دہشت گردی محض ایک واقعہ یا خبر نہیں یہ ایک ناسور ہے جو انسانی معاشرت کے وجود میں گہرا زہر گھول رہا ہے۔ یہ وہ اندھیرا ہے جو صرف راستوں اور بازاروں کو نہیں بلکہ دلوں اور دماغوں کو بھی یرغمال بنا دیتا ہے اور امن، ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ انسانی معاشرے میں اس کے اثرات وقتی نہیں بلکہ دیرپا اور تباہ کن ہیں۔ یہ نہ صرف فرد کی زندگی کے لیے خطرہ ہے بلکہ ایک پوری قوم کے شعور، اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں، یہ پوری انسانیت کے لیے ایک آزمائش ہے۔ دہشت گردی کسی ایک دن، کسی ایک دھماکے یا کسی ایک خبر کا نام نہیں یہ ایک منظم سوچ ہے، ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی اور ایک واضح ہدف رکھنے والی جارحانہ ذہنیت ہے۔ اس کا مقصد صرف جان لینا نہیں ہے بلکہ خوف کو معمول بنانا، عدم تحفظ کو پھیلانا اور معاشرے کی رگوں میں مستقل اضطراب انڈیل دینا ہوتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت اب رسمی جملوں تک محدود ہو چکی ہے حالانکہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے لیے الفاظ کی نہیں بلکہ غیر مشروط نفرت کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردانہ حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو پاکستان کو اندر سے غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھنے کے لیے برسوں سے جاری ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جب دہشت گردی سر اٹھاتی ہے تو وہ صرف جانی نقصان کا حساب نہیں مانگتی بلکہ ایمان، تحفظ اور یقین کی بنیادوں پر وار کرتی ہے۔ اس کا نشانہ ہر وہ جگہ بنتی ہے جہاں انسان نے خود کو مضبوط سمجھ لیا ہو۔ اسلام آباد میں ہونے والا حملہ بظاہر یہ صرف ایک خبر ہے مگر درحقیقت یہ ایک پرانا سوال ہے جو ہر چند ماہ بعد نئے لہجے میں ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ سوال یہاں یہ نہیں ہے کہ دھماکہ کیسے ہوا بلکہ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سلسلہ تھمتا کیوں نہیں؟ ہر بار حادثے کے بعد شدید مذمت، تحقیقات کا اعلان اور سکیورٹی الرٹ جیسے یکساں جملے دہرائے جاتے ہیں۔ چند دن کی گفتگو، سرخیاں اور پھر قومی حافظے میں ایک اور اندراج جسے جلد ہی نئی خبر دبا دیتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں انتظامی خلا، سیاسی مداخلت اور مقامی سطح پر غیر سنجیدہ رویہ دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑے مددگار ہیں۔ ان خامیوں کو دور کیے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ محض ایک خواب ہے۔ ریاست اگر دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے بیانات، اجلاس اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھنا ہو گا۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہر جگہ بلا خوف ہونی چاہیے، تعلیم اور نفرت انگیز بیانیہ کے خلاف قوانین بلا مصلحت نافذ ہونے چاہیں اور عوام کی سلامتی کو ہر سیاسی یا انتظامی دبائو سے بالاتر ترجیح دینی چاہیے۔ دہشت گردی محض بم دھماکوں یا حملوں تک محدود نہیں یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی جڑیں سماجی، سیاسی اور انتظامی کمزوریوں میں چھپی ہیں۔
قرآن اور انسانی تاریخ کے آئینے میں اس ناسور کا جائزہ لیں تو اس کی جڑیں انسانی نافرمانی، ظلم، نا انصافی اور اخلاقی زوال میں نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم میں ظلم، فساد، ناحق قتل و غارت کی مذمت اور انسانی جان کے تقدس پر زور اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ انسانی زندگی کا احترام کسی مذہب یا پھر قوم تک محدود نہیں ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’جس نے کسی ایک انسان کو بغیر کسی وجہ کے قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا‘‘۔ یہ محض ایک آیت نہیں ایک فلسفہ ہے کہ ہر قتل انسانی روح کی تباہی ہے اور ہر بچائی جانے والی جان انسانی بقا کا سنگِ بنیاد ہے۔ دہشت گری کا مسئلہ محض مذہبی یا نظریاتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے نفسیاتی، سماجی اور سیاسی عوامل کام کر رہے ہیں۔ سقراط نے کہا تھا ’جہالت سب سے بڑا ظلم ہے اور جب یہ ظلم طاقتور کے ہاتھ میں آ جائے تو فساد کو جنم دیتا ہے‘۔ یہی اصول آج دہشت گردی کے پس منظر میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کو اس عفریت کا سامنا 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد کرنا پڑا، لاکھوں افغان مہاجرین کی پناہ، مختلف گروہوں کی امداد اور عالمی سیاست کے پیچیدہ دھاگے نے یہاں انتہاپسندی کے بیج یہاں بو دئیے۔ پھر 9/11 کے بعد جب دنیا نے دہشت گردی کے خلاف نیا رخ اختیار کیا تو پاکستان خود اس جنگ کا محاذ بن گیا اور دہشت گرد تنظیمیں ملک کے ہر کونے میں خوف کی فضا قائم کرنے لگیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر اتفاقیہ نہیں یہ ریاستی کمزوری، اقتدار کی کشمکش اور حکومتی بے عملی کا نتیجہ تھی۔ یہی وہ خلا ہے جو دہشت گردوں کے لیے میدان کو ہموار کرتا ہے۔ دہشت گردی کے اندھیروں نے ہمارے سماج کو آج نہ صرف دوبارہ جکڑ لیا ہے بلکہ انسانی زندگی کے ہر لمحے کو خوف نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کی بقا کا راز امید اور شعور میں مضمر ہے۔ ہر اندھیری رات کے بعد ایک نئی صبح کی روشنی کا انتظار ہوتا ہے اور یہی وہ کرن ہے جو انسان کو خوف کے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔ ریاست کی رٹ، انصاف، تعلیم اور روزگار ہی وہ چراغ ہیں جو اس تاریکی کو ختم کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ فیض احمد فیض کہتے ہیں:
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ شعر نہ صرف موجودہ اندھیروں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی، امن اور ترقی کی صبح ابھی تک مکمل طلوع نہیں ہوئی مگر دہشت گردی اور ظلم کے بعد بھی یہ ممکن ہے لیکن اس کے لیے اپنے کردار، شعور اور اجتماعی ذمہ داری کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف ہتھیار یا قوانین سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ایک اخلاقی، سماجی اور شعوری جنگ ہے۔ ہر قدم، ہر فیصلہ اور ہر عمل اس جنگ کو کامیابی کے قریب کر سکتا ہے۔ کیونکہ ظلمت کتنی بھی گہری ہو انسان کی بیداری اسے ختم کر سکتی ہے۔ ہمیں اپنے اداروں اور معاشرتی شعور کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف آج کے ان اندھیروں کو ختم کریں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن، پُر امن اور محفوظ ماحول فراہم کریں۔