Wed, September 16, 2026

امریکا میں سوشل میڈیا پر فلسطین کے حق میں رائے دینا مہنگا پڑ گیا،متعدد غیر ملکی طلبہ ملک بدر

 امریکا میں سوشل میڈیا پر فلسطین کے حق میں رائے دینا مہنگا پڑ گیا،متعدد غیر ملکی طلبہ ملک بدر

امریکا :امریکا میں یہود مخالف سوشل میڈیا مواد رکھنے والوں کے لیے ویزا پالیسی سخت امریکی حکومت نے سوشل میڈیا پر یہود مخالف مواد شیئر کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے امیگریشن قوانین مزید سخت کر دیے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت ایسے افراد کو ویزے یا مستقل رہائش (گرین کارڈ) دینے سے انکار کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکی افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی سرگرمیاں دیکھی گئیں جو یہودی مخالف نظریات یا دہشت گرد تنظیموں—جیسے حماس، حزب اللہ، یا حوثی باغی—کی حمایت پر مبنی ہوں، انہیں امریکا آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

محکمے کی ترجمان کے مطابق، امریکا کی سرزمین ان افراد کے لیے نہیں جو آزادی اظہار کے نام پر نفرت انگیزی یا دہشت گردی کی حمایت کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے مواد کو ویزا یا امیگریشن کی درخواستوں میں منفی عنصر سمجھا جائے گا۔

یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں کے تسلسل میں کیا گیا ہے، جن کے تحت حال ہی میں کئی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ اب تک تقریباً 300 افراد کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

بعض متاثرین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یہود مخالف نہیں، اور انہیں صرف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی نژاد طالب علم محمود خلیل کو ملک بدر کیے جانے کا واقعہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے، حالانکہ وہ امریکا میں قانونی رہائش رکھتے تھے۔

مزید برآں، امریکی حکومت نے کچھ معروف جامعات کو وفاقی فنڈز سے بھی محروم کر دیا ہے، یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ انہوں نے کیمپس میں ہونے والے غزہ سے متعلق مظاہروں میں پائی جانے والی مبینہ یہود دشمنی کے خلاف کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا

ٹیگز: