مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ عوامی حقوق کی بات کی ہے۔ 21 سال کی عمر میں گوجرانوالہ بار کا رکن بنا، ینگ لائرز آرگنائزیشن کا دوستوں نے صدر بنایا، ایم آر ڈی کا کنوینیئر رہا، شائبہ بھی ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو وقعت دیتی ہے تو الحمدللہ میں نے حمایت نہیں کی۔ کبھی جالب پسند تھے آج کے عوامی اور حساسیت کے شاعر چودھری نوید اقبال چیمہ اور حافظ انجم سعید پسند ہیں۔ مختصر یہ کہ آج کے بدلے ہوئے حالات، زمینی حقائق، حب الوطنی کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ دہشت گردی، بدترین ہمسایہ بھارت اس کی طرف سے ہماری سرحدوں کے اندر پراکسی وار۔ تین واقعات یہ واضح کرنے کیلئے کہ بھٹو، محترمہ بے نظیر شہید، نواز شریف اور زرداری کی حکمت عملی کے بعد قومی سورما فیلڈ مارشل کیوں ہے۔ دیہات میں کسان اپنی باری پر فصلوں کو پانی دیا کرتے ہیں۔ ایک زمیندار اپنے شریک (پنجابی میں ’شریکہ‘) سے کمزور تھا، اس نے اپنے بیٹے کو ننہال بھیج دیا۔ تب ڈانگ سوٹا گھسن مکے کی لڑائی ہوا کرتی تھی۔ جب بیٹا جوان ہو کو واپس لوٹا تو اس نے کہا ’ابا جی آج پانی میں لگانے جاؤں گا‘۔ باپ نے کہا ’بیٹا رات کی باری تو میں ازل سے لے رہا ہوں، صبح کی دلواؤ تو سورما مان جاؤں گا اور شریکوں کے سارے بدلے اتر جائیں جائیں گے۔ بیٹا صبح کی باری لینے چلا گیا، شریکوں نے منع کیا، اس نوجوان نے بس ایک زناٹے دار تھپڑ مارا اور ’کسی‘ کو ہوا میں لہرایا تو شریک سرپٹ دوڑ لگا گئے۔ 9/10 مئی 2025 کو فیلڈ مارشل نے ہمیں بھارت سے صبح کی باری دلائی لہٰذا وہ سورما ہے۔ دوسرا واقعہ یوں ہے کہ ایک بندہ بھینس کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ جایا کرتا تھا، دور دور سے لوگ دیکھنے آتے، اس کی خوراک اور کسرت پوچھی۔ اس نے بتایا کہ جب یہ کٹی (بچی) تھی تو میں روزانہ اس کو کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ جایا کرتا، پتہ نہیں یہ کب یہ بھینس بن گئی۔ ہم بھارت کی بدمعاشی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اس دن تک آ گئے جب یہ بھینس ہمیں کٹی ہی لگی۔ یہی صورتحال چین کی ہے اس نے بھی شریکہ ایک پریڈ ممبر میں برباد کر دیا، وہ کٹی بھی بھینس بن گئی۔ 9/10 کی رات ساڑھے چار گھنٹے میں فیلڈ مارشل بھارت کو گھٹنے نہ دکھا دیتے تو چین کی تاریخی پریڈ میں ہمیں یہ پذیرائی ملتی؟ یہ سب فیلڈ مارشل کی جرأت، ہمت اور حکمت عملی ہے ورنہ باجوہ اور عمران بھی تو وزیراعظم اور آرمی چیف ہی تھے جو کہتے تھے کہ کیا بھارت پر حملہ کر دیں۔ فیلڈ مارشل آج کا سورما ہے۔پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کے کئی ابواب ایسے ہیں جہاں قیادت کے فیصلے نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ خطے کی سیاست کو بھی نئی سمت دیتے رہے ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے ہر دور میں فوجی کمانڈ اور سیاسی قیادت کے فیصلے مرکزِ نگاہ رہے ہیں۔ حالیہ جنگی ماحول میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف میدانِ جنگ میں سٹریٹجک سوچ کا مظاہرہ کیا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا انداز قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری قیادت صرف محاذ پر نہیں بلکہ عالمی سٹیج پر بھی اپنی موجودگی اور اثرات رکھتی ہے۔ یہ سلسلہ دراصل ذوالفقار علی بھٹو کی اس خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا ہے جس نے پاکستان کو دنیا کی سیاست میں ایک الگ شناخت دی۔ وہ مغربی بلاک کی اجارہ داری کو للکارنے والے پہلے پاکستانی لیڈر تھے۔ ان کی سب سے بڑی سیاسی بصیرت یہ تھی کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی بقا کیلئے انہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی۔ ان کا مشہور جملہ کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے، آج بھی پاکستان کی دفاعی سوچ کا محور سمجھا جاتا ہے۔ اسی پروگرام کی تکمیل جو تقریباً گریٹ بھٹو نشان پاکستان کے دور کے آخر تک مکمل ہو چکی تھی اور ہم 1980-82 تک ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے تھے پھر مگر اس کا عملی اظہار 1998 میں وزیر اعظم نواز شریف کے فیصلے کے ذریعے ممکن ہوا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا بھر کے دباؤ اور معاشی پابندیوں کے خطرات کے باوجود نواز شریف نے چاغی کے پہاڑوں کو گواہ بنایا اور پاکستان کو اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت کا درجہ دلایا۔ نواز شریف کو اس فیصلے پر شدید عالمی دباؤ کا سامنا رہا لیکن قوم کی اجتماعی امنگ اور عسکری قیادت کے مشورے نے انہیں تاریخ کے اس موڑ پر ثابت قدم رکھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید دختر مشرق نے جدید میزائل سسٹم دیئے بعد ازاں آصف علی زرداری کی سیاسی حکمت عملی نے پاکستان کو ایک اور پہلو سے سہارا دیا۔ انہوں نے عسکری دباؤ کے بجائے سیاسی اور جمہوری نظام کو استحکام دینے پر زور دیا۔ ان کی حکمت عملی زیادہ تر پسِ پردہ اور سفارتی سطح پر تھی، جہاں انہوں نے امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے انداز سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کا دور اگرچہ تنقید کی زد میں رہا، مگر انہوں نے آئینی ترامیم کے ذریعے اختیارات پارلیمان اور وزیر اعظم کو منتقل کر کے سیاسی ڈھانچے کو مستحکم کیا۔ یہ دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان کی طاقت صرف عسکری قوت نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل میں بھی مضمر ہے۔ یوں پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ چاہے وہ میدانِ جنگ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جرأت مندانہ قیادت ہو، بھٹو صاحب کی دور اندیش خارجہ پالیسی ہو، نواز شریف کا ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ ہو محترمہ بینظیر بھٹو شہید میزائل ٹیکنالوجی یا صدر آصف علی زرداری کی سیاسی حکمت عملی، ہر دور میں قیادت نے اپنے انداز میں ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کیا۔ ان سب فیصلوں نے پاکستان کو ایک ایسا ملک بنایا جو نہ صرف عسکری طاقت رکھتا ہے بلکہ سیاسی بصیرت اور عالمی سفارتکاری کے میدان میں بھی اپنی پہچان رکھتا ہے۔ یہی تسلسل پاکستان کی اصل طاقت ہے جو آنے والے دور میں بھی ملک کو مشکلات کے باوجود راستہ دکھاتا رہے گا۔