Wed, September 16, 2026

بھارتی کمان سے کشمیری تیر 

بھارتی کمان سے کشمیری تیر 

کشمیر میرے اجداد کی سرزمین جس کیلئے آج بھی دل میں وہی تڑپ ہے جو میں نے اپنے دادا دادی ¾ نانا نانی اورماں باپ کے آنسوﺅں میں دیکھی ۔ہمیں کشمیر تو وراثت میں نہیں ملا لیکن کشمیر کے دکھوںکی مکمل وراثت اپنی پوری شان سے منتقل ہوئی ہے۔ انگریزوں او ر ڈوگراراجہ نے تو جوظلم و ستم کیے وہ ایک الگ تاریخ ہے لیکن جو کچھ اپنوں کی کم عقلی اور غیر سیاسی عمل سے ہوا اُس نے بربریت اور چنگزیت کی ایک نئی داستان لکھ دی ۔بچے کو کہانی درمیان میں سے سنائیں گے تو اُسے کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔ کشمیر کی کہانی بھی ہمارے بچوں کودرمیان سے سنائی گئی ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید کشمیرکا مسئلہ 3جون 1947ءکے منصوبے پر عمل درآمد نہ ہونے یا ہری سنگھ کے بھارت سے ساز باز کا نتیجہ ہے ۔یقینا ایسا ہوا لیکن یہ کہانی کا آغاز نہیں بلکہ یہ کہانی تو16 مارچ 1846ءسے شروع ہوتی ہے جب معاہدہ امرتسرکے تحت کشمیرکو صرف 75 لاکھ نانک شاہی میں بمعہ انسانوں کے گلاب سنگھ ڈوگرا کوبیچ دیاگیا۔ یہ ظالمانہ اور غیر انسانی معاہدہ افریقا کے کسی غیر مہذب قبیلے نے نہیں کیا بلکہ دنیا میں اپنے آپ کو سب سے زیادہ مہذب کہلانے والے تاجدارِ برطانیہ کا ہے۔وہی برطانیہ جس کا شہزادہ آج امریکہ کو یہ بتاتاہے کہ اگر ہم نہ ہوتے تو امریکی انگزیز ی کے بجائے فرنچ زبان بول رہے ہوتے۔گلاب سنگھ ڈوگرا نے نے کشمیریوں پر ٹیکسوں کی ایسی بھرمار کی ہے کشمیر یوں کے پاس اپنی جنت کوچھوڑنے کے سواءکو ئی چارہ نہ تھا اور پھر گوداسپور کی طرف سے اترنے والے کشمیری امرتسر ¾ جالندھر ¾ ہریانہ ¾ہوشیار پور اور ہماچل تک جا بسے جبکہ مغربی پنجاب کی طرف اترنےوالے ناروال ¾ سیالکوٹ ¾ گجرات ¾ گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں بڑی تعداد میں آ بسے ۔ کشمیریوں کو کیا معلوم تھا کہ یہ ہجرت ابھی شروع ہو ئی ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔کشمیر برصغیر کی تاریخ کا وہ باب ہے جس کے اوراق خون، قربانی، امید اور محرومی کی داستانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ بلند و بالا پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، نیلگوں جھیلوں اور سرسبز وادیوں کی سرزمین کشمیر کو صدیوں سے ”زمین کی جنت “کہا جاتا ہے، مگر تاریخ کے ایک موڑ پر یہ فردوس سیاسی کشمکش، جنگوں اور تنازعات کا مرکز بن گیا۔ آج کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے جذبات، آرزو¶ں اور سیاسی خواہشات کا استعارہ بن چکا ہے۔
1947ءمیں برصغیر کی تقسیم کے وقت کشمیریوں کو اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے 101 سال گزر چکا تھا لیکن ہم نے اپنے بچوں کے نصاب میں اُسے شروع ہی 1947ءسے کیا اورکشمیریوں کی ایک سو ایک سالہ جدوجہد تاریخ کے اوراق سے غائب ہو گئی ۔حقیقی بدیانتی تاجدارِ برطانیہ نے کی جس نے 16 مارچ 1846 کا معاہدہ منسوح کیے بغیر 3جون کے منصوبے میں شامل کرلیا اور یہی غلطی مہاراجہ ہری سنگھ کے کام آئی اور اُس نے کشمیری قوم ایک بار پھر دو حصوں میں تقسیم ہو کررہ گئی ۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ برصغیرمیں دو خود مختار ریاستوں کی تقسیم سے قبل روس کامیاب سوشلسٹ انقلاب کرکے زمین کے سب سے بڑے ٹکرے پر قبضہ کرچکاتھا اور چین میں انسانوںکا سب سے بڑا گروہ کیمونیزم کے حق میں طوفان برپا کیے ہوئے تھا جو عالمی سرمایہ داری کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی جس کیلئے انہیں ایک ایسی مذہبی ریاست کی ضرورت بھی تھی جو روس کی سرخ آندھی کوروک سکے۔یہ تنازع قائم کرا کر مستقل بنیادوں پر ہمارے سر پر ایک ایسا دشمن بٹھا دیا گیا جس سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنے دفاع پر بہت کچھ خرچ کرنا پڑ گیا اور پاکستانی عوام کشمیر کی آزادی کی جنگ میں بہت سے ضرورتوں سے محروم ہو گئی ۔
کشمیر کا مسئلہ محض زمین کے ٹکڑے کا جھگڑا نہیں بلکہ شناخت، خودمختاری اور حقِ خودارادیت کا سوال بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے متعدد قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنی سیاسی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی بات کی، لیکن یہ قراردادیں آج تک مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکیں۔ نتیجتاً کشمیر جنوبی ایشیا کی سیاست کا سب سے حساس اور پیچیدہ مسئلہ بن گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ کشمیری معاشرہ مختلف سیاسی رجحانات میں تقسیم ہوتا گیا۔ بعض لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی رہے، بعض بھارت کے ساتھ رہنے کو بہتر سمجھتے رہے، جبکہ ایک قابلِ ذکر طبقہ مکمل خودمختاری اور آزادی کا خواہاں رہا۔ ان مختلف سیاسی خیالات کے باوجود ایک بات مشترک رہی کہ کشمیری عوام اپنی شناخت اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں م¶ثر کردار چاہتے ہیں۔
موجودہ صورتِ حال میں کشمیر بدستور سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2019ءمیں خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے نے ایک نئے سیاسی باب کا آغاز کیا۔ اس اقدام پر شدید اختلافات سامنے آئے۔ پاکستان اور بہت سے کشمیری رہنما¶ں نے اسے متنازع حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی قرار دیا، جبکہ بھارت نے اسے انتظامی اصلاحات کا حصہ بتایا۔ اس فیصلے کے بعد خطے کی سیاست اور سفارت کاری میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان آج بھی کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینا چاہتا ہے جس کیلئے پاکستان مختلف بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہا ہے اور اسے اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو سمجھتا ہے لیکن دوسری جانب بھارت اس مسئلے کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ یہی متضاد م¶قف مسئلے کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اختیارات، آئینی ڈھانچے اور مقامی خودمختاری کے بارے میں وقتاً فوقتاً اٹھنے والے سوالات ہیں۔ تاہم سب سے بڑی تعداد آج بھی پاکستان کے ساتھ گہرے مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور جذباتی رشتوں کا اظہار کرتی ہے اور پاکستان کی سیاسی و سفارتی حمایت کو اہم سمجھتی ہے۔کشمیر میں موجود تشدد کی لہر کو سمجھنے کیلئے بھارتی چینلز کو دیکھنا بہت ضروری ہے ۔جہاں وہ کھل کر اقرارکررہے ہیں کہ کشمیر میں پھیلنے والی بدامنی کو مکمل بھارتی حمایت حاصل ہے ۔سوشل میڈیا پر چلنے والے فوج مخالف کشمیری پیچیز کا تعلق پاکستان کے جغرافیے سے باہر ہے ۔کشمیریوں کے مطالبات جائز بھی ہیں اور ناجائز بھی ¾ کچھ مطالبات تسلیم کیے جا سکتے ہیں اور کچھ بالکل تسلیم نہیں ہو سکتے لیکن حل مذاکرات ہی ہے ۔ پاکستان پہلے ہی فتنہ الخوارج ¾ فتنہ الہندوستان ¾فتنہ عمرانیہ میں الجھا ہوا ہے سو کشمیریوں کو ہری سنگھ کا بیانیہ اپنانے سے پہلے یہ بات سوچ لینی چاہیے کہ اگر افواج ِ پاکستان نہ ہو تو کشمیر کو بوسینیا بنانے میں بھارت کو چند دن ہی لگیں گے ۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کو حالات کا بغور معائنہ کرکے فیصلے کرنے چاہیں یہ عجیب موقف ہے کہ لکھ کر مطالبات دیتے ہیں اور عوامی جلسوں میں افواج ِ پاکستان پربھونکنا شروع کردیتے ہیں ۔بھارتی چینلز اور انٹرنیشنل میڈیا دیکھنے کے بعد یہی معلوم پڑتا ہے کہ یہ تیر بھی اُسی کمان سے نکلا ہے جہاں سے پہلے تیر ہمارے اطراف میں برس رہے ہیں ۔

ٹیگز: