اسلام آباد:پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت اور "نیوٹرل" پالیسی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔ معروف عالمی جریدے ’ایشیا ٹائمز‘ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان ایک ایسی مڈل پاور کے طور پر ابھرا ہے جو عالمی بلاکس کے درمیان پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حالیہ ’ملٹی الائنمنٹ‘ حکمتِ عملی نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ پاکستان نے کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے ۔ چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو برقرار رکھا۔ امریکہ کے ساتھ سفارتی و دفاعی روابط بحال کیے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کے نئے دور کا آغاز کیا۔
اس دوطرفہ توازن نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک "بیلنسنگ اسٹیٹ" (توازن برقرار رکھنے والی ریاست) بنا دیا ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔پاکستان کی جغرافیائی حدود اسے وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے گیٹ وے بناتی ہیں۔ جریدے کے مطابق، بدلتی ہوئی عالمی صف بندی میں پاکستان کا اسٹریٹجک وزن بڑھ گیا ہے اور وہ اب خطے کے پیچیدہ مسائل میں ایک موثر ثالث کے طور پر ابھرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
خبر میں خبردار کیا گیا ہے کہ جہاں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا گراف بلند ہو رہا ہے، وہیں معاشی عدم استحکام اور افغانستان سے جڑے سیکیورٹی چیلنجز اس کے اس ابھار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی مستقل ترقی کا دارومدار ان چیلنجز سے نمٹنے اور معاشی اصلاحات پر ہے۔