کوئٹہ:رکنِ قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے دشمن قوتوں کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بلوچستان کو الگ کرنے کا خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جب سے بشیر زیب نے کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی ہے، صوبے میں بدامنی کی آگ کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی ہے، لیکن اب ریاست اور عوام ان سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں۔
جمال رئیسانی نے واضح کیا کہ دشمن ہمیں براہِ راست میدان میں شکست نہیں دے سکتا، اسی لیے پاکستان کے خلاف ایک منظم "خاموش جنگ" لڑی جا رہی ہے جس کا ہدف ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو الرٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی جنگ پہاڑوں سے زیادہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر منتقل ہو چکی ہے، جہاں حبِ وطن قوتوں کو دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تنظیمیں اب اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو کر خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جو کہ بلوچ ثقافت کی بھی توہین ہے۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے پریس کانفرنس کے آخر میں صوبے کے مستقبل کے حوالے سے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہم کسی صورت یہ برداشت نہیں کریں گے کہ بلوچستان کا اثاثہ، یعنی ہمارے نوجوان، گمراہ کن بیانیے کا شکار ہو کر پہاڑوں کا رخ کریں۔ ہم انہیں ترقی کے مرکزی دھارے میں لائیں گے کیونکہ ان کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ قلم، تعلیم اور ملکی ترقی ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، جمال رئیسانی کا یہ مؤقف بلوچستان کے مقتدر قبائلی اور سیاسی طبقے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ اب بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے خلاف صرف عسکری ہی نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی اور ڈیجیٹل محاذ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔