Wed, September 16, 2026

قبلہ اول کے آنسو!

قبلہ اول کے آنسو!

آج کا کالم تحریر کرنے کیلئے اپنا قلم اٹھایا تو خیالات منتشر تھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس موضوع کو تختۂ مشق بنایا جائے۔ کبھی خیال آیا کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام پر لکھوں لیکن پھر سوچا یہ وہی گھسا پٹا موضوع ہے اور ہمارے لکھنے سے سیاسی زعماء نے کون سا پاکستانیت پر متحد ہوجانا ہے۔ پھر خیال آیا کہ مہنگائی کے ہاتھوں مجبور عوام کا نوحہ لکھوں لیکن پھر ذہن میں آیا کہ حکومت تو دعوے کر رہی ہے کہ مہنگائی نو سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے لہٰذا اس بات کا فیصلہ اپنے قارئین پر چھوڑدیتا ہوں کہ وہ خود بہترین فیصلہ کرنیوالے ہیں ۔ ابھی مزید کوئی خیال ذہن کے کسی گوشہ میں آتا کہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز سامنے آ گئیں جنہوں نے مجھے کسی اور موضوع کی طرف مزید متوجہ ہی نہ ہونے دیا۔ یہ انبیاء کی سرزمین فلسطین پر اسرائیلی بمباری کی ویڈیوز تھیں جن میں معصوم بچے تک شہید ہو رہے تھے۔ میرا سر ندامت سے جھک گیا اور میں نے بحیثیت مسلمان سوچا کہ تمہارے دل میں کسی اور موضوع پر لکھنے کا خیال بھی کیسے آرہا تھا کیونکہ نبی کریمؐ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ امت مسلمہ ایک جسدِ واحد کی طرح ہے جس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ میں اپنے آپ سے ہم کلام ہوا کہ تُو اور تو کچھ نہیں کر سکتا کم ازکم اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کیلئے مسلسل آواز بلند کر‘ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر‘ اس سے کوئی نتیجہ تو شاید برآمد نہ ہو لیکن روزِ محشر تُو اللہ اور اس کے رسولؐ کو یہ جواب تو دے سکے گا کہ تُو نے اپنے قلم کے ذریعے حق بات کی تھی۔آج انبیاء کی سرزمین فلسطین‘ مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس‘ مقامات مقدسہ مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصغریٰ یہودیوں کے زیر تسلط ہیں۔ اس میں خود مسلمانوں کی غلطیوں‘ کوتاہیوں‘ سازشوں‘ انتشار اور آپسی سر پھٹول کا کتنا دخل ہے یہ اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے‘ ظاہر ہے اس کو کریدنے سے سوائے مایوسی، محرومی اور تلخیوں کے کچھ حاصل نہیں ہوگا تاہم اس کو اس نقطہ نظر سے ضرور دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا دوبارہ ارتکاب نہ ہو۔ابھی مزید خیالات مجتمع ہو رہے تھے کہ مجھے 1969ء یاد آگیا ۔ یہ سال عالم اسلام کیلئے غم و اندوہ کا سال بھی تھا اور فخر و انبساط کا بھی۔ غم کا سال اس لیے کہ صہیونیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول یعنی مسجد اقصیٰ کو آگ لگا کر پوری ملت اسلامیہ پرالم کا پہاڑ گرا دیا تھا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ صہیونیوں نے مسجد اقصیٰ کو کھلم کھلا نقصان پہنچانے کی جسارت کی تھی۔ قبلہ اول کو نذر آتش کرنے کی ناپاک سازش کے اس واقعہ نے پوری دنیا میں مسلمانوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑادی۔ صہیونیوں کے اس شر سے سب سے اہم خیر یہ برآمد ہوا کہ مسلمانوں کے اندر متحد ہونے اور باہم مل کر خطرات کا مقابلہ کرنے کا احساس شدت سے بیدار ہو گیا۔ چنانچہ اسلامی دارالحکومتوں میں سفارتی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور مراکش کے شہر رباط میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد طے پایا۔ یہ 25 ستمبر 1969ء کا تاریخ ساز دن تھا جب اسلامی ممالک کے سربراہان رباط میں جمع ہوئے اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم او آئی سی کی بنیاد رکھی گئی ۔سچ پوچھیے تو قبلہ اول کے آنسوؤں نے مسلمانوں کو متحد ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ او آئی سی کے قیام کی خبراُس وقت صہیونیوں پر بجلی بن کر گری انہوں نے محسوس کیا کہ اگر مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تو مشرق وسطیٰ میں ان کا ناجائز وجود سخت خطرے میں پڑ جائے گا چنانچہ انہوں نے پہلے سے بڑھ کر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ آج جب ہم 56 سال بعد او آئی سی پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنظیم جس چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے قائم کی گئی تھی وہ اب بھی پوری سنگینی کے ساتھ نہ صرف موجود ہے بلکہ پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کی غیرت کو للکار رہا ہے۔56 سال پہلے صہیونیوں نے صرف مسجد اقصیٰ کو نذر اتش کیا تھا آج وہ پورے فلسطین میں آگ اور خون کا بھیانک کھیل کھیل رہے ہیں۔ 56 سال پہلے وہ ڈرے ڈرے تھے‘ انہیں یہ خوف تھا کہ وہ چاروں اطراف سے عربوں میں گرے ہوئے ہیں اگر یہ لوگ ان پر چڑھ دوڑیں تو ان کا کام تمام کر سکتے ہیں لیکن 56 سال کی محاذآرائی کے دوران انہیں اندازہ ہوا کہ یہ محض ان کی خام خیالی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ ایک تنظیم کی سطح پر بظاہر متحد ہونے کے باوجود بکھری ہوئی ہے‘ ان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں ۔یہ اپنی اجتماعی قوت پر بھروسہ کرنے کی بجائے دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ کتنے شرم اور ڈوب مرنے کی بات ہے کہ فلسطین جل رہا ہے‘ کشمیر خون میں ڈوبا ہوا ہے لیکن او آئی سی صرف قرارداد منظور کرنے کے سوا کوئی عملی قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف کم از کم اقتصادی بائیکاٹ کا حربہ تو ضرور آزما سکتی ہے ۔ اگر او آئی سی بھارت اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی بائیکاٹ پر عمل کر دکھائے تو دشمن کی اکڑی ہوئی گردن خم ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہے؟ سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ اس کیلئے جرأت ایمانی سے سرشار قیادت کی ضرورت ہے۔ ایسی قیادت ہی اس تنظیم کو صحیح خطوط پر گامزن اور عالم اسلام کو قعرِ مذلت سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مسجد اقصیٰ کی بدولت آج سے56 سال پہلے او آئی سی کو بنیاد رکھی گئی اور مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔آج پھر مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی غیرت کو پکار رہی ہے‘ ان کی اسلامی حمیت کو آواز دے رہی ہے۔ آج قبلہ اول کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین حالات کا سامنا ہے‘ او آئی سی نے اپنے زندہ رہنے کا ثبوت نہ دیا تو دشمن اس کے برائے نام وجود کو بھی برداشت نہیں کریں گے ‘ان کی بقا متحد ہونے اور او آئی سی کی صورت میں اپنے اتحاد کا پوری قوت سے مظاہرہ کرنے میں ہے صرف اسی صورت میں امت مسلمہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو خاک میں ملا سکتی ہے۔ اس مایوس کن صورتحال میں امید کی ایک مضبوط کرن خود فلسطینی مسلمان ہیں جو اپنی سر زمین کی حفاظت اور بیت المقدس کی بازیابی کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ قبلہ اول کے آنسوئوں نے 56برس قبل امت مسلمہ کو متحد کر دیا تھا اب وہ پھررو رہی ہے‘ کون ہے جو اس کی فریاد سنے؟۔

ٹیگز: