پچھلی چار اقساط میں، میں نے صہیونیت کی مبادیات کے حوالے سے تفصیل سے لکھا۔ میرا مقصد یہودی مذہبی مباحث کا تنقیدی جائزہ پیش کرنا نہیں تھا۔ نہ ہی میں نے کسی خاص مذہبی نقطہ نظر کے تحت اس موضوع کو پیش کیا۔ بل کہ میرا مقدمہ ہی یہ تھا کہ ہم نے صیہونیت کو صرف مذہبی تاویلوں تک محدود سمجھا ہوا ہے اور اسے یہودیوں کے مذہبی ماخذات سے جوڑ کر تقابل ادیان کی بحث سے اسے غلط ثابت کر کے کام ختم سمجھتے ہیں۔ جب کہ صیہونیت صرف مذہبی نظریہ نہیں ہے نہ ہی کسی ایک مذہب کے ماننے والے اس نظام کا حصہ ہیں۔ میں نے کوشش کی کہ مختصراً یہ بتا سکوں کہ بہت سے ادیان کے پیروکاروں سے لے کر لا دین افراد تک صیہونیت کا حصہ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صیہونیت کا ظہور انسانوں کے حلیوں، ان کی عبادات اور رسومات سے براہ تعلق نہیں رکھتا لیکن انسانی آبادیوں کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظاموں سے براہ تعلق رکھتا ہے۔ ہم جب بھی مذہب کا تعارف پیش کرتے ہیں اور مذہب کو صہیونیت کے مد مقابل رکھتے ہیں تو اپنے اخروی عقائد، قیامت کے تصورات، عبادات، وضع قطع اور رسومات کی بحث چھیڑ بیٹھتے ہیں اور پھر اپنی تاریخ اور مذہبی کتب سے یہودیوں کو مذہبی طور پر غلط ثابت کرنے لگتے ہیں۔
میرے خیال یہ الگ میدان ہے۔ اس موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے بہت سی کتب دیکھیں۔ بعض مغربی مصنفین کا میں نے گزشتہ اقسام میں ذکر بھی کیا اور ان کی آرا پیش کیں۔ میری نظر سے صیہونیت کے عنوان سے مشرقی مصنفین کی جو کتب گزریں ان میں زیادہ تر یہی مذہبی مباحث پیش کرتے ہیں جو بالکل ایسے ہی پیش کیے گئے ہیں جیسے ہمارے علما مسالک کی بحث میں کرتے آئے ہیں۔ یعنی ان کتب میں مد مقابل کو جہنمی ثابت کرنا مقصود خاص ہوتا ہے اور خود کو چنیدہ بندوں میں تصور کرنا فرض عین۔ جب کہ میری رائے میں یہاں یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ کیوں کہ صیہونیت کے نظاموں کی تشکیل و ارتقا میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ اور بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کا حصہ رہے ہیں۔
یہی غلطی صیہونیت کو تاریخی اور سائنسی انداز سے ڈسکس کرنے والے کالم نگار اور مفکرین بھی کرتے آئے ہیں۔ وہ عام طور پر انیسویں اور بیسویں صدی میں یہودی آبادیوں کی نقل و حرکت اور ان کے مذہبی متشدد رویوں کے تحت پروان چڑھنے والی تحریک کو صیہونیت کا کل سرمایہ سمجھتے ہیں اور جنگ عظیم کے بعد ان کی مصلحت پسندی اور مادی ترقی کو اس کا بڑا سبب بتاتے ہیں۔
یہ سادہ نظریہ اس لیے اب قابل قبول نہیں رہا کیوں کہ آج کی جدید دنیا میں آپ کو واضح شواہد ملتے ہیں کہ صرف یہودی صیہونی نظام کو نہ تو چلا سکتے ہیں اور نہ صرف انھی کے مفادات اس سے وابستہ ہیں۔ میں نے گزارش کی تھی کہ یہ ہر اول دستہ ہیں اور ان کی زمین ایک مورچہ ہے۔ میں نے دنیا کی کچھ ہڈن سوسائٹیز کا ذکر کیا تھا۔ ایسی سوسائٹیز جن کے بارے میں آپ عام طور پر نہیں جان سکتے۔ یہ نہ کسی پبلی سٹی کا حصہ ہوتی ہیں اور نہ کسی جنگ کا۔ ان کی دلچسپی نظام سے ہوتی ہے۔ اور ان نظاموں کی بقا کے لیے یہ تمام مورچوں کو استعمال کرتی ہیں۔ دنیا پر کئی صدیوں کی شہنشاہی کے خواب دیکھنے کے بعد یہ اب دیگر سیاروں پر زندگی بسر کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان میں سے اکثر ہمیشہ زندہ رہنے یا پھر دوبارہ زندہ کیے جانے کے سائنسی سسٹم پر بھی گزشتہ ایک صدی سے کام کراتے آ رہے ہیں۔ میں نے ان ٹیکنالوجیز کا بھی ذکر کیا تھا جو ان تمام امور کے لیے دریافت کی گئیں۔
میرا مقدمہ یہ ہے کہ صیہونیت کی اصطلاح کو صرف یہودیوں کے مذہبی رد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمیں ان نظاموں پر بات کرنی چاہیے جو صیہونیت کا اصل وجود بناتے ہیں اور پھر بغور دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے کون کون سے طبقات اور گروہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان نظاموں کو تقویت دیتے ہیں اور ان کا حصہ ہیں۔ اگر آپ صہیونی سیاسی نظام، صیہونی معاشی نظام اور اسی طرح صیہونی معاشرتی نظام کے بارے میں نہیں جانتے تو آپ کیسے فرق کر سکتے ہیں کہ آپ خود بھی ان کا شکار نہیں ہو چکے؟
میں نے یہی نقطہ اٹھایا ہے کہ صیہونیت نے تمام مذاہب کی ایسی تشریح کیوں عام کر دی جو لوگوں کو عبادات اور رسومات کے لیے بے حد جذباتی اور مشتعل کر دیتی ہے لیکن نظام کے حوالے سے مکمل سیکولر بنا دیتی ہے۔۔در اصل یہ صیہونیت کا کارنامہ ہے۔ ہمارے مذہبی لوگ خوشی خوشی صہیونی مالیاتی نظام میں زندگی بسر کرتے ہیں، اور بہت سے نیک اور پرہیز گار تو کئی ٹولز کے ساتھ لفظ "اسلامی" لگا کر تطبیق پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح صیہونی سیاسی نظام میں بھی نورانی دل کے ساتھ گزارا کرتے رہیں گے، آپ انھیں بادشاہتوں، آمریتوں اور موروثی شہنشاہتوں کا ہمنوا پائیں گے۔ یہ ہر طرح کے معاشرتی نظام میں بھی مطمئن اور نیکیوں سے مالا مال رہ رہے ہوں گے۔ لیکن ظاہری حلیے میں فرق ، عبادات اور رسومات کے اختلاف اور تاریخی تنازعات پر شدید جذباتی اور مشتعل ہوں گے۔یہ محیر العقول موضوعات پر سائنسی استدلال کرنے میں زندگی بسر کر دیں گے۔ اسی نقطے کو علامہ اقبال نے اپنی نظم "ابلیس کی مجلس شوریٰ" میں بیان کیا۔ یہ شیطان کی خواہش ہے۔
ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے
یہ وہ کام ہے جو صیہونیت نے کر دکھایا۔ یہ زبردست ترکیب یہودی نہیں بل کہ غیر یہودی صیہونیوں نے لانچ کی تھی اور کم و بیش سارے ادیان سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر آزمائی گئی۔
میں کوشش کروں گا کہ کسی اور مقام پر اپنا مکمل مقالہ پیش کر سکوں۔