Wed, September 16, 2026

صیہونیت کی مبادیات

صیہونیت کی مبادیات

نظام کے بہت سارے کمپوننٹس ہوتے ہیں۔ کوئی بھی نظام جب تک لوگوں کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی معاملات کو مخاطب نہ کرے وہ نظام نا مکمل ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسا نظام جو ان میں سے کسی ایک پہلو پر بھی براہ راست گرفت نہ رکھتا ہو وہ مضبوط نظام تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی اگر کوئی شخص یا گروہ کوئی نیا نظام متعارف کرانا چاہتا ہے تو اسے انسانی آبادی کے سیاسی، سماجی، معاشی ،معاشرتی اور مذہبی مسائل کو سمجھنا ہو گا۔ صیہونی کمپلکس کے موجدین نے بھی دنیا میں پائے جانے والے تمام نظاموں کا بغور جائزہ لیا اور ان میں موجود مسائل پر غور کیا۔ پھر صیہونی نظام کے فروغ کے لیے کچھ اہم نکات تیار کیے گئے۔ ان میں پہلا اور اہم نکتہ یہ تھا کہ دنیا کے ہر نظام میں پائی جانے والے کمی کو اجاگر کیا جائے۔ اور جگہ اور آبادی کی مناسبت سے اس نقص کا اتنا پروپیگنڈا کیا جائے کہ وہ نظام کی غالب صورت بن کر سامنے آئے۔ مثلاً سوشلزم مذہب مخالف ہے۔ ہمارے لوگوں سے آپ آج بھی پوچھیں گے تو وہ یقیناً اشتراکی نظامِ معیشت کے بارے میں بھی صرف یہ ایک بات ضرور جانتے ہوں گے کہ یہ مذہب کو نہیں مانتا۔ دنیا کے تمام مذہبی معاشروں کو یہی ایک پہلو ازبر کرا دیا گیا۔ یعنی کیپٹلزم تو جیسے مذہب کا حفاظتی ستون ہے! دوسری جانب روشن خیالی کے زیر اثر پروان چڑھنے والے ممالک کو یہ یقین دلوا دیا گیا کہ سوشلزم دولت مند افراد کو قبول نہیں کرتا۔ یہ مساوات کا نظام ہے جہاں زندگی کی کوئی لگژری دستیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ علاقوں کے اعتبار سے صرف مذکورہ نقائص کی ترتیب کی تبدیل کر دیں تو سوشلزم کا تعارف ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ یعنی غریب، تھرڈ ورلڈ ممالک کو یہ بتایا جاتا کہ سوشلزم لگژری کا خاتمہ چاہتا اور مساوات کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل کا خواہاں ہے۔ جب کہ مغربی ممالک کو یہ بتایا جاتا کہ سوشلزم مذہب مخالف ہے۔ یہ دو مختلف باتیں شاید ان دونوں طرح کے ممالک کے لیے پر کشش ہوتیں۔
صیہونی کمپلیکس کے لیے ترقی پذیر ممالک (جہاں سب سے زیادہ غلام پیدا کیے جا سکتے ہیں) میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہب بن سکتا ہے۔ مذہب کا بنیادی تصور ہی اصلاح کا بنتا ہے۔ دنیا کی مادی تاریخ میں مصلحین نے سیاسی استعمار کا خاتمہ کیا، معاشی مساوات کو یقینی بنایا اور معاشرے کی طبقاتی کشمکش کو ختم کیا۔ معاشی اور معاشرتی مساوات کے قیام کے بغیر انسانی آبادی میں قوانین کا اطلاق ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ جہاں بھی عدم مساوات پیدا ہو گی وہاں طاقت کا قانون راج کرے گا۔ اس حساب سے مذاہب کے لیے ایک دلچسپ فارمولا تیار کیا گیا۔ فارمولا یہ تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب کو سیکولر کر دیا جائے۔ صرف یہی ایک فارمولا تمام ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے مذاہب کو قابو کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس فارمولے کے تحت دنیا کے تمام مذاہب کو ایسے سیکولر کیا گیا کہ وہ سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظام کے لیے بالکل غیر حساس اور سیکولر ہو جائیں اور عبادات میں یا تاریخی تصورات اور اساطیری معاملوں میں شدید تر ہو جائیں۔ مثلاً بھارت میں ایک ہندو آپ کو تاریخی تنازعات اور ضمنی ریاضتوں پر لڑتا بھڑتا نظر آئے گا لیکن اس کے مذہبی ماخذات میں معاشرے کی کیا تعبیر کی گئی ہے، اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی جیسا بھی سیاسی نظریہ لاگو کیا جائے، حکومت جیسی چاہے بنائی جائے، جس طریقے سے بھی حکمران بٹھائے جائیں سیاسی طور پر مذہبی طبقات کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ 
اسی طرح معاشی نظام جیسا بھی ہو، سرمایہ دارانہ نظام کیسی ہی شکل کیوں نہ اختیار کر لے، سودی نظام ترقی کرے، ارتکاز دولت کے نت نئے طریقے فروغ پاتے رہیں، پیدائش دولت اور تقسیمِ دولت کے جیسے بھی اصول و قواعد بنا دیئے جائیں ان سے مذہب کو کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔ با ایں ہمہ معاشرے کی جو بھی ترتیب ہو، امیر غریب کی خلیج بڑھتی رہے۔ جاگیر داریاں وجود پا رہی ہوں، معاشرے میں خالص طبقاتی نظام موجود ہو، لوگ ذات، پات، قبیلوں کی تفریق میں بٹے ہوں یا علاقوں، زبانوں اور پیشوں کے تعصب میں لت پت ہوں ! مذہب اس حوالے سے بھی غیر حساس ہو یا سیکولر ہو جائے۔ 
آپ غور کیجئے کہ ایک ہندو آپ کو گائے حلال کرنے کے حوالے سے انتہائی حساس نظر آئے گا۔ لیکن اس میں کسی بھی طرح کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی نظام کے حوالے سے کوئی مذہبی جذبات دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ اسلامی کہلائے جانے والے معاشروں میں بھی آپ کو صورت حال اس سے مختلف نہیں ملے گی۔ اس منصوبے میں اگلا اہم ایجنڈا یہ شامل کیا گیا کہ مذہبی افراد کی ذہن سازی ایسے کی جائے کہ یہ اخروی زندگی کے لیے دین کا انتخاب کریں اور دنیاوی زندگی کی مکمل اساس عقلیت پرستی یا کم از کم مادہ پرستی پر ہو پر ہو۔ آپ اپنے پورے معاشرتی ڈھانچے کا جائزہ لیجئے اور اپنے قرب و جوار میں اس کی چلتی پھرتی مثالیں دیکھیے۔ یہ تمام شواہد اتفاقاً معرض وجود میں نہیں آئے۔ دنیا کے بڑے بڑے خطوں کی معاشرتی اور معاشی حالت اتفاقاً ایسی نہیں ہوئی۔ یہ فارمولا نظاموں کے میدان میں کسی بھی طرح کے مذہبی بیانیے کو ختم کر دیتا ہے۔ چوں کہ دنیاوی زندگی کی اساس مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے لہٰذا اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کمیونٹی کا بیانیہ مضبوط ہو نہ ہو، مادی مفاد مضبوط کیا جائے چوں کہ کوئی بھی مزاحمت بیانیے کو جھٹلا سکتی ہے لیکن اس دنیا میں متعلقہ کمیونٹی کے مفاد کی قوت کو نہیں جھٹلا سکتی۔ (جاری ہے)

ٹیگز: