Wed, September 16, 2026

بسنت تماشا 

بسنت تماشا 

میں لوگوں کو اْداس نہیں دیکھ سکتا، لوگوں کو ایک حد میں رہ کر خوش ہوتے ہوئے دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے، دْکھ مجھے اْس وقت ہوتا ہے جب اپنی کوئی خوشی مناتے بعض لوگ اْس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جو اللہ کی ناراضی کا ہوتا ہے یا اْس کے عذاب یا قہر کو دعوت دینے کا ہوتا ہے، ’’بڑھک‘‘ کو میں تکبر ہی کی ایک قسم سمجھتا ہوں، یہ ایک ’’بڑا بول‘‘  ہے، انسان کو ہمیشہ عاجزی اختیار کرنی چاہیے، عاجزی اللہ کو بڑی پسند ہے، بسنت پر کرائے کے یا اپنے کچھ ذاتی کوٹھوں پر چڑھے ہوئے کچھ لوگ جب بڑھکیں لگا رہے تھے مجھے ڈر لگ رہا تھا ایک روایتی تہوار جس کی اجازت حکومت پنجاب نے صرف لاہور کے لیے دی ہے اْسے کسی کی نظر نہ لگ جائے، کوئی ایسا بڑا واقعہ حادثہ یا سانحہ نہ ہو جائے بسنت کے سارے رنگ پھیکے پڑ جائیں، میرے عزیز چھوٹے بھائی عاصم صدیقی نے ملک زمان نصیب کے ساتھ مل کر اندرون لاہور اعظم کلاتھ مارکیٹ کی ایک بڑی چھت پر بڑے خوبصورت پروگرام ترتیب دیئے ہوئے تھے، مختلف سماجی و ثقافتی شخصیات کو مدعو کیا ہوا تھا، پہلے روز گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر بھی تشریف لائے، بسنت کے حوالے سے عکاشہ گل اشرف، ایمن جعفری اور مقدس یٰسین نے مجھ سے بھی گفتگو کی، میں نے عرض کیا جس شان و شوکت سے ہماری پنجاب سرکار یا وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے والد کے حکم یا خواہش پر بسنت کی نہ صرف اجازت دی بلکہ سرکاری سطح پر اسے تین یوم تک ایسے منانے کا اہتمام کیا جیسے ’’عید الفطر‘‘ یا ’’عید الضحی‘‘ منائی جاتی ہے ایسے ہی ہمارے جو قومی یا مذہبی تہوار ہیں یا ہماری جو قومی شخصیات ہیں جنہوں نے تصوف، ادب یا دیگر اہم شعبوں میں انتہائی یادگار کارنامے کئے اْن کے لیے بھی سرکار ایسی ہی شان و شوکت کا اہتمام کرے اور یہ پچیس کروڑ کا ہجوم اگر واقعی قوم کہلوانا چاہتا ہے اْسے بھی ان قومی تہواروں یا قومی شخصیات کی قدر ایسے ہی جوش و جذبے سے کرنی چاہیے جیسے جوش و جذبے سے وہ بسنت کی کر رہے ہیں، میں اس بسنت میلے میں شریک مختلف شعبے کی اہم شخصیات سے گھل مل رہا تھا، لوگ مختلف پکوان انجوائے کر رہے تھے، ڈھولچی ڈھول بجا رہے تھے، کچھ لوگ گڈیاں اور پتنگیں اْڑا رہے تھے، اپنے اپنے انداز میں انجوائے کر رہے تھے، خوش ہو رہے تھے، البتہ کچھ قریبی چھتوں پر کچھ نوجوان حتیٰ کہ کچھ بابے اور بیبیاں سرعام ’’دم والا پانی‘‘  پی رہے تھے، غیرضروری طور پر بڑھکیں لگا رہے تھے، ایک دوسرے کو ایسی غلیظ گالیاں دے رہے تھے جیسے یہ گالیاں بسنت کا باقاعدہ حصہ یا ضرورت ہوں، میں خوشی کی اس قسم سے بڑا دکھی ہوتا ہوں، سو پہلے سے سہما ہوا ڈرا میرا دل مزید سہمتا جا رہا تھا کہیں کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ نہ ہو جائے جس سے اور تو پتہ نہیں کسی کی خوشیوں کو نظر لگتی ہے یا نہیں اْن بیشمار لوگوں کی خوشیوں کو نظر لگ جائے جو بڑے حساس ہوتے ہیں جو دوسروں کے دْکھوں کو اپنا دْکھ سمجھتے ہیں جو کسی ٹہنی سے ایک پتا ٹوٹ کر گر پڑنے پر اْداس ہو جاتے ہیں، میرا موبائل بند تھا، واپس اپنی نشست پر بیٹھ کر میں نے اپنا موبائل آن کیا بیوروکریٹس اور سینئر جرنلٹس کا ایک واٹس ایپ گروپ ہے جو ہمارے عزیز چھوٹے بھائی، حسن رضا نے بنایا ہوا ہے، میں نے دیکھا اْس میں ہمارے سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے اپنی ایک ٹویٹ شیئر کی ہوئی تھی جس میں اْنہوں نے اسلام آباد بم دھماکے کی اطلاع دی تھی، پہلے مجھے لگا یہ اْن کی کوئی پرانی ٹویٹ ہے مگر جب میں نے غور کیا یہ اْن کی دس منٹ پہلے کی ٹویٹ تھی، اس ٹویٹ میں اْنہوں نے بتایا تھا ’’اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش دھماکے میں بیشمار لوگ شدید زخمی ہو گئے ہیں’’، میرا دل یک دم بیٹھ گیا، میں نے بسنت کی اس تقریب میں مختلف شہروں سے اپنے بے شمار دوستوں اور عزیزوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا، مجھے پتہ تھا عاصم صدیقی بہت محنتی ہے، وہ بسنت میلے کو سجانے یا کامیاب بنانے کے لیے دن رات ایک کر دے گا جس کے نتیجے میں بسنت کے یہ تین روز بڑے یادگار گزریں گے، چنانچہ اسی لئے میں نے دوسرے شہروں میں مقیم اپنے بیشمار عزیزوں اور دوستوں کو مدعو کر لیا تھا، دھماکے نے ہمارا پہلا روز ہی برباد کر کے رکھ دیا، میں نے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے اپنے عزیز بھائیوں اور دوستوں کو دھماکے کے بارے میں نہیں بتایا، میں نہیں چاہتا تھا اْن کی خوشیاں بھی ویسے ہی اچانک برباد ہو جائیں جیسے یہ خبر سْن کر میری خوشیاں برباد ہو گئی تھیں، میں نے اْن سب سے کہا ’’میرے گھر اچانک کچھ مہمان آ گئے ہیں، مجھے اجازت دیں‘‘، میں وہاں سے نکل آیا، کچھ دیر بعد اس خود کش حملے کی مزید تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئیں، مختلف واٹس ایپ گروپوں میں کچھ انتہائی دل دہلا دینے والے مناظر شیئر ہونے لگے، ہر طرف زخمیوں اور لاشوں کے ڈھیر پڑے تھے، لوگوں کی چیخ و پکار تھی، میرا خیال تھا اس سانحے کے بعد پنجاب سرکار فوری طور پر بسنت منسوخ کرنے کا اعلان کر دے گی، یا اسے اگلے ہفتے پر ملتوی کر دے گی۔ اندھا دھند بسنت مناتے ہوئے لوگوں کو اپنے طور پر بھی یہ احساس نہ ہوا وہ اس سانحے کے باعث اپنی خوشیوں، بڑھکوں، ڈھول ڈھمکوں، رقص و سرور کو تھوڑا محدود کر دیں، ختم تو ظاہر ہے وہ کر نہیں سکتے تھے، کروڑوں روپے اْن کے لگے ہوئے تھے، یہ لوگ اپنی عیاشیوں پر کروڑوں خرچ کر دیتے ہیں فلاح کے کسی کام پر اْن کی توجہ کوئی دلا دے، ’’آج کل کاروبار میں بڑا مندا ہے، بزنس ٹھپ پڑے ہیں، اپنا ہاتھ بڑا تنگ ہے‘‘ جیسے کئی جواز یا بہانے وہ تراش لیتے ہیں سو ان لوگوں پر اس سانحے کا ذرا اثر نہیں ہوا، اْن کے شوق تماشے ڈھول ڈھمکے، شغل بڑھکیں مسلسل جاری رہے، البتہ وزیراعلیٰ  نے اس سانحہ کے دکھ میں بسنت کی کسی بھی تقریب میں شرکت نہیں کی۔
 (جاری ہے)

ٹیگز: