سپریم کورٹ آف پاکستان کا نیا عدالتی سال ہر برس آٹھ ستمبر سے ہوتا ہے اور اسی سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب میں گزشتہ روز ہم بھی شریک تھے۔ معروف قانون دان ملک حیدر عثمان کے ساتھ ہم بھی اس لیے شریک تھے کہ دیکھتے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آفریدی اپنی تقریر میں ان چھ سوالوں کے جواب دیتے ہیں کہ نہیں، جو دو روز قبل سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے سات صفحات پر مشتمل خط میں پوچھے تھے۔ خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے یہ بھی لکھا تھا کہ خط لکھنے والا کوئی عام جج نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال میں سب سے زیادہ مقدمات نمٹانے والا منصف ہے جس نے 3954 کیسز کا فیصلہ کیا اور پینتیس ایسی ججمنٹس لکھی ہیں جو حوالہ جاتی کتب میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ تقریب شروع ہوئی تو سٹیج پر رکھی تین کرسیاں ہمارے لیے تجسس کا سبب تھیں کہ ان پر کس کو بٹھایا جائے گا مگر وہ تینوں کرسیاں آخر تک خالی رہیں اور سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان ہال میں اولین نشستوں پر تشریف فرما رہے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کی تقریر واقعی ایک شاندار گفتگو تھی جس میں سال گزشتہ کی کارکردگی اور آئندہ سال کی امیدوں کے ساتھ ساتھ عزم بھی دکھائی دیتا رہا۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل طاہر نصراللہ وڑائچ نے لکھی ہوئی تقریر کو پہلی بار پڑھ کر سنایا اور صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف عطا نے بے ترتیب جملوں کے باوجود وکلا کے مسائل پر مبنی مطالبات اپنے ہدف تک اس مؤثر انداز میں پہنچائے کہ چیف جسٹس صاحب نے اپنی تقریر انہی مطالبات تک محدود رکھی اور جسٹس منصور علی شاہ کے سوالات ہمیشہ کی طرح اپنے جوابات کی بازگشت سے خالی رہ گئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدالتی اصلاحات، شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بروقت انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے، دور حاضر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال ناگزیر ہے، عدالتی اصلاحات کی بدولت زیر التوا مقدمات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا تھا جبکہ 2004 سے اسے باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور آنے والے سال کے اہداف طے کرے۔ عدالتی اصلاحات کے حوالے سے چیف جسٹس نے بتایا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی اور 5 نکات پر مبنی اصلاحاتی عمل شروع کیا گیا، سپریم کورٹ میں ڈیجیٹل فائلنگ اور ای سروسز کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظامِ انصاف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہونا چاہیے لیکن ہم فی الحال اس کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 61 ہزار فائلیں ڈیجیٹلی سکین کی جائیں گی اور یہ پراجیکٹ 6 ماہ میں مکمل ہو گا۔ مقدمات کی فہرست بندی (فکسنگ) مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے کی جائے گی اور ڈیجیٹل سکین پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد عدالت میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا باقاعدہ استعمال شروع ہو گا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ شفافیت کے لیے اندرونی آڈٹ کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے، سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف 64 شکایات کا فیصلہ ہو چکا، 72 شکایات رائے کے لیے ممبرز کو دی گئی ہیں، رواں ماہ کے آخر تک سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ ہو گی اور باقی 65 کیسز بھی ججز کو دے دئیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ ان کے ساتھ سکیورٹی کی 9 گاڑیاں تعینات تھیں تاہم انہوں نے سکیورٹی کم کر کے صرف 2 گاڑیوں تک محدود کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چونکہ ریڈ زون میں عدالت اور رہائش واقع ہے، اس لیے اتنی زیادہ سکیورٹی کی ضرورت نہیں تھی۔ میرے اور ججز کے ساتھ سکیورٹی میں کمی کی گئی ہے تاہم اسلام آباد سے باہر جانے پر ججز کو سکیورٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن ریڈزون میں اتنی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ رولز میں ججز کی چھٹیوں کے حوالے سے واضح طریقہ کار موجود ہے۔ عدالتی تعطیلات کے دوران ججز کو کسی قسم کی اجازت درکار نہیں ہوتی، تاہم عام تعطیلات کے علاوہ اگر کوئی جج چھٹی لینا چاہے تو اس بارے میں بتانا لازمی ہو گا۔ جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ عدلیہ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، آئین اور قانون کی پاسداری شفافیت کو یقینی بناتی ہے اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا آئین کی اصل خوبصورتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت زیر التوا مقدمات میں کمی آئی ہے جس پر سپریم کورٹ کے ججز و افسران تعریف کے مستحق ہیں۔ تقریب ختم ہو گئی مگر جسٹس منصور علی شاہ کے سوال اپنی تشنگی سمیت وہیں کھڑے ہیں جہاں وہ خط میں لکھے گئے تھے مگر غور سے دیکھا جائے تو تین سوالات کے جواب تو تقریر میں موجود تھے البتہ تین سوالات کے دامن اب بھی خالی ہیں۔ تقریب میں تمام جج صاحبان کا شریک ہونا بہت سے لوگوں کی توقعات کے برعکس تھا۔