Wed, September 16, 2026

غزہ پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید

غزہ پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید

غزہ: اسرائیل کی جانب سے غزہ پر تازہ فضائی حملوں میں مزید 24 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ شہادتوں کی اطلاع زیادہ تر وسطی اور جنوبی غزہ سے ملی ہے، جہاں مسلسل بمباری سے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔

دیر البلح کے علاقے میں الاقصیٰ ہسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایک اسرائیلی حملے میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے، جبکہ درجنوں زخمی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ البریج پناہ گزین کیمپ پر حملے میں بھی چار افراد شہید ہو گئے۔

ہسپتال بند ہونے کے قریب، طبی عملے کی فریاد
دوسری جانب غزہ کے دو بڑے ہسپتالوں نے ایندھن کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری امداد نہ پہنچی تو ہسپتال ’خاموش قبرستانوں‘ میں بدل جائیں گے۔

غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ ہسپتال میں 100 نوزائیدہ بچے اور 350 گردے کے مریض ہیں، جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ "اگر آکسیجن بند ہو گئی، تو ہسپتال ہسپتال نہیں رہے گا۔ لیبارٹری، بلڈ بینک، سب کچھ بند ہو جائے گا، اور ہم صرف لاشیں اٹھا رہے ہوں گے،" انہوں نے کہا۔

عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل
غزہ کئی ماہ سے اسرائیلی محاصرے کا شکار ہے، جہاں خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی سخت قلت ہے۔ موجودہ صورتحال میں طبی عملے اور ہسپتالوں کا نظام مکمل طور پر جواب دینے کے قریب ہے۔

ہسپتالوں کی جانب سے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ فوری طور پر مدد فراہم کی جائے، ورنہ بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹیگز: