لاہور/ملتان/عارف والا : بھارت کی طرف سے اچانک دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان کے جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پانی کے بے قابو ریلوں نے درجنوں دیہات کو لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ ہزاروں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنا پڑی۔
ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، جس نے قریبی آبادیاں اپنی لپیٹ میں لے لیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں دریائے چناب کا سیلابی ریلا تباہی مچاتا ہوا 100 سے زائد بستیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ متعدد علاقے مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں۔ ریسکیو اہلکار ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
شہر کو بچانے کیلئے وہاڑی پل بند کو توڑ دیا گیا ہے تاکہ پانی کا دباؤ کم کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے آئندہ 12 گھنٹوں کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب عارف والا، بہاولنگر اور لیاقت پور میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ لیاقت پور کے قریب 35 دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں جبکہ عارف والا میں سیلابی ریلا سڑکوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹبی لال بیگ کے مقام پر مقامی لوگوں نے پانی روکنے کی کوشش کی مگر ریلا بہاولنگر روڈ کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔
افسوسناک طور پر جلال پور پیر والا میں 4 افراد سیلابی پانی میں ڈوب گئے، جن میں ایک 16 سالہ لڑکے اور 15 سالہ لڑکی کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ دو کی تلاش جاری ہے۔ ترنڈہ محمد پناہ میں کشتی الٹنے کے حادثے میں 2 خواتین جاں بحق ہو گئیں جبکہ 4 بچے لاپتہ ہیں۔
مساجد سے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ لوگ جلد از جلد متاثرہ علاقے خالی کر دیں۔ ریڈ الرٹ کے تحت شہریوں کو اونچی جگہوں پر منتقل ہونے، اور افواہوں سے گریز کرتے ہوئے صرف مستند ذرائع سے معلومات لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔