Wed, September 16, 2026

عمران خان کیلئے آخری راستہ

عمران خان کیلئے آخری راستہ

وہ زمانہ لد گیا جب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ عمران خان سیاسی نا پختگی اور لا ابالی حرکتوں کی وجہ سے آج تک اقتدار سے اپنی بے دخلی کی حقیقت کو سمجھ سکے نہ اسے قبول کر سکے۔ سیاسی تربیت نہ ہونے کے وجہ سے وہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے کردار، ذمہ داریوں اور اہمیت کو سرے سے نہیں جانتے تھے۔اسی لیے وہ حکومت میں کامیاب ہو سکے نہ اپوزیشن میں۔ سیاست میں تدبر،تحمل اور معاملہ فہمی کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے لیکن انہی خوبیوں سے وہ مکمل طور پر عاری تھے۔اسی وجہ سے اکتوبر 2011ء میں پی ٹی آئی کی لاہور میں ہونے والی اٹھان سے لیکر آج تک عمران خان نے ملک اور قوم دونوں کو گہری آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
 سچ تو یہ ہے کہ پاکستان سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، بد اعتمادی، ادارہ جاتی تناؤ، دہشت گردی اور علاقائی چیلنجز سے کبھی نکل ہی نہیں سکا۔اس صورتحال میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوںمسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف میں سیاسی مفاہمت نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ قومی بقا کی ضمانت بھی ہے۔
 زیرک سیاست دان ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی ایجنڈا اپنائیں تو اعلیٰ ترین نتائج سامنے آتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا: ’’راستہ چاہتے ہو تو سیاسی مخالف کے ساتھ بیٹھ کر بات کرو، تبھی وہ تمہارا شریکِ سفر بنے گا۔ پاکستان کے حالات اس قول کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ عمران خان کو ملک اور خود کو گرداب سے نکالنے کیلئے بہرحال اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ہی بات کرنا پڑے گی۔انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حماقت اور بہادری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔معاملہ فہم سیاستدان مد مقابل سیاستدانوں کے ساتھ بات چیت سے ہی گنجلگ مسائل حل کرتے اور ناممکنات میں سے راستے نکالتے ہیں۔پارلیمان کے اقتداری اور اختلافی بنچوں پر بیٹھے متحارب ممبران اپنی تنخواہوں،فنڈز اور مراعات سے متعلق معاملات کو متفقہ طور پر آن کی آن میں بلا اعتراض شرف قبولیت بخش دیتے ہیں جبکہ یہی سیاستدان عوامی مفادات کے معاملات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ان کو رد کر دیتے ہیں۔
پاکستان کی منقسم اور منہدم سیاست ذاتی تنازعات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ ملک میں مسلسل سیاسی بے یقینی نے معاشی اور معاشرتی اعتماد مجروح کر کے رکھ دیا۔ اسی ماحول کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کار ڈر گئے، قومی نوعیت کی پالیسیوں میں تسلسل ختم ہوا، اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کمزور پڑتی چلی گئی۔ اگر بڑی سیاسی جماعتیں مشترکہ قومی ایجنڈے پر اکٹھی ہو جائیں تو قومی پالیسیوں میں تسلسل پیدا ہوگا، معیشت کو استحکام ملے گا اور ریاست کا مجموعی نظم بھی بہتر ہوتا جائے گا۔
سیاسی جماعتیں تدبر سے ہی ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتی ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر ایک ایسا اقتصادی و سیاسی میثاق سامنے آنا چاہیے جس پر تینوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف متفق ہوں۔ایسا اقدام سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے گا کہ ملک کی معاشی سمت حکومتوں کے آنے جانے سے تبدیل نہیں ہوگی۔ اس میں ٹیکس اصلاحات،طویل المدتی توانائی پالیسی،زرعی و صنعتی ترقی کا خاکہ اور ڈیجیٹل معیشت کا روڈ میپ شامل ہونا چاہیے۔ترکی، سنگاپور،جنوبی کوریا،ملائیشیا اور چین نے اسی تسلسل کی بنیاد پر شاندار اور حیران کن معاشی ترقی کی۔ ہمارے سیاست دان یہ بتانے کو قطعا تیار نہیں کہ پاکستان ان ممالک جیسی پائیدار ترقی کی منزل کیوں نہیں پا سکا؟
پاکستان میں دہشت گردی اور علاقائی بد امنی کی صورتحال ایسی ہے کہ کوئی ایک جماعت یا ایک حکومت اسے حل نہیں کر سکی۔ ایسا ممکن ہوتا تو کبھی کا ہو چکا ہوتا۔اس مقصد کے حصول کیلئے ایک ایسا مشترک پارلیمانی سلامتی فورم ضروری ہے جہاں پی ایم ایل ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کی نمائندگی ہو۔ تعمیر وطن کیلئے تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک اور معاشرہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ، قومی معاشی اور دفاعی پالیسیوں کا تسلسل، اداروں کی نگرانی میں شفافیت اور قومی سلامتی کے فیصلوں میں ہم آہنگی کے فیصلے کیے جائیں تو ملک کو بے انتہا فائدہ ہو گا۔
دہشت گردی، غربت، بیماری، بیروزگاری اور پسماندگی کا خاتمہ مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی دانش سے ہی ممکن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف متحدہ قومی سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جانا ضروری ہے۔ قومی مفاد کے تمام معاملات پر سیاسی تقسیم دہشت گردی کو پروان چڑھاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا متفقہ قومی بیانیہ ہی دہشت گردوں اور دیگر علتوں کو شکست دے سکتا ہے۔ دہشت گردی سے نبردآزما سکیورٹی فورسز کی بھرپور حمایت یقینی بنائی جائے۔ یہ اقدامات انتہا پسندی کا بیانیہ کمزور کریں گے۔ عمران خان انہی حقیقتوں کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تعمیری کردار ادا کریں۔
تینوں بڑی جماعتیں مل کر ایسا پروگرام بنا سکتی ہیں جس میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خصوصی پیکیج، بنیادی تعلیم کی فراہمی، بجلی اور گیس کے بلوں میں نمایاں چھوٹ، فنی تربیت، خواتین کی معاشی شرکت اور بے روزگار افراد کے لیے خود کفالت سے متعلق نہایت آسان بلا سود قرضہ کی سکیمیں شروع کر کے شاندار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ چین اور ویتنام نے اسی طرز کی پالیسیوں سے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا ہے۔ تو پھر پاکستانی سیاستدانوں کیلئے ملک و قوم کی خوشحالی اور استحکام سے متعلق مثبت نتائج حاصل کرنا کیوں ممکن نہیں؟
اقتدار سے نکلنے کے بعد سے آج تک عمران خان نے اپنی پونے چار سالہ کارکردگی کا کبھی حوالہ نہیں دیا کیونکہ ان کے دور میں کوئی ایسا کام۔ہوا ہی نہیں جسے وہ فخریہ طور پر عوام کے سامنے پیش کر سکتے۔اسی لیے انہوں نے ایوان سے سڑک پر آتے ہی فوج کو تختہ مشق بنا لیا تاکہ عوام اور میڈیا ان کی بد ترین کارکردگی ہر سوال ہی نہ اٹھائے اور فوج سے متعلق ان کے جھوٹے بیانیے میں الجھ کر رہ جائے۔  
قومی سیاست میں مفاہمت کمزوری نہیں بلکہ بصیرت کی علامت تصور ہوتی ہے۔ آج پاکستان کو سیاسی تقسیم اور جھگڑوں کی نہیں بلکہ سیاسی اتحاد اور یگانگت کی ضرورت ہے۔ ہر تعمیری معاملے پر اختلاف برائے اختلاف کرنے والی پی ٹی آئی کی قیادت معقولیت، عملیت پسندی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوج سے ٹکراؤ کی احمقانہ پالیسی ختم کرے اور اپنی بقا اور ملک و قوم کی ترقی و سالمیت کیلئے نادانشمندانہ رویہ ترک کرتے ہوئے غیر مشروط تعاون کا اعلان کرے تو ان کے لیے محفوظ راستہ شاید اب بھی ممکن ہو۔ عمران خان اپنی افتاد طبع، سیاسی نا تجربہ کاری، بے بصیرتی اور عاقبت نااندیشی کی وجہ سے اپنے آپ کو اور پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی منظر سے خود غیر متعلق کر چکے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان اب اپنی پارٹی کیلئے ایسا بوجھ بن چکے ہیں جسے اٹھانے کی پارٹی میں مزید سکت ہی نہیں رہی۔ اپنی بقا کیلئے پریشان پی ٹی آئی والوں نے اب عمران خان کو پارٹی سے خود مائنس نہ کیا تو ساری پارٹی ہی مائنس ہو جائے گی۔ الٹی گنتی شروع ہو چکی۔ اب عمران خان کیلئے سیاسی کنارہ کشی اور معافی تلافی ہی آخری راستہ ہے۔

ٹیگز: