پچھلے چار دنوں سے لوگ مسلسل مجھ سے پوچھ رہے ہیں سینٹرل گروپ آف کالجز کے سربراہ میاں عادل رشید کے چھبیس سالہ اکلوتے بیٹے میاں احمد جاوید کے با اثر قاتل اب تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے ؟ علاوہ ازیں لوگوں کا یہ سوال بھی بہت اہمیت کا حامل ہے سی سی ڈی صرف باا ثر لوگوں کوہی اپنی جائز ناجائز طاقت کا نشانہ کیوں بناتی ہے ؟ میں ان تمام سوالوں کے جوابات آپ کو اپنے اگلے کالم میں تفصیل سے دوں گا ، فی الحال عرض اتنی ہے احمد جاوید مرڈر کیس سی سی ڈی کے پاس ابھی گیا ہی نہیں ، حالانکہ جس وحشیانہ انداز میں با اثر ملزمان سرعام فائرنگ کر رہے تھے جس کی بیشمار ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں یہ کیس بنتا ہی اْس سی سی ڈی کا ہے جس پر لاہور پولیس سے کہیں زیادہ اب لوگ اعتماد کرتے ہیں ،ایک کاروباری اعلیٰ پولیس افسر کی وجہ سے لاہور پولیس جتنی ذلیل و رسوا اور بدنام اب ہو رہی ہے ماضی میں اْس کی کوئی مثال نہیں ملتی ، تمام تفصیلات مقتول احمد جاوید کے والد میاں عادل رشید کے نوٹس میں ہیں کہ کس طرح لاہور پولیس کا ایک اعلیٰ افسر اپنے کاروباری دوستوں کے لئے اس کیس کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، اور ملزمان کے عزیزوں کو کیا مشورے دے رہا ہے کہ کس طرح آگے چل کر وہ اس کیس کو کمزور کر سکتے ہیں ، یہ بھی اْن کے نوٹس میں ہے کس طرح وہ اعلیٰ پولیس افسر اس کیس کے نامزد ملزمان کے قریبی عزیزوں کے ساتھ اپنے دفتر کے سائیڈ روم میں بیٹھ کر میٹنگیں کرتا ہے ، اور وہاں اپنے ایک ماتحت کو بْلا کر کیا ’’ناجائز احکامات‘‘ یا کیا ناجائز ’’گائیڈ لائن‘‘ دیتا ہے ،ابھی تک مقتول کے والد کو پولیس پر پورا اعتماد ہے مگر میں بتا رہا ہوں جوں جوں دن گزر رہے ہیں اور پولیس کی کوئی کارکردگی مقتول کے والد کے سامنے نہیں آرہی اس اعتماد میں خلل پڑتا جا رہا ہے ، آگے چل کر یہ اعتماد شاید مذید قائم نہیں رہ سکے گا ، اْس کے بعد وہ اپنا لائحہ عمل اختیار کریں گے اور عوام کے سامنے شواہد کے ساتھ تمام حقائق رکھیں گے طاقت کے کن کن مراکز سے ملزمان کو کیا کیا سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ؟ اب میں اپنی بات وہاں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اپنے گزشتہ کالم کا میں نے اختتام کیا تھا ، میں عرض کر رہا تھا مقتول احمد جاوید پانچ ماہ قبل اپنے کچھ دوستوں کو مجھ سے ملوانے لے آیا ، دوستوں کو رخصت کرنے کے بعد وہ میرے آفس میں آگیا ، اس بات پر میرا شکریہ ادا کرنے لگا میں نے اْس کے دوستوں کو بہت وقت دیا ، میں نے اْس سے کہا ’’بیٹھ جاؤ میں تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے‘‘، احمد جاوید بہت جذباتی نوجوان تھا اپنے دوستوں کی خاطر ایسی ایسی لڑائیاں مول لے لیتا تھا جن کے بارے میں بعد میں اْسے احساس ہوتا اْس سے غلطی ہو گئی ہے ، پھر جس کے ساتھ وہ لڑا ہوتا تھا خود ہی جا کر اْس سے معذرت کر کے صلح کر لیتا تھا ، میں اْس کی اس عادت سے بڑا تنگ تھا ، میں نے اْس سے کہا ’’احمد میں اگلے ہفتے تین چار ماہ کے لئے بیرون ملک جا رہا ہوں ، آپ کے والد کی صحت ٹھیک نہیں ہے ، آپ نے اْن کا خیال رکھنا ہے اور خیال رکھنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے یہ جو اپنے دوستوں کے لیے چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے آپ کرتے ہو اْن سے گریز کرنا ہے‘‘، پتہ نہیں مجھے کیا ہوا اپنی یہ گزارش اْس کے سامنے رکھتے ہوئے میں نے ہاتھ جوڑ دئیے ، اْس نے میرے جڑے ہوئے ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اپنے سینے پر رکھ لئے ، پھر میرے ہاتھ چوم کر مجھے گلے سے لگا لیا ، کہنے لگا ’’انکل آپ نے یہ میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ، آپ میرے بڑے ہیں، باپ کی طرح ہیں ، آپ نے کیوں ایسے ہاتھ جوڑے ؟ میں اپنی نظروں میں آج بہت گر گیا ہوں ، یہ سانحہ میں کبھی نہیں بْھولوں گا ‘‘ ، میں نے بات ہنسی میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اْس سے پوچھا ’’احمد آپ کو ‘‘سانحے ’’کے معنی معلوم ہیں ؟ میرا خیال تھا میری اس بات پر میری طرح وہ بھی مسکرا دے گا ، مگر وہ شاید غم کی گہری کیفیت میں تھا کہ میں نے اْس کے سامنے ہاتھ کیوں جوڑے ؟ میں نے محسوس کیا اْس کی انکھوں میں آنسو تھے ، وہ مجھ سے وعدہ کر کے چلے گیا انکل میری پوری کوشش ہوگی آئندہ آپ کو کوئی شکایت نہ ملے ، یہ بیرون ملک جانے سے پہلے میری اْس کے ساتھ آخری ملاقات تھی ، پاکستان واپسی سے ایک روز پہلے میں نے اْسے واٹس ایپ پر کال کی ، اْس سے پوچھا ‘‘تمہارے لیے کیا لے کر آؤں ؟ وہ کہنے لگا ’’انکل مجھے سوائے دعاؤں کے کچھ نہیں چاہیئے‘‘ میں نے پھر بھی اْس کے لیے ایک شرٹ اور پرفیوم لے لیا ، پاکستان واپس آنے کے بعد میری ابھی تک اْس سے ملاقات ہی نہیں ہو سکی تھی ، یہ شرٹ اور پرفیوم میرے پاس ایسے ہی پڑے رہ گئے ، اب لوگ دن میں کئی کئی بار مجھ سے پوچھتے ہیں اْس کے قتل کی وجہ کیا بنی ؟ اس قتل کی وجہ صرف اور صرف وہ حسد اور عدم برداشت ہے جو ہمارے معاشرے میں اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے کیا گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی اب خوف محسوس ہوتا ہے ، اْوپر سے ہمارے تقریباً تمام ادا رے بطور خاص ہماری پولیس اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ، کچھ پولیس افسروں کا سارا زور اندرون و بیرون ملک کاروباروں پر ہے ، یا پھر کچھ پولیس افسروں کا سارا زور و توجہ نمائشی کاموں پر ہے ، محکمہ پولیس لاہور میں ’’دیہاڑیاں‘‘ لگانے کا کاروبار کبھی ایسے نہیں چمکا تھا جیسے اب چمکتا ہے ، اگلے روز احمد جاوید کی تعزیت کے لیے ایک پولیس افسر تشریف لائے ، بوقت رخصت مقتول کے والد سے وہ کہنے لگے ’’ اپنے بیٹے کے قتل کے ’’ تفتیشی افسروں‘‘ کو خرچہ وغیرہ لگاتے رہئیے گا تاکہ وہ اس کیس میں زیادہ ڈنڈی نہ ماریں‘‘، مطلب یہ کہ ڈنڈی اْنہوں نے مارنی مارنی ہے ، بس یہ ہے مقتول پارٹی اگر ملزم پارٹی کی طرح اْن کا خیال رکھے گی پھر شاید وہ کم ڈنڈی ماریں ، ایک میٹنگ میں مقتول کے والد میاں عادل رشید نے بڑی خوبصورت بات ’’تفتیشی افسروں‘‘ اور دیگر پولیس افسروں سے کہی ، اْنہوں نے فرمایا ’’میرے بیٹے کے ساتھ ایک ظلم اْس کے قاتلوں نے کیا ہے ، اب اگر پولیس نے مجھے انصاف نہ دیا یہ اْس سے بڑا ظلم ہوگا ‘‘، پولیس افسروں کو خوف خدا دلانے کی ہر ممکن کوشش وہ کر رہے ہیں ، اللہ کرے وہ اس کا کچھ اثر قبول کریں ، ورنہ عمومی طور پرہم نے یہی دیکھا ہے جن کے پاپی پیٹوں میں حرام اْترے ہوں وہ بڑے سنگدل بڑے ظالم بڑے بے حس بڑے بے ضمیرے ہوتے ہیں ، اْن کا احساس مر چْکا ہوتا ہے ، چنانچہ اْنہیں اپنی موت بھی یاد نہیں رہتی، آج بدھ کی دوپہر تک تو اس مرڈر کا کوئی نامزد ملزم گرفتار نہیں ہوا، کل تک بھی اگر نہ ہوا پھر پرسوں آپ سے بات ہوگی ۔(جاری ہے)