Wed, September 16, 2026

اللہ۔۔۔۔پاکستان

اللہ۔۔۔۔پاکستان

جنگ اچھائی اور برائی میں ہوتی تومیرے جیسا برے سے برے حالات میں بھی پرامید رہنے والایہ گمان رکھنے میں حق بجانب تھا کہ کبھی نہ کبھی اچھائی کی جیت ہو ہی جائے گی۔ جنگ اگرنیکی اور بدی میں ہوتی تو نیکی کے غالب آنے کی توقع بدرجہ اتم موجود تھی۔ جنگ اگر امن اور بد امنی میں ہوتی تو امن کی جیت کی توقع کی جا سکتی تھی۔ جنگ اگرمحبت اور نفرت میں ہوتی تو محبت کے میدان مارنے کے امکانات ہر حال میں روشن دیکھے جاسکتے تھے لیکن کیا کریں یہاں تو جنگ ہی نفرتوں کے درمیان ہے۔ اچھے سے اچھا نتیجہ بھی نکلے گا تو نتیجہ نفرت ہی ہوگا یا کم یا زیادہ نفرت ہو سکتی ہے۔ نفرت تو بہرحال نفرت ہی ہے اچھی تو ہو نہیں سکتی۔ یہاں صرف نفرتوں کے بیج بوئے اور نفرتوں کا پھل کاٹ کر اسے جیت کا نام دے لیا جاتا ہے، مختلف تاویلیں کر کے خود کو اور اس نفرت کی جنگ میں ساتھ دینے والوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اگر وہی جنگ دوسرا جیت لے تواس سے بڑا معرکہ بپا کرنے کی تدبیریں کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں اسلامی معاشرہ قائم ہے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے لیے بنا ہے اسلام کا قلعہ ہے یہ۔ ایسے نعرے صبح شام گونجتے ہیں۔ قائد اعظم اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ہاں قائداعظم اس ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہوں گے اسی لیے ان کے ساتھ آخری ایام میں ایسا سلوک کیا گیا اور زیارت ریذیڈنسی جہاں انہوں نے آخری دنوں میں قیام کیا اس کو دہشتگردوں نے ایسے جلایا کہ اس راکھ میں نفرتوں کے الاؤ جلتے دیکھے جا سکتے تھے۔ جس قائد نے یہ معاشرہ بنانے کا جرم کیا اس کی ایک ایک نشانی کو مٹانے کے لئے پوری رات ’’محنت‘‘ کی گئی اور تو اور ان مناظر کو پوری طرح فلمایا اور ریلیز کیا گیا کہ سب لوگ دیکھ لیں اسلامی معاشرے کاخواب ایسے شرمندہ تعبیر کیاجاتاہے۔
اسلام آفاقی دین ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ بھی، لیکن مسلمانوں کی تاریخ تو ایسی ہی ہے، نفرتوں سے بھرپور، محلاتی سازشوں سے اٹی ہوئی، قدم قدم پر دھوکہ دہی اور نفرتوں کی عمارتیں بنی پڑی ہیں۔ سلطنت بنو امیہ کا ذکر ہو یا برصغیر کے مغلوں کی بادشاہت، شہنشاہوں کے سر شہنشاہوں اور شہزادے شہزادوں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔ عدم برداشت اور سب کچھ بڑھ کر چھین لینے کی روش نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہماری پستی کا یہ عروج کہ جب بھی کسی اچھائی کی مثال دینا ہو تو چودہ سو سال کی تاریخ چھوٹی پڑجاتی ہے اور مغربی معاشرے ہمارے لیے مشعل راہ بنے نظر آتے ہیں۔
عدم برداشت نے اس ملک پاکستان کی بنیادیں اس قدر ہلا کر رکھ دی ہیں کہ ہمیں اپنی سیاسی سوچ، دوسرے مسلک اور نظریات سے اختلاف کرنے والا شخص زہر لگتا ہے۔ ہم عجب مخلوق بن گئے ہیں کہ جو چیز اللہ نے بات کرنے کیلئے عطا کی ہے اس کا استعمال کرنے کے ہی روادار نہیں ہوتے ہم زبان کے بجائے ہاتھ سے بات کرنے میں یدطولیٰ حاصل کر چکے اور ہاتھ سے بھی آگے بندوق کا دھانا بولتا ہے۔ کوئی اس بات کا عزم لے کر سوتا ہے کہ کل جو شیعہ ملے گااس کو قتل کر کے صحابہ کرام کے دفاع کا حق اداکردوں گا اور کوئی اس تاک میں رہتا ہے کہ معاذاللہ حضرت علیؓ کو پہلا خلیفہ نہ قبول کرنے والے کو زندہ چھوڑدیا تو یوم محشر کہیں کافروں سے نہ اٹھایا جائوں۔ کل شمس الرحمان معاویہ قتل ہوتاہے تو آج ناصر عباس پر زندگی تنگ ہونا ضروری ہے۔ صبح مولانا علی اکبر کمیلی کاجنازہ اٹھتا ہے تو شام کو مولانا مسعود کی زندگی کا چراغ گل کرنا فرض بن جاتا ہے۔ کیا یہ سب کچھ عدم برداشت کے علاوہ بھی کچھ ہے؟
کیا یہ بھی عدم برداشت ہی نہیں کہ عمران خان صاحب ایک کنٹینر پر چڑھ کر ہر روز سچ جھوٹ بولتے رہے کہ انہیں کسی اور کے ہاتھ میں طاقت گوارا ہی نہیں تھی؟ اور پھر اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالتے وقت یہ بھول گئے کہ کرما اور مکافات عمل نامی پرندہ ابھی مرا نہیں ہے؟ اب وہ سب کچھ خود جھیل رہے ہیں جو انہوں نے اپنے مخالفین کے ساتھ روا رکھا؟ بلکہ اس سلوک سے بھی کہیں زیادہ، بڑھ کر اور دو چند۔ اب سننے میں آیا ہے کہ انہوں نے حکم کیا ہے کہ چودہ اگست والے دن بھی احتجاج کی کال دی جائے؟ مطلب کچھ بھی؟ کیا پاکستان کے یوم آزادی کے دن وہ حرکتیں کسی پاکستانی یا کسی سیاسی جماعت کو زیب دے سکتی ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کی سوچ اورخواہش ہو؟ عمران خان صاحب کو ہر کوِئی یہاں تک کہ ان کے اپنے لوگ انہیں کہہ چکے کہ سیاسی مذاکرات کا ڈول ڈالیے لیکن وہ بضد کہ پہلے مجھے وزیراعظم کی کوسی پیش کرو پھر بات ہوگی؟
آئیں اس اگست کے مہینے میں دیکھتے ہیں کہ جس قائد اعظم کو اس کی قوم نے مطلب نکل جانے پر چھوڑدیاوہ کیسا پاکستان چاہتے تھے مختلف کتابوں میں روایت کیا گیا ایک واقعہ کہ جب آپ زیارت ریذیڈنسی میں قیام پذیر تھے توصحت اتنی خراب ہوئی کہ آپ نے کھانا پینا انتہائی کم کردیا،ڈاکٹر نے محترمہ فاطمہ جناح کومشورہ دیا کہ قائد کو کھانے کی طرف راغب کرنے کیلئے ان کا پسندیدہ کھانا بنایا جائے، محترمہ فاطمہ جناح نے بتایاکہ بمبئی میں ایک باورچی تھا جس کے ہاتھ کاکھانا قائد بہت شوق سے کھاتے تھے وہ باورچی اب لائلپور(موجودہ فیصل آباد) میں ہے۔وہ اگر آجائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔انتظامیہ کو حکم ہوا اوپر سے نیچے تک مشینری حرکت میں آئی اور باورچی زیارت پہنچا دیا گیا، باورچی نے کھاناپکایا جوقائد کو پسند آیا پوچھاکس نے پکایا محترمہ فاطمہ جناح نے فرمایا آپ کے بمبئی والے خانساماں نے،پوچھا وہ یہاں کیسے پہنچا؟ تو انہیں سارا قصہ سنایا گیا۔ یہ سب سن کر قائد سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میری ذات کیلئے سرکاری ذرائع اور مشینری کیوں استعمال کی گئی، اس باورچی کا یہاں آنے تک کا سارا خرچہ میری جیب سے ادا کیا جائے اور میری ناراضی ان تک پہنچا دی جائے جنہوں نے سرکاری خرچ سے یہ کام کیا۔
آخری ایام میں آپ کی تیمارداری کیلیے محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ایک نرس کو متعین کر دیا گیا۔ ایک دن نرس نے آپ کابخار چیک کیا تو قائد نے نرس سے پوچھا کہ کتنا بخار ہے۔نرس نے کہا کہ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر وہ نہیں بتا سکتی۔ قائد اعظم دل ہی دل میں خوش ہوئے کہ اس نرس نے گورنرجنرل پاکستان کے سامنے میں بھی قانون کی پیروی کی ہے۔
11ستمبر کو9بجے شب محترمہ فاطمہ جناح نے ڈاکٹروں کو فون پر اطلاع دی کمزوری بہت ہوگئی ہے بے قراری میں اضافہ ہوگیا آپ فوری چلے آئیں۔قائد اعظم کے یہ آخری لمحات تھے ڈاکٹر آگئے کئی ٹیکے لگائے گئے لیکن آپ جانبر نہ ہوئے۔ چند منٹ بعد دل ڈوبنے لگااورسانس رکنے لگیں۔آپ کے منہ سے نکلا۔۔
اللہ۔۔۔۔۔پاکستان
اس یوم آزادی پر تمام تردعائیں اس وطن کے لیے کہ یہ آزاد رہے، شاد رہے آباد رہے۔ ہم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو معرکہ حق میں شکست دے چکے اللہ کرے ہم اندرونی دشمنوں پر بھی فتح یاب ہوں اور نفرتوں کو محبتوں میں بدل سکیں۔۔آمین

ٹیگز: