Wed, September 16, 2026

ایران میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے: ہلاکتیں، گرفتاری اور ملک گیر کشیدگی

ایران میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے: ہلاکتیں، گرفتاری اور ملک گیر کشیدگی

تہران:ایران میں مظاہرے اب 100 سے زیادہ شہروں تک پھیل گئے ہیں۔ تشدد کے دوران کم از کم 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، اور تقریباً 2200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مظاہرین نے عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی، ایرانی پرچم پھاڑا اور سابق فوجی رہنما قاسم سلیمانی کے مجسمے کو گرادیا۔

ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے تاکہ اطلاعات کا پھیلاؤ محدود رہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ وہ کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے اور قوم کو متحد رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران میں کرائے کے فوجی برداشت نہیں کیے جائیں گے اور مظاہروں میں شامل کچھ افراد امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

خامنہ ای نے امریکی صدر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک کی فکر چھوڑیں اور اپنے ملک پر توجہ دیں۔

یہ مظاہرے ایران میں حکومت اور عوام کے درمیان کشیدگی اور بین الاقوامی دباؤ کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔

ٹیگز: