اسلام آباد : پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد کی نئی قسط ملنے کا امکان ہے، جس کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کا انتظامی بورڈ آج اجلاس کرے گا۔ اس امدادی پیکج میں سے ایک ارب ڈالر قدرتی آفات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے مختص کیے جائیں گے، جبکہ 20 کروڑ ڈالر پاکستان کی معاشی اصلاحات اور موسمیاتی اقدامات کی حمایت میں دئیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں پاکستان کی مالی پوزیشن، مالیاتی پالیسی اور موسمیاتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کی تعریف کی ہے، جسے آئی ایم ایف نے جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرط کو پورا کرتے ہوئے کرپشن اور گورننس سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے، جس کے بعد امدادی قسط کی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔
پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ملک کو عالمی مالیاتی اداروں اور دو طرفہ ڈونرز جیسے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ تاہم، 2022 کے بعد پاکستان نے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور افراط زر میں کمی جیسے اہم اقدامات کیے ہیں، جس سے معیشت کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔