ڈونالڈ ٹرمپ جیسے بزنس مین کا امریکہ کا صدر بن جانا امریکی تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے اپنے پہلے دور حکومت میں وہ جو کچھ کرنا چاہتے تھے اور نہیں کر پائے اب وہ اس دفعہ سر انجام دینے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ان کا سب سے بڑا نعرہ "Making America Great Again" اب اتنا زیادہ دہرایا گیا ہے کہ اب میڈیا اس کو MAGA لکھنے لگا ہے لیکن عملی طور پر ایسے خدشات جنم لے چکے ہیں کہ الیکشن میں اس کی حمایت کرنے والی بہت سی نمایاں امریکی شخصیات نے ٹرمپ کے حالیہ معاشی فیصلوں سے اظہار لا تعلقی شروع کر دیا ہے بلکہ ٹرمپ کی حمایت سے دست کش ہو گئے ہیں مشہور امریکی کھرب پتی Bill Ackman جو ٹرمپ کے کل تک حمایتی تھے وہ اب اس کے مخالف ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے ٹیرف لاگو کرنے کے فیصلے کو Economic Nuclear War قرار دیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکی کاروباری دنیا پر موسم خزاں آچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ٹیرف فیصلوں سے ہونے والا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اس کے اثرات اور اصلاح احوال کے لیے مہینے یا سال نہیں بلکہ دہائیاں لگ جائیں گی۔
شروع میں جب ٹرمپ نے چائنا کی امپورٹ پر اضافی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تو پاکستان جیسے چھوٹے ممالک نے یہی سمجھا کہ یہ بڑی طاقتوں کی تجارتی جنگ ہے ہمیں اس سے کیا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس جنگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پاکستان کی معصومیت کا یہ حال ہے کہ ہم یہ سمجھتے رہ گئے کہ ان ٹیرف کا اطلاق ہمارے اوپر نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان نے شریف اللہ جیسا دہشت گرد پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے اور ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ٹیرف کے زلزلے کے جھٹکوں سے پاکستان محفوظ نہ رہ سکا۔ پاکستانی تاجر یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ چائنا پر 37 فیصد اضافی محصولات کے بعد پاکستانی تاجروں کو فائدہ ہو گا کہ چائنا والے آرڈر ان کو مل جائیں گے لیکن یہ ساری قیاس آرائیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب پاکستانی مصنوعات پر امریکہ داخلے پر 29 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا انڈیا پر یہ شرح 27 فیصد جبکہ بنگلہ دیش پر 37 فیصد ہے۔ اس طرح انڈیا کو اب بھی پاکستان پر 2 فیصد کی فوقیت حاصل ہے۔
عالمی تجارت کی منڈی میں زلزلے کی کیفیت ہے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کریش ہو چکی ہیں بنک دیوالیہ ہونے کے خطرے میں دو چار ہیں اور اس فیصلے سے پوری دنیا کساد بازاری کے خوف میں مبتلا ہے جس سے تیل کی قیمتیں نیچے آ گئی ہیں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ 58 ڈالر فی بیرول پٹرول فروخت ہو گا مگر پھر بھی تیل کی فروخت میں کمی آ جائے گی یہ 2021ء یعنی چار سال پرانی قیمت پر آ گیا ہے جب پوری دنیا کرونا کی وجہ سے فریز ہو گئی تھی۔
پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر جو کہ اپنی 80 فیصد پراڈکٹ امریکہ کو دے رہا ہے اور اس سے سالانہ6 ارب ڈالر کا ٹیکسٹائل ریونیو امریکہ سے حاصل کر رہا ہے وہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ جس سے پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا۔ حکومت پاکستان نے امریکا سے رابطہ کیا ہے کہ انہیں ٹیرف سے استثنیٰ دیا جائے ایک تجارتی وفد امریکہ روانہ ہو رہا ہے لیکن کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ ہمارے وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے ان کی بات ٹھیک ہے لیکن قیمتوں میں کمی کو کیسے اپنے حق میں استعمال کیا جائے اس بارے میں انہوں نے کوئی خاص لائحہ عمل نہیں بتایا۔ پاکستان اس عالمی کساد بازاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ہمارے پہلے ہی سنگین معاشی مسائل ہیں۔ 6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ جو امریکہ سے آتا ہے اگر وہ بند ہو گیا تو ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔
دوسری طرف امریکی معاشی ماہرین پریشان ہیں کہ نئے ٹیرف عائد ہونے سے امریکا کو وقتی فائدے کی بجائے نقصان ہو گا لیکن ٹرمپ جیسے ضدی اور کاروباری صدر کو اب تک قائل نہیں کیا جا سکا اور اس کا آئندہ بھی امکان کم ہے۔ دنیا ایک نئے معاشی تجربے سے گزر رہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے ٹیرف کے نفاذ سے جہاں پوری دنیا میں اشیائے صارفین مہنگی ہوں گی وہاں فائدہ تو کسی کو بھی نہیں ہو رہا لیکن ٹرمپ کا خیال ہے کہ اضافی ؔٹیرف کی رقم وہ اپنے عوام پر خرچ کریں گے۔ دنیا بھر میں نقصانات کا اندازہ اور اس کے نتائج تو کچھ عرصہ بعد ظاہر ہوں گے لیکن کساد بازاری اور دیوالیہ پن صاف نظر آ رہا ہے اور اس کے علاوہ مڈل ایسٹ اور یورپ میں جو جنگی ماحول بنا ہوا ہے اس میں مزید ابتری پوری دنیا کو چوتھی عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ا مریکی تھنک ٹینک اور اشرافیہ سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ امریکیوں نے کسی شخص کو وائٹ ہاؤس میں لا بٹھایا ہے۔ اس وقت دنیا میں جتنی معاشی اور کاروباری بے یقینی پائی جا رہی ہے یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے ۔ جب آپ بزنس مین کو سب سے بڑے ملک کا سب سے بڑا عہدہ دیں گے تو پھر دنیا میں نفع نقصان ہی سب سے بڑا پیمانہ قرار پائے گا۔