کرکٹ کا نیا جہاں آباد ہونے جا رہا ہے اور دبئی کو بائے بائے کہا جا رہا ہے لیکن یہ نیا جہاں کہاں آباد ہو رہا ہے جو دبئی ،شارجہ ، ابو ظہبی کے کرکٹ کے میدانوں کو ویران کرسکتا ہے اس پر بات کریں گے لیکن اس وقت متحدہ عرب امارات کی ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے جو حالت ہو چکی ہے تھوڑی سی اس پر بات کر لیتے ہیں ۔ دبئی جسے لوگ مستقبل کا شہر کہتے تھے اب وہ مستقبل تو کیا حال کا شہر بھی نہیں رہا اور ایران امریکہ جنگ میں اس کا جو حال ہوا ہے اس کے بعد اکثر لوگ کہتے ہیں کہ دبئی تو واپس 70کی دہائی میں چلا گیا ہے ۔ وہاں جو کچھ ہوا ہے وہ کم کم ہی میڈیا پر آیا ہے اس لئے کہ بے انتہا سختی ہے ۔ اول تو کسی الیکٹرانک میڈیا کو تو سرے سے اجازت ہی نہیں ہے کہ وہ وہاں پر جو تباہی ہوئی ہے اسے اسکرین پر دکھائے اور اگر کہیں کسی بندے نے ذاتی حیثیت میں وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی تو اس تک پہنچنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوتا اور پھر اسے پکڑ کر اگر تو اس کا جرم اس حوالے سے چھوٹی سطح کا ہے تو ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے اور اگر زیادہ بڑا جرم ہے کہ زیادہ تباہی دکھائی ہے کہ ریاست متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی منفی پروپیگنڈا کیا ہے تو پھر اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس پر جس نوعیت کا جرم ہوتا ہے اسی طرح کا مقدمہ چلتا ہے ۔ اسی طرح کی پابندیاں صرف یو اے ای میں نہیں ہیں بلکہ جو ممالک بھی اس جنگ میں شریک ہیں اور اس سے متاثر ہو رہے ہیں ان سب کے اندر اسی طرح کی پابندیاں ہیں اور میڈیا پر سنسر بھی ہے حتیٰ کہ اسرائیل میں بھی جو تباہی ہوئی ہے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس کا عشر عشیر بھی نہیں آیا ۔ اس جنگ میںامارات کے انفرااسٹرکچر کو جس قدر نقصان پہنچا ہے اس کی ریکوری کے لئے بھی کئے عشرے درکار ہیں ۔ انفرا اسٹرکچر میں جو بلڈنگیں تباہ ہوئی ہیں ان کا بننا تو دور کی بات ہے جو عمارتیں بن رہی تھیں ان پر بھی کام بند ہو چکا ہے اور جو انویسٹر تھے وہ دبئی چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ تعمیراتی منصوبے بند ہو رہے ہیں ۔
ہوٹلز جہاں صبح شام لوگوں کا رش رہتا تھا وہاں اب ویرانیاں ہیں ۔ وہاں کے ایئر پورٹس کہ جن کا شمار دنیا کے مصروف ترین ایئر پورٹس میں ہوتا تھا اور مسافروں کی جو لمبی لمبی لائنیں تھیں اب وہ منظر بدل چکے ہیں اور ایئر پورٹ مکمل ویرن تو نہیں لیکن وہ جو پہلے والی گہما گہمی تھی وہ اب نہیں رہی اور سیاحت کہ جو یو اے ای کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تھا وہ باب بھی اب بند ہو چکا ہے ۔ ایران امریکہ جنگ کے علاوہ یو اے ای کی معاشی تباہی جو اب بہت قریب ہو چکی ہے اس کی ایک وجہ وہاں کا کولنگ سسٹم ہے اگر تو ہوٹلز مسافروں سے اور شاپنگ مالز گاہکوں سے بھرے ہوں اور بس ٹرمینلز پر رش ہو یعنی کاروبار میں تیزی ہے تو تو ایسی صورت میں تو کولنگ سسٹم کا روزانہ کروڑوں ڈالرز کا خرچ تکلیف نہیں دیتا لیکن جب آمدن نہ ہو اور جیب سے خطیر رقم بھرنی پڑے تو پھر ایسی صورت حال زیادہ دیر تک نہیں چلتی ۔ اب یہ ایک بہت بڑا بوجھ بن چکا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں کرکٹ کے نئے جہاں کی تو 80کی دہائی کے شروع میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک سابق کپتان آصف اقبال اور عبد الرحمن بخاطر جو وہاں کی ایک بڑی کاروباری شخصیت تھے انھوں نے شارجہ میں کرکٹ اسٹیڈیم بنا کر متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کی بنیاد رکھی جو بہت کامیاب رہی ۔ آصف اقبال صرف پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہی نہیں تھے بلکہ یہ عمران خان ، ماجد خان ، ظہیر عباس ، مشتاق محمد اور جاوید میاں داد سمیت ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جو ستر کی دہائی کے وسط میں آسٹریلیا میں کیری پیکر سیریز کھیل چکے تھے لہٰذا انھیں متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کے کھیل کو فروغ دینے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا ۔ یہ انڈسٹری اب اربوں ڈالر کی ہو چکی ہے ۔ کرکٹ دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں سے ہے۔ گذشتہ دنوں وزیر داخلہ اور اور کرکٹ بورڈ کے چیئر مین محسن نقوی سعودی عرب کے دورے پر تھے اور وہاں پر جو بات ہوئی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق شارجہ کی طرح میں جدہ میں انتہائی جدید طرز کا کرکٹ اسٹیڈیم بنا کر کرکٹ کا نیا جہاں آباد کرنے کی بنیاد رکھ دی جائے گی ۔ سعودی عرب کے پاس نہ سرمایہ کی کمی ہے اور پاکستان کی صورت میں نہ کرکٹ کے تجربہ کی کمی ہے اور کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کے لئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے وہ متحدہ عرب امارات اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ سعودی عرب میں بھی پاکستان ، ہندوستان ، بنگلا دیش ، سری لنکا اور دیگر کرکٹ لورز ممالک کے لاکھوں لوگ موجود ہیں ۔ جہاں تک دنیائے کرکٹ کے بڑے ممالک کا سوال ہے تو ان سب کے ساتھ بھی سعودی عرب کے اچھے مراسم ہیں ۔ اس کے علاوہ اس فیلڈ کے ماہرین کی کمی کا سامنا وہاں ہوتا ہے کہ جہاں سرمایہ کی کمی ہو ۔ ویسے بھی سعودی ولی عہد کو سعودی عرب کے جدید تصور کی بھی بڑی خواہش ہے تو یہ تمام حقائق ایسے ہیں کہ جن کی تردید ممکن نہیں ہے تو ایسے میں ہر ملک کی خواہش ہو گی کہ ایسا کچھ کیا جائے کہ جس سے کثیر آمدن بھی ہو اور عوام کی دلچسپی بھی اور کرکٹ کا کھیل اس حوالے سے بہترین آپشن ہے ۔