Wed, September 16, 2026

عمران خان 9 مئی کی کس بات پر معافی مانگیں؟ علیمہ خان کا دو ٹوک مؤقف

عمران خان 9 مئی کی کس بات پر معافی مانگیں؟ علیمہ خان کا دو ٹوک مؤقف

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے 9 مئی کے واقعات پر معافی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے آخر کس بات پر معافی مانگنے کا تقاضا کیا جا رہا ہے؟

اپنے بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا مؤقف واضح اور دو ٹوک ہے، وہ ہمیشہ آئین، قانون اور عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی ڈیل کا حصہ نہیں بنے اور نہ ہی بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات سے توجہ ہٹا کر اصل معاملہ — 26ویں آئینی ترمیم — سے نظریں چرائی جا رہی ہیں۔ علیمہ کے مطابق یہ ترمیم مسلم لیگ ن کی جانب سے لائی گئی، جس کا مقصد عدلیہ کو ایگزیکٹو کے تابع کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے آئینی اداروں کو کمزور کیا گیا۔

علیمہ خان نے عدلیہ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں لگ ہی نہیں رہے۔ ان کے بقول انصاف صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ججز آزادی سے کام کریں اور دباؤ سے آزاد فیصلے دیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ارادہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں انہیں منتقل کر دی جائیں، جو کہ آئین و جمہوریت کے خلاف ہوگا۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی غیر قانونی مطالبے کو قبول نہیں کرے گی۔

ٹیگز: