔ پنجاب ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے لیکن پنجاب سے سوائے رنجیت سنگھ کے ٗ کسی نے پلٹ کر اِن پر حملہ نہیں کیا تھا ۔روس کے خلاف بطور میدان جنگ استعمال ہونے والی افغان سرزمین پر بلاشبہ ہم نے ہی مرکزی کردار ادا کیا تھا لیکن اُس ایف آئی آر کے اکلوتے ملزم صرف ہم ہی نہیں تھے بلکہ اِس میں عالمی مضبوط سرمایہ دار ریاستوں سے لے کر گلف کے شہزادے اورافغان عمائدین سے لے قبائلی سرداروں تک سب نے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کیا ۔انگریزوں کی ہندوستان آمد سے پہلے افغانستان سردرد تھا اور افغان جنگ کے بعد اب ہمارے لئے افغانی دردِسر بنے ہوئے ہیں ۔پہلگام کے واقعہ کے بعد بھارت ’’ آندھی کی طرح آیا اور بگولے کی طرح چلا گیا ۔‘‘ بھارتی سیاستدان اور افواج ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہے ہیں اور بھارتی جنتا اپنے حکمرانوں سے اس بدترین رسوائی جس میں وہ عالمی برادری کی حمایت بھی کھوتے چلے جا رہے ہیں ٗ جواب مانگ رہے ہیں لیکن مودی سرکار ابھی کسی سوچ میں ہے جس کا اظہار وہ لازمی کرے گی۔ مودی کوئی پہلا پاکستان دشمن نہیں جو بھارت کے سنگھاسن پر بیٹھا ہے ہم نے ایک سے بڑھ کرایک بدترین دشمن آج تک بھگتایا ہے لیکن مودی دوسرے دشمنوں سے یوں بڑھ کر ہے کہ وہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں اوردوسرے غیر ہندوئوں کا بھی بدترین مخالف ہے جس کی اجازت ابھی تک اسے اس کی سیاسی جماعت کے علاوہ کوئی بھی دینے کیلئے تیار نہیں بلکہ بی جے پی میں موجود اذہان بھی مودی کی اس انسان دشمن پالیسی سے نالاں ضرور ہیں ۔ 2024ء کے انتخابات میں مودی کا گراف یقینا نیچے آیا تھا کیونکہ گزشتہ حکومت بی جے بی نے تنہا بنائی تھی لیکن موجودہ حکومت اتحادی ہے۔کیا اس کے بعد مودی سیاسی طور پر بھارت کے اندر اور عالمی برادری کے سامنے سرخرو ہو سکتاہے ؟ اگر ایسا ممکن ہے تو پھر یقینا یہ جنگ ختم نہیں ملتوی ہوئی ہے اور ہمیں اس کیلئے مکمل تیار رہنا چاہیے لیکن بلوچستان اورخیبر پختونخوا میں جاری پراکسی وار مودی سرکا ر کی ذہنیت کی مکمل آئینہ دار ہے اس کیلئے ہمیں مزید کسی گواہی کی ضرورت نہیں ۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ انسان اور ریاستیں اندر سے ٹوٹتی ہیں ۔سو یہ تو طے شدہ ہے کہ بیرونی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے ہمیں پہلے اُن اندرونی ہاتھوں کو توڑنا پڑے گا جو دشمن کے معاون و مددگار دورانِ جنگ بھی رہے اور دوبارہ کسی جنگی صورت حال میں اُن سے کسی قسم کی خیر کی توقع رکھنا سوائے حماقت کے اورکچھ نہیں ہو گا ۔عمران نیازی امریکہ ٗ بھارت اوراسرائیل سے مایوس ہو کر اب خود ایک ملک گیر تحریک چلانے کااعلان کر رہا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اُس نے اپنے تمام بیانیے کھو دیئے ہیں۔ اُس کا امریکہ مخالف بیانیہ اُس وقت دم توڑ گیا جب امریکہ میں ہی کمپنیاں ہائر کرکے امریکی ہائوس سے اُس کی حمایت میں قراردادیں منظور کرائی گئیں۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بھی اپنی موت مر چکا کیوں کہ جب یہ جمہوریت پسند ’’ نیازی مینڈیلا ‘‘ ایک طرف جمہوریت کی بات کرتا رہا اور دوسری طرف سوائے اسٹیبلشمنٹ کے کسی کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ ایسا مکروہ اور بدیانتی پر مبنی بیانیہ میری سیاسی زندگی میں تو نہیں ٗ دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور کا بھی کہنا ہے کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بننے کی مبارک باد دی گئی ہے ۔ ریاست ِ مدینہ کا مذہبی بیانیہ اب ’’ اسلامی ٹچ‘‘ کے مذاق میں تبدیل ہو چکا ہے اور لوگوں نے جب سوشل میڈیا کی ہیمرنگ اور بوسٹنگ کے آسیب سے نکل کر اپنے آزاد ذہنوں کے ساتھ سوچا تو انہیںاندازہ ہوا کہ اس ملک کے ساتھ کچھ تو ہوا ہے ۔ واقعات نے اتنی تیزی سے کروٹیں لیں کہ شاہ کو گدا بننے کے عمل نے لمحوں میں اپنا حساب کتاب چکا دیا ۔ موجودہ ملکی صورت حال میں کسی شخص کا بغیر کسی معتبر بیانیے کے ملک میں احتجاجی تحریک کا اعلان کرنا میرے لئے ہرگز حیران کُن نہیں ہے کیونکہ اس بار انارکی کی نئی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور حالات کو زیادہ خراب کرنے کا چانس لیا جا رہا ہے ۔حج کے بعد محرم الحرام کا مہینہ شروع ہونے کو ہے۔ جب ملک بھر میں سکیورٹی کا اہم ترین مسئلہ ہوتا ہے جس سے ہماری سکیورٹی ایجنسیاں سالہا سال سے بخوبی نمٹتی چلی آر ہی ہیں ۔ محرم کے موقع پر بہت سے مقدمات کی تفتیش سُست ہو جاتی ہے کہ پولیس ملازمین محرم کی ڈیوٹیاں سرانجا م دے رہے ہوتے ہیں ۔ اس دوران اگر کوئی ملک گیر تحریک کا اعلان کرے اور کراچی سے لے کر خیبر بلکہ افغان بارڈر سے لے کر سندھ اور گوادر کے ساحلوں تک تحریک کی بات کرے تو یقینا یہ اُس ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور سکیورٹی کے معاملے میں دہشتگردوں کی مدد کے مترادف ہے ۔ جولائی کا گرم ترین مہینہ ٗ تحریک انصا ف کے پاس کسی تنظیمی ڈھانچے کی عدم دستیابی ٗ اوورسیز پاکستانیوں کا عمران نیازی پر ڈگمگاتا یقین جو مایوسی میں بدلتا جا رہا ہے ٗ فنڈز کی کمی ٗ وکلاء کی خواہشات اور اُس پر حکومت 
مخالف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان جس کے ایجنڈے اور مطالبات بارے کسی کو علم نہیں صرف اور صرف کسی بیرونی اشارے پر ہی ممکن ہے اور ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم نے ابھی ابھی بھارت کو گھر میں گھس کر مارا ہے اور بھارت کا کوتلیائی ذہن کسی نت نئی سازش میں مصروف ہو گا سو جو شخص اسرائیلی ٗ امریکی ٗ برطانوی اور بھارتی شہریوں سے فنڈ لے سکتا ہے اور اُس کیلئے اپنے آپ کو کہیں جوابدہ بھی نہیںسمجھتا کچھ بعید نہیں کہ تحریک انصا ف کی اس تحریک کے پیچھے وہی بیرونی ہاتھ ہوں جو ابھی اپنے زخم چاٹ رہے ہیں ۔ اُن کے معاون اور مددگار کچھ بعید نہیں کہ عمران نیازی کے ساتھ ہی بلوچستان میں بھی کسی تحریک کا اعلان کرا دیں ٗ جس سے یہ کہانی کھل کرسامنے آجائے ۔ ریاست اورحکومت ِ پاکستان کوچاہیے کہ اس سے پہلے کہ یہ لوگ کچھ نیا ڈرامہ ملک میں اُس وقت شروع کریں جب پہلے ہی ہرطرف سوگ اور ماتمی جلوس نکل رہے ہوں وہاں کسی ایسی تحریک کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ یہ پاکستان کی سکیورٹی کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے نہ کہ کوئی جمہوری تحریک جو عوامی مفادات کیلئے چلانے کی بات ہو رہی ہے۔ 

ٹیگز: