Wed, September 16, 2026

اِسلامی نظام کی تلاش

 اِسلامی نظام کی تلاش

اگر آپ کسی پاکستانی مسلمان سے پوچھیں گے کہ ملک میں کون سا نظام رائج ہونا چاہیے تو ننانوے فیصد لوگوں کا جواب ہوگا کہ اِسلامی نظام یا نظام مصطفیٰ یا دِین کا نظام۔ جو ایک فیصد لوگ باقی بچیں گے وہ ایک سوال کریں گے۔ وہی سوال آج ہمارا بھی ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ اِسلامی نظام کیا ہوتا ہے۔اگر آپ اْن ننانوے فیصد افراد سے یہ سوال کریں گے تو آپ کو مختلف جوابات ملیں گے۔ ملک کے اَندر عدالتی نظام اِسلام پر مبنی ہونا چاہیے۔ ملک میں اِسلامی سزائیں نافذ ہونی چاہئیں۔ سود کا نظام ختم ہوجانا چاہیے۔ نماز کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ جب نماز کا وقت آئے تو ہر ایک کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ نماز پڑھے۔ خلفائے راشدین کے وقت کا نظام قائم ہونا چاہیے وغیرہ۔
    یہ جوابات یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں میں خود بھی یہ کنفیوژن ہے کہ دراصل اِسلامی نظام یا نظام مصطفیٰ ہے کیا۔ لیکن یہ طے ہے کہ سب یہ چاہتے ہیں اَور اْن کا خیال ہے کہ جب وہ نظام رائج ہوجائے گا تو ہر طرف لوگ چین کی بنسی بجائیں گے۔ مہنگائی ختم ہوجائے گی۔ ہر طرف امن و امان ہوگا۔ چوری، ڈکیتی، زنا، شراب نوشی وغیرہ بھی ملک کو خیرباد کہہ دیں گے۔ 
لیکن کوئی بھی نظام ہوا میں معلق نہیں ہوتا۔ اْس کی جڑیں زمین میں ہی ہوتی ہیں۔ اگر اِسلامی سزائیں نافذ کردی جائیں یا عدالتی نظام اِسلام پر مبنی بنا دِیا جائے تو بھی اْس نظام کو چلانے کے لیے آسمان سے فرشتے نازِل نہیں ہوں گے۔ یہی لوگ اْس نظام کو بھی چلائیں گے۔ چنانچہ اگر بے اِیمانی، جھوٹ، فریب، دولت کا بے تحاشہ لالچ ، اقربہ پروری وغیرہ ہماری ہڈیوں میں اْترے ہوئے ہوں تو وہ سزائیں کون سنائے گا، کسے سنائے گا اَور کون اْن پر عمل کرے گا؟لوگ سمجھیں گے کہ اب قتل کی سزا موت ہوگی یا زنا کی سزا سو کوڑے ہوگی لیکن صرف غریب اَور کمزور شخص ہی یہ سزائیں پائے گا۔ طاقت ور، با اِختیار، دولت مند صاف بچ جائے گا کیونکہ جن لوگوں نے سزائیں سنانی ہیں یا دینی ہیں وہ بے اِیمانی کی دلدل میں گردن تک اْترے ہوئے ہیں۔ چنانچہ عام آدمی کا یہ خواب یا خیال کہ ہر طرف اَمن چین ہوگا شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ ہمارا ملک اْسی طرح چلتا رہے گا۔ 
سب سے پہلے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اِسلام زبردستی نافذ نہیں کیا جاسکتا اَور نہ ہی اْسے کیا جانا چاہیے۔ اِسلام پہلے اِنسان کے دِل میں اْترتا ہے۔ اْس کے اَندر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ یا پرہیزگاری پیدا کرتا ہے۔ اَن دیکھے خدا سے ڈرنا، اْس کی نافرمانی سے پرہیز کرنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنا، برائیوں سے اِس لیے دْور رہنا کیونکہ اْنہیں اللہ اَور اْس کے رسول نے بْرا بتایا ہے، اِس بات کا یقین رکھنا کہ مرنے کے بعد دوبارہ اْٹھایا جائے گا اَور اَپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہوگا تب ہی ممکن ہے جب اِنسان کا دِل اِس بات پر ٹھک جائے کہ میں نے ہر حال، ہر صورت میں اَپنے رب اَور رسول کی فرماں برداری کرنی ہے۔ اِس میں جو تکالیف بھی اْٹھانی پڑیں، جس لالچ کا بھی سامنا کرنے پڑے، جس خوف سے بھی نبردآزما ہونا ہو، میں کروں گا یا کروں گی لیکن نافرمانی سے حتی الامکان دور رہوں گا یا رہوں گی۔ جب یہ سوچ پیدا ہوگی تو وہ سزائیں یا نظام کوئی کام کرسکے گا۔ 
ہم دیکھتے ہیں قرآن کے نزول کے پہلے تیرہ سالوں میں کسی قسم کا کوئی قانونی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ صرف لوگوں کی تربیت کی گئی۔ اْنہیں اْس نہج پر لایا گیا کہ وہ اَپنا سب کچھ دِین پر قربان کردینے کے لیے تیار ہوگئے۔ چنانچہ ہجرت مدینہ کے وقت لوگوں نیاپنا سب کچھ، یہاں تک کہ رشتے دار بھی تج دیے اَور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نبھایا۔ ہمیں اْصولی طور پر اْس مرحلے سے آگے کی سوچ رکھنی چاہیے تھی۔ بدنصیبی سے ہم واپس زمانہ جاہلیت کی سوچ پر جاچکے ہیں۔ وہی خود غرضی، آپا دھاپی، دولت کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش، اِقتدار کی اَندھی دوڑ ہماری رگوں میں سماچکی ہے۔ ہمیں پھر سے اْسی طرح کی تربیت کی ضرورت ہے۔ ہم، کمپیوٹر کی زبان میں، ریسیٹ ہوکر پھر زیرو پر چلے گئے ہیں۔ ایک طویل اَور محنت طلب تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ 
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تربیت کون کرے گا؟ اَب کسی نبی نے تو آنا نہیں۔ اصولی طور پر علماء کو یہ کام کرنا چاہیے کیونکہ یہ اْن کی ذِمہ داری ہے۔ لیکن آپ اَپنے چاروں طرف دیکھیں، ہمارے زیادہ تر علماء بھی دولت کے لالچ میں مبتلا ہوکر اپنا فرض بھلاچکے ہیں۔ اْنہوں نے قوم کو بے کار کے مسائل میں ایسا اْلجھایا ہے کہ ہماری سوچ کرنے کے کاموں کی طرف جاتی ہی نہیں۔ ہم بدعت، کفر، شرک، اسلامی تارِیخ کے بھیانک پہلوؤں، گزشتہ اولیائے کرام کی جھوٹی سچی کرامات کے پھیر میں اَیسے آئے ہیں کہ ہمیں یہ بتانے والا کوئی نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن سے کیا چاہتا ہے۔ کیا وہ یہ چاہتا ہے کہ مومن دن میں پانچ نمازیں پڑھے، سال میں تیس روزے رکھے، زندگی میں ایک بار حج کرے اَور بار بار عمرے کرے اَور اْس کے بعد وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے؟ یا وہ یہ چاہتا ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ مومن ملاوٹ نہ کرے، جھوٹ نہ بولے، دوسروں کے ساتھ احسان کا سلوک کرے، نرم گفتار ہو، تواضع والا ہو، عجز وانکساری کے ساتھ زندگی بسر کرے، اپنا محبوب مال اللہ تعالیٰ کے بندوں پر خوشی خوشی خرچ کرے، کسی قسم کے دکھاوے کا کام نہ کرے، دولت کو صرف زندگی گزارنے کا ایک ذریعہ جانے نہ کہ اْس کے عشق میں گرفتار ہوجائے، شرم و حیاء کا پیکر ہو؟ یہ ساری خصوصیات آپ کو آج کل ایک فیصد پاکستانیوں میں بھی نظر نہیں آئیں گی۔ کسی ڈنڈے کے زور پر لوگوں کے اندر عجزو انکساری، احسان، تواضع پیدا نہیں کیے جاسکتے۔ یہ اِنسان نے خود ہی پیدا کرنے ہوتے ہیں۔ کیا کوئی ہمیں یہ بتا رہا ہے؟ کیا مسجد کا منبر لوگوں کو یہ بتاتا ہے کہ ٹریفک کے قوانین کا اِحترام کرنا فرض ہے، سڑکوں پر گندگی پھیلانا خلافِ اِسلام ہے؟ 
جب یہ سب نہیں ہورہا تو اِسلامی سزائیں کیا کرلیں گی؟ اْن کے نافذ ہونے سے کون سا ایسا چمتکار ہوجائے گا کہ لوگ اَندر سے اِیمان دار ہوجائیں گے؟ہماری اْمیدیں اَور توقعات غلط سمت میں لگ گئی ہیں یا لگا دی گئی ہیں۔ لوگوں کو ایک سبز باغ دکھایا گیا ہے کہ جونہی اِسلامی سزائیں نافذ ہوجائیں گی، ہر طرف سکون ہوجائے گا۔ لیکن اَیسا اْس وقت تک ہونا ممکن نہیں ہے جب تک ہم واقعی مومن نہ ہوجائیں۔ غیرمومنوں پر اِیمان والوں کی سزائیں نافذ کرنے سے سوائے پریشانی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ 
لہٰذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا نہ ہوں۔ جو کام ہمارے کرنے کے ہیں وہ ہم کریں گے تو ہی کچھ نتیجہ نکلے گا۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ چاہے تو راتوں رات لوگوں کے دِل بدل دے اَور سب پکے سچے مسلمان بن جائیں تو اَیسا قیامت تک نہیں ہوگا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت نہیں ہے۔ اگر اْس نے یہی کرنا ہوتا تو اِتنے اَنبیائے کرام بھیجنے اَور حق و باطل کے معرکے سرگرم کرنے کی اْسے کیا ضرورت تھی؟ ہم جس اِسلامی نظام کے خواہاں ہیں، اْسے سب سے پہلے اَپنی ذات پر لاگو کرنا ہوگا۔ جب مسلمانوں اکثریت یہ کرلے گی تو اِسلامی قوانین مسلمانوں کی ہٹ دھرم اقلیت کے لیے نافذ کیے جائیں گے۔

ٹیگز: