خیبر پختونخوا کے مسائل پوری قوم جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ذاتی مفادات سب سے بڑھ کر ہے ، صوبے کے عوام چاہے بھوکے مر جائیں۔ یہی پالیسی پوری تحریک انصاف کی دکھائی دیتی ہے جہاں کے عوام اچھے اور معیاری منصوبوں سے محروم ہیں ، تعلیم اور روزگار کے مواقع محدود ہیں جبکہ ترقی میں یہ صوبہ سندھ اور پنجاب سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اگر اس کے محرکات کا جائزہ لیں تو یہی عنصر واضح ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی کام سے زیادہ شور کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ صوبے کے عوام چاہے بے حال ہوں مگر یہ بات طے ہے کہ ان کی پالیسی میں صرف ایک ہی شخص کی سپورٹ شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں ہر نیا دم عوام کی پریشانی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں غیر قانونی سگریٹ و تمباکو کا نیٹ ورک گو کہ بہت عرصے سے چل رہا ہے مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی پشت پناہی کی بدولت غیر قانونی سگریٹس بنانے کی فیکٹریزبڑھتی چلی جارہی ہیں۔ ایف بی آر نے ایک اور فیکٹری کی مشینری ضبط کر لی ہے جس سے ثابت ہوا کہ سیاسی اثر رسوخ منشیات کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ پانچ دسمبر کو مردان میں ایف بی آر نے غیر قانونی تمباکو تیار کرنے والی فیکٹری کی مشینری ضبط کرنے کے بعد اسے سیل کر دیا۔ آر ٹی او پشاور کی ٹیم نے چیف کمشنر کی نگرانی میں مردان میں یونیورسل ٹوبیکو کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خفیہ پلانٹ پر کارروائی کی۔ یہ کمپنی خفیہ طور پر کٹ تمباکو تیار کر رہی تھی، جو غیر قانونی سگریٹ سازی میں استعمال ہوتا ہے۔یونیورسل ٹوبیکو کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کیفے اور رینجر جیسے معروف برانڈز بھی تیار کرتی ہے۔ ضبط کی گئی مشینری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 6,000–7,000 کلوگرام تھی، جس سے تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے یومیہ آمدنی ہوتی ہے۔آر ٹی او پشاور نے بغیر کسی دباؤ کے مشینری ضبط کی اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ یہ اقدام قانون کی بالادستی اور قومی محصولات کے تحفظ کے لیے ایف بی آر کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی سگریٹس بنانے کا سلسلہ نیا نہیں۔ خیبرپختونخوا میں سگریٹ ساز اور تمباکو کا کاروبار کرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور یہ لوگ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مردان میں مسعود ویلفیئر ٹرسٹ المعروف مسعود سنز کا تعلق یونیورسل ٹوبیکو کمپنی، سلیم سگریٹ انڈسٹریز، ملت ٹوبیکو اور مارکور ٹوبیکو سے ہے۔ سعد رحمان جو سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور حاجی نسیم رحمان کا قریبی رشتہ دار ہے ، اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہی سیاسی پشت پناہی ان کمپنیوں کو برسوں تک غیر قانونی پلانٹ بلا خوف و خطر چلانے کی اجازت دیتی رہی۔اسی طرح متعدد کمپنیاں بھی کام کرتی رہی ہیں جن کے روابط تحریکِ انصاف کے رہنماؤں سے ہیں۔یہ کمپنیاں ٹیکس چوری کے ذریعے بھاری منافع کماتی ہیں۔ ٹیکس سے بچنے کے لیے ملاکنڈ اور دیگر علاقوں میں فیکٹریاں قائم کی گئی ہیں، جہاں ٹیکس اور کسٹم کے قوانین لاگو ہوتے ہیں نہ نافذ۔ سیاسی سرپرستی کے باعث یہ غیر قانونی سرگرمیاں طویل عرصے تک جاری رہیں۔اہم ناموں میں رکن قومی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی اور ان کا خاندان شامل بتائے جاتے ہیں، جو ریڈ اینڈ وائٹ اور کیش جیسے برانڈز تیار کرتے ہیں۔ یہ برانڈز افغانستان اور دریائے سندھ کے راستے پنجاب میں سمگل کیے جاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر عاطف خان بھی اس گروپ سے منسلک بتائے جاتے ہیں، جبکہ اسد قیصر بھی سگریٹ و تمباکو کی غیر قانونی ڈیلز میں حصہ لیتے رہے ہیں۔مردان کے سینیٹر دلاور خان متعدد فیکٹریوں کے مالک ہیں، جبکہ حاجی نسیم الرحمان اور ان کے بیٹے فیصل نسیم (تحریک انصاف کے سینیٹر) بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ فیکٹریوں کی اکثریت صوابی، مردان، سخاکوٹ، درگئی اور نوشہرہ میں قائم ہے۔یہ سیاسی نیٹ ورک اربوں روپے کی غیر قانونی آمدنی سوشل میڈیا مہمات میں استعمال کرتا ہے، جہاں بھاری تنخواہوں پر ٹیمیں عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کرنے کا کام کرتی ہیں۔ سگریٹ سازی کی لاگت انتہائی کم ہوتی ہے، جبکہ مارکیٹ میں قیمت ٹیکسوں کی وجہ سے زیادہ بنتی ہے۔ ٹیکس چوری کی صورت میں یہ کاروبار بے پناہ منافع دیتا ہے، اور پچھلے دس برسوں میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران یہ سلسلہ فروغ پاتا رہا۔مزید برآں، 2024–25 کے بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا، جس کا فائدہ بھی انہی گروپس کو پہنچتا رہا۔وزیرِاعظم شہبازشریف کی ہدایات پر ملک بھر میں GLT یونٹس پر 120 پاکستان رینجرز تعینات کیے گئے، جبکہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت خصوصی مانیٹر بھی مقرر کیے گئے تاکہ قانونی پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔