Wed, September 16, 2026

افغان رجیم کی ڈرامے بازی!

افغان رجیم کی ڈرامے بازی!

جب سے طالبان رجیم نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے تب سے ہر گزرتا دن افغان عوام کے لئے بدترین ثابت ہوا ہے۔ اس ٹولے سے پاکستان کے اندر شر انگیزی پھیلا کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ ایک بگڑا ہوا گروہ ہے جس کا انسانیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کابل کی ڈرامے بازیاں اس وقت عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی تحفے میں ملے ہتھیار اور ڈرونز اپنے ہی پاس سے برآمد کر کے پاکستان پر تہمت لگا کر دنیا کو بھی حیران کر دیا۔ یقینی طور پر افغان طالبان انتظامیہ کی نادانی اور بچگانہ حرکات اب عالمی سطح پر مذاق بن چکی ہیں، جہاں اپنے ہی اڈوں پر بکھرے امریکی اور غیر ملکی ہتھیاروں کو ’برآمد‘ دکھا کر پاکستان پر سمگلنگ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکی انخلا کے بعد کروڑوں ڈالر کا نایاب ملٹری اسلحہ اور نائٹ ویژن گیجٹس طالبان کے ہاتھوں میں مفت لگے، مگر حیرت انگیز طور پر جب بھی افغان سکیورٹی فورسز اپنے ہی گوداموں یا اپنے ہی گلی کوچوں میں تلاشی لیتی ہیں تو انہیں وہاں سے ’پاکستان کا بنایا ہوا‘ اسلحہ مل جاتا ہے! کابل کے ان نااہل حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ اپنے گھر میں بکھرا کباڑ خود پکڑ کر دنیا کے سامنے مظلوم بننے کا یہ مزاحیہ تھیٹر روزانہ پیش کیا جاتا ہے۔ طالبان حکومت ایک طرف تو ایکس (ٹویٹر) کے برائے نام بلیو ٹک خریدنے اور اسرائیل سے وائرل ہونے والے ہیش ٹیگز کے ذریعے سستی شہرت حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے، اور دوسری طرف ان کے ’اعلیٰ سائنسی محققین‘ اسلحے کا اصل ذریعہ ڈھونڈنے کے لیے اپنی ہی جیبوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ جس ملک میں بلیک مارکیٹ، غیر قانونی اسلحہ فروشی اور عالمی دہشت گردوں کا میلہ لگا ہوا ہو، وہاں کی بارڈر فورسز کا اپنی ہی چوکی سے ملنے والی بندوق پر پاکستان کا لیبل چپکانا ان کے عقل و فہم اور شاندار ’ریسرچ کوالٹی‘ کا کھلا ثبوت ہے۔ سچائی یہ ہے کہ افغانستان اس وقت دنیا بھر کے دہشت گردوں، ٹی ٹی پی اور غیر قانونی اسلحے کی خریداری کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ افغان طالبان جو خود غیر ملکی ڈرون ٹیکنالوجی اور ایکس کے اکاو¿نٹ سنبھالنے میں ناکام ہیں، اب سرحد پار الزام تراشی کر کے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ کابل کی اس کامیڈی سرکس اور ڈرامے بازی پر اب خود ان کے اپنے شہری اور عالمی تجزیہ کار کھل کر ہنس رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی چالیں اس حوالے سے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا ہمیشہ سے ہی افغان پراپیگنڈے کا ساتھی بنا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی نیا ڈرامہ ہو بھارتی میڈیا اسے لازمی ٹیک اپ کرتا ہے اور لمبے لمبے تجزیے لینا شروع کر دیتا ہے۔ یوں معلوم ہو رہا کہ دو ہارے ہوئے ممالک ایک امن پسند ملک یعنی پاکستان کی سفارتی و عسکری کامیابیوں سے پریشان ہو کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس وقت ان دونوں ممالک کا گٹھ جوڑ نظر آ رہا ہے جو پاکستان کے خلاف سازش کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ ہر گزرتا دن بد سے بدترین ہوتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول ہیں۔ ہر طرف پریشانی اور نا امیدی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان بدترین نہج پر پہنچ چکا ہے۔ اس کی تمام وجوہات کا تعین کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ افغان رجیم نے حالات کو خراب سے خراب تر کر دیا ہے۔ ایک ایسی نام نہاد حکومت جو اپنے شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہو وہ کیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ امن سے رہ سکتی ہے؟ ایسی رجیم کی کوئی گارنٹی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان حکومت بد حواس ہو کر الٹے سیدھے بیانات داغ رہی ہے۔ پاکستان نے اپنے شہریوں کا تحفظ کرنے کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔ پاکستانی فورسز نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ایسے حالات میں افغان علاقوں سے در اندازی برداشت کی جائے گی نہ ہی کوئی پراپیگنڈے پر خاموش بیٹھا جائے گا۔

ٹیگز: