Wed, September 16, 2026

سرمایہ کارسٹاک مارکیٹ کو ترجیح بنائیں

سرمایہ کارسٹاک مارکیٹ کو ترجیح بنائیں

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میںصرف سیاسی ہی نہیں اقتصادی معاملات میں بھی بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ حالات تو ایسے بدل رہے ہیں کہ کل جو چیز سونے کی کان لگتی تھی، آج وہی بوجھ بن چکی ہے۔
ایک وقت تھا کہ اگر کسی کے پاس کچھ پیسے موجود ہوتے تو اسے سب سے پہلا مشورہ یہی ملتا، یار کوئی پلاٹ وغیرہ لے لو۔ لوگ رئیل سٹیٹ میں سرمایہ کاری کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتے تھے۔ اس کے علاوہ ماضی میں ذرائع آمدنی ظاہر کرنے پر بھی اتنی سختی نہ تھی اس لیے بلیک منی کا ایک بڑا حصہ بھی یہیں آتا تھا ۔ کہیں بھی پلاٹ خریدا، سال دو سال بعد بیچا تو اچھی خاصی کمائی ہو جاتی تھی۔ بعض لوگ تو کہتے تھے، زمین سونا ہے، وقت کے ساتھ بس بڑھتی ہی ہے اور شائد یہ بات اس وقت کے حساب سے بالکل ٹھیک بھی تھی۔
وقت کا پہیہ گھوما اوراب حالت ہو چکی ہے کہ جن کے پاس پلاٹ یا مکان ہے، وہ بیچنا چاہیں تو خریدار نہیں ملتا۔ اگر ملتا بھی ہے تو ایسی کم قیمت بتاتا ہے کہ سن کر آدمی کا دل بیٹھ جائے۔ بہت سے لوگ تو اشتہار دے دے کر اور پراپرٹی ڈیلرز کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں لیکن انہیں مناسب دام نہیں مل رہے۔
اس سب کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی ذرائع آمدنی ظاہر کرنے کے حوالہ سے سختی ہے پھر بے شمار ٹیکس اور اوپر سے ہوش ربا مہنگائی نے رئیل سٹیٹ کے سرمایہ کار کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ پہلے لوگ جمع پونجی سنبھال کر رکھتے اور جائیداد میں لگا دیتے تھے۔ اب حالات ایسے ہیں کہ زیادہ تر لوگ مہینے کے آخر تک خرچے پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ اوپر سے حکومت نے جائیداد پر ٹیکس اور کاغذی کارروائی بڑھا دی ہے۔ بلیک منی کا بہاؤ جو پہلے ریئل اسٹیٹ میں آتا تھا اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعمیراتی لاگت اتنی بڑھ گئی ہے کہ گھر بنانے کا خواب بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
 پھر ریئل سٹیٹ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پیسہ پھنس جاتا ہے۔ کروڑوں کا پلاٹ ہو، مگر جب تک بکے گا نہیں، وہ پیسہ بس کاغذی ہے، ہاتھ میں کچھ نہیں آتا۔ بیچنے میں مہینے لگ جاتے ہیں، کبھی سال بھی۔ آج کے دور میں جہاں ہر کوئی چاہتا ہے کہ ضرورت پڑے تو پیسہ فوراً دستیاب ہو، یہ ایک بڑی مشکل ہے۔
اب بینکوں میں فکسڈ ڈیپازٹ وغیرہ کی بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جب سٹیٹ بینک کا منافع (انٹرسٹ ریٹ) بہت زیادہ تھا، 20، 22 فیصد تک، تو لوگ خوش تھے۔ نہ محنت، نہ خطرہ، بس پیسہ رکھو اور منافع لو۔ بزرگ اور پینشنر خواتین و حضرات تو خاص طور پر مطمئن تھے کہ ہر مہینے یا ہر تین مہینے بعد ایک معقول رقم ہاتھ میں آ جا تی تھی۔
یہ خوشی اور اطمینان بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان نے شرح منافع میں خاطر خواہ حد تک کمی کر دی ہے۔جس کی وجہ سے فکسڈ ڈیپازٹ کے فوائد اور مزے بھی ختم ہونے لگے ہیں۔
اب ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کوئی ایسا شخص جس کے پاس محدود سرمایہ ہے اور وہ اپنے آپ کو کسی بھی رسک، پریشانی یا الجھن میں ڈالے بغیر کوئی محفوظ سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو وہ کیا کرے؟ میرے خیال میں تو اس کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے کہ وہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرے۔
یہاں اس بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کو جوئے کا کھیل قرار دینا انتہائی غلط ہے۔اس کے علاوہ ایک پراپیگنڈہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ، ’یہاں لوگ سب کچھ ہار جاتے ہیں‘۔ ممکن ہے کہ اس کاروبار میںکچھ لوگوں نے نقصان اٹھایا ہو لیکن یہ سب تب ہوتا ہے جب لوگ بنا سوچے سمجھے، سنی سنائی باتوں پر یا لالچ میں آ کر سرمایہ کاری کر لیتے ہیں۔ اگر سمجھداری سے، تحقیق کے ساتھ اور صبر سے کام لیا جائے تو یہی مارکیٹ سب سے زیادہ منافع دے سکتی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں آپ کا پیسہ بلاک نہیں ہوتا۔ آج خریدا، کل بیچا جا سکتا ہے۔ آپ کا سرمایہ دنوں میں نقد میں بدل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو چند لاکھ روپے کی ضرورت ہو تو آپ اپنی ضرورت کے مطابق ہی پیسہ نکالیں گے ناکہ چھوٹی سے ضرورت کے لیے کروڑ روپے کا پلاٹ یا مکان بیچا جائے۔
ہاں البتہ اس کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ کبھی مارکیٹ گرتی ہے، کبھی چڑھتی ہے۔ لیکن اگر آپ لمبے عرصے کے لیے اچھی کمپنیوں میں سرمایہ لگاتے ہیں تو وقتی گراوٹ کوئی مسئلہ نہیں بنتی۔ دنیا کے بڑے سرمایہ کار بھی یہی کہتے ہیں کہ اچھی کمپنی کے شئیرز خریدو اور صبر سے رکھو۔
مثال کے طور پر، ا گر آپ کے پاس 5 لاکھ روپے ہیں۔ آپ ایک مضبوط کمپنی کے شیئر خرید لیتے ہیں۔ وہ کمپنی سال میں ایک یا دو مرتبہ 8-10 فیصد منافع دیتی ہے، شیئر کی قیمت بھی بڑھتی رہتی ہے اور رقم بھی محفوظ رہتی ہے ۔اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز کرنے کے لیے لاکھوں روپے کی ضرورت نہیں۔ دس پندرہ ہزار روپے سے بھی شروعات ہو سکتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس کام کو سیکھنے کے بعد سرمایہ کاری بڑھائی جا سکتی ہے۔
میں خود ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا پیسہ بینک میں رکھ دیا تھا۔ جب ریٹ کم ہوئے تو وہ پریشان ہو گئے۔ پھر انہوں نے اسٹاک مارکیٹ میں اچھی کمپنیوں کے شیئر خریدے۔ اب ہر تین مہینے بعد انہیں اچھا خاصا منافع ملتا ہے، اور شیئر کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ہم نے دیر سے سہی، مگر صحیح  فیصلہ کیا ہے۔
حکومت بھی چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کی طرف آئیں۔ اس سے کمپنیاں مضبوط ہوں گی، روزگار بڑھے گا، معیشت بہتر ہوگی۔ اس لیے یہ صرف آپ کا ذاتی فائدہ نہیں بلکہ ملک کا بھی فائدہ ہے۔
 اسٹاک مارکیٹ میں کامیابی کی شرط علم اور صبر ہے۔ خاص طور پر نئے سرمایہ کاروں کو بغیر تحقیق کے کسی دوست ، بروکریا سوشل میڈیا گروپ کے کہنے پر شیئر نہیں خریدنے چاہیں اور نہ ہی ایک بار خریدنے کے بعد روزانہ قیمت دیکھ کر گھبرانا چاہیے۔ ایک بات پکی ہے کہ اچھی کمپنیاں وقت کے ساتھ کو فائدہ دیتی ہیں۔
یہ کام اتنا اچھا ہے کہ میں نے اپنے نویں جماعت کے طالبعلم بیٹے کا بھی جیب خرچ بند کر کے اسے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے کچھ رقم دے دی ہے ۔ اگرچہ وہ ٹریڈنگ کے لیے میرے ہی اکائونٹ کو استعمال کرتا ہے لیکن مطمئن اس لیے ہے کہ اب وہ اپنے مقررہ جیب خرچ سے زیادہ خود کما رہا ہے۔
آج کے حالات میں، جب رئیل اسٹیٹ میں پیسہ پھنس رہا ہے اور بینکوں کا منافع کم ہو گیا ہے، اسٹاک مارکیٹ عام آدمی کے لیے سب سے اچھا راستہ ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے پیسے کو بڑھاتاہے بلکہ آپ کو فوری ضرورت پر پیسہ نکالنے کی سہولت بھی دیتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سرمایہ کاری ملک کے اندر رہتی ہے، جو ہماری معیشت کو سہارا دیتی ہے۔

ٹیگز: